ویت نام کے بعد افغانستان سے امریکہ کی رسوائی اور واپسی 71

پاکستان میں خواتین کے ساتھ بڑھتی ہوئی جنسی ہراسگی!

کیا یہ مسئلہ نیا ہے؟ ہر گز نہیں، جب سے دنیا وجود میں آئی ہے تب سے ہی عورتوں کو مختلف طریقوں سے نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔ تاریخ انسانی اس طرح کے واقعات سے بھری پڑی ہے۔ جہاں عورتوں کو غلام بنا کر رکھا جاتا تھا۔ بازاروں میں عورتوں کی بولیا لگتی تھیں۔ منظور نظر خواتین کو حرم کی زینت بنایا جاتا تھا۔ عورتوں سے مزدوری اور مشقت کروائی جاتی تھی۔ بیٹیوں کو پیدا ہوتے ہی زندہ دفن کردیا جاتا تھا تاکہ بڑی ہو کر کسی ظلم اور بربریت کا نشانہ نہ بن سکیں۔ لیکن عورت کے لئے مرد کی محبت اور مرد کے لئے عورت کی محبت قدرتی امر ہے۔
رب کریم نے جب آدمؑ کو تخلیق کیا تو وہ خالصتاً نئی تخلیق تھی جس کو گندھی ہوئی مٹی سے بنایا گیا پہلے ان کا پُتلا تیار کیا گیا اور پھر اس میں اللہ نے روح پھونکی۔ اس سے پہلے جنات مخلوق کے طور پر پیدا کئے جا چکے تھے اور فرشتوں کی پیدائش بھی ہو چکی تھی جو کہ صرف اور صرف اللہ تعالیٰ نے اپنی اطاعت اور بندگی کے لئے پیدا کئے۔
آدمؑ کو تخلیق کرنے کے بعد اللہ نے حواؑ کو آدمؑ کی پسلی سے پیدا کیا۔ یعنی عورت کی پیدائش ہوئی جب کہ حضرت آدمؑ کی تخلیق ہوئی، عورت کو پیدا کرنے کا مقصد یہی تھا کہ انسانوں کو جوڑوں کی شکل میں دنیا میں متعارف کروایا جائے اور پھر عورت اور مرد کے باہمی ملاپ سے انسانوں کی تخلیق کا عمل شروع ہو سکے۔ صرف اور صرف آدمؑ کی تخلیق بطور مرد وہ مقاصد پورے نہیں کرسکتی تھی جو پلان اللہ تعالیٰ نے بنا رکھا تھا کیونکہ مونث کے بغیر مذکر کی کوئی اہمیت اور افادیت نہیں ہے۔ عورت چونکہ مرد کی پسلی سے پیدا ہوئی اس لئے کہا جاتا ہے کہ مرد کو اس سے قدرتی محبت ہے اور یہ محبت رب کائنات نے ایک دوسرے کے وجود میں ڈالی۔ مرد کی جسمانی ساخت مضبوط بنیادوں پر استوار کی اور عورت کو صنف نازک کہا گیا جو کہ وہ ہے اور اسی ناز کی میں ہی اس کے اندر کشش ہے جو کہ مردوں کو اپنی طرف کھینچتی ہے اگر یہ چاہت ختم ہو جائے تو تخلیق کائنات کا مقصد ختم ہو جاتا ہے۔ عورت جہاں جہاں جسمانی طور پر کمزور ہے وہیں اس کو طاقت دینے کے لئے ماں، بہن، بیوی اور بیٹی جیسے رشتے پیدا کئے گئے۔ ان رشتوں میں عورت مردوں سے کہیں زیادہ طاقتور اور مضبوط ہے۔
نبی آخر الزماں کی بعثت کے بعد جاہلیت کی تمام رسوم کو ختم کردیا گیا جس میں بیٹی کو زندہ درگور کرنے کا رواج بھی عام تھا۔ عورت کو اسلام نے وہ عزت و مرتبہ دیا جس کی پچھلی گزری ہوئی دنیا میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ آپ نے حضرت خدیجہؓ، حضرت عائشہؓ اور بیٹی حضرت فاطمہؓ سمیت تمام ازواج مطہرات کو بے پناہ عزت اور احترام دیا اور رہتی دنیا تک اس کو مثال بنا دیا اور ہمیں معاشرے میں عورتوں کو کس طرح کا مقام دینا ہے وہ تربیت دی۔ قرآن میں عورتوں کے حقوق پر واضح احکامات صادر کئے گئے۔
دنیا بھر میں عورتوں پر جنسی ہراسگی کے واقعات روز کا معمول ہیں اور اس میں مغربی دنیا سب سے آگے ہے جو اپنے آپ کو عورتوں کے حقوق کا چیمپئن کہتی ہے کیوں کہ یہاں مخلوط اور بولڈ تعلیمی نظام لڑکوں اور لڑکیوں کے لئے ایسے مواقع فراہم کرتا ہے کہ جہاں اوائل عمری میں ہی ان پر وہ تمام حقیقتیں منقشف ہو جاتی ہیں جو ہمارے پسماندہ معاشرے میں بہت دیر بعد پتہ چلتی ہیں۔ اس لئے بہت چھوٹی عمروں میں ہی مغربی معاشروں کے بچے بچیاں جنسی ملاپ شروع کر دیتے ہیں اور پھر کس طرح اس کا چھپانا ہے وہ بھی انہیں معلوم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج دنیا کے بیشتر ممالک شرح پیدائش کے کم ہونے کا شکار ہیں اور انہیں نوجوان افرادی قوت کی کمی کا سامنا ہے۔
جب کہ ہمارے معاشروں میں جنسی ہراسگی کے واقعات ہو رہے ہیں جو کہ قابل افسوس ہیں مگر دوسرے ممالک کی نسبت بہت کم ہیں۔ ہمارے ہاں سوشل میڈیا اور پرائیوٹ میڈیا سنسنی پھیلانے اور ریٹنگ لینے کے لئے بلاتحقیق ایسے واقعات کو بہت اچھالتا ہے۔
حال ہی میں مینار پاکستان پر ہونے والے واقعے نے دنیا بھر میں شہرت پائی، شروع میں ایسے لگا کہ جیسے سارا قصور لڑکوں کا تھا جنہوں نے بدتمیزی کی لیکن بعد میں تحقیق کے بعد علم ہوا کہ لڑکی بھی اتنی ہی قصور وار تھی جس نے اپنے چاہنے والوں کو مدعو کیا اور انہیں مختلف اشاروں کنایوں سے اکسایا لیکن پھر بھی ہم اس واقعہ میں ملوث افراد کو قرار واقعی سزا دینے کا مطالبہ کرتے ہیں کہ قانون کو ہاتھ میں لینا کسی طرح بھی جائز نہیں ہے چاہئے لڑکی کچھ بھی کررہی تھی۔ اس کی نازیبا حرکات کو پولیس کے علم میں لانا چاہئے تھا لیکن ہمارے ہاں نیم خواندگی، بے روزگاری، شعور کی کمی اور فرسٹریشن جیسے بڑے بڑے مسائل منہ کھولے کھڑے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ معاشرے کی اصلاح کی جائے اور عورت کو اس کا جائز مقام دیا جائے اور عورتیں بھی تھوڑا بہت اسلامی معاشرے کی تعلیمات کی پیروی کریں تو شاید ایسے واقعات میں کمی آسکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں