اسلام آباد کی آل پارٹیز کانفرنس کا احوال! 139

پاکستان کے سیاسی میدان کے گھوڑے!

کئی دہائیاں گزر گئیں مجھے اسلم راہی کا ناول ”قطیبہ بن مسلم“ پڑھے ہوئے چھ سات سو صفحات پر مشتمل یہ ضخیم ناول کی جب پہہلی لائن میں نے پڑھی تو پھر میں پڑھتا ہی چلا گیا۔ کچھ ہی دنوں میں یہ ناول پڑھ ڈالا۔ قطیبہ بن مسلم اسلامی تاریخ کا ایک بہادر، نڈر اور جری جرنیل تھا۔ اس کی فتوحات کی بے شمار داستانیں ہیں، اس ناول کے ہیرو کو فینس بن یوسف کا نام دیا گیا ہے۔
فینس بن یوسف دریائے جچون کے ساتھ ساتھ عربی گھوڑے پر سرپٹ دوڑتا ہوا تیزی سے منزلیں طے کرتا جارہا ہے۔ فینس بن یوسف ایک دراز قد گدے ہوئے جسم کا بے حد بہادر سپاہی ہے۔ اس کا حلیہ بتا رہا ہے کہ وہ کسی خاص اور بڑے اہم مقصد کے لئے زرہ بکتر پہنے ہوئے اور ہاتھ میں تلوار سے بھی زیادہ تیز دھار والا آہنی زنجیر گھماتے ہوئے سرخ آنکھوں اور سر پر پگڑی پہنے ہوئے ہے۔ اس کے گھوڑے کی چال اور رفتار بتا رہی ہے کہ اس کا سوار انتہائی جلد اپنے دشمنوں کے سر پر پہنچنا چاہتا ہے۔ فینس بن یوسف کے دل و دماغ میں اٹھنے والے طوفان سے دشمن بے خبر ہے۔ انہیں کیا معلوم کہ وہ قہر خداوندی بن کر ان پر گرنے والا ہے۔ اس کا پورا جسم پسینے سے شرابور ہو چکا ہے۔ وہ جسمانی طور پر تھک چکا ہے، اس کی منزل ابھی دور ہے مگر نفسیاتی طور پر اس نے اپنی زندگی میں کبھی ہار نہیں مانی اور ہر میدان میں اس نے اپنے دشمنوں کو کٹے ہوئے تربوز کی طرح پھاڑ کر رکھ دیا ہے۔ وہ عرب کا ایک خوبرو نوجوان ہے جسپر عرب کی حسینائیں جان جھڑکتی ہیں، وہ اپنے قبیلے کا ہیرو ہے، وہ اپنے قبیے کی شان ہے، قبیلے کے سردار اس پر فخر کرتے ہیں۔
وہ انتہائی کٹھن سفر طے کرکے اپنے دشمنوں کے درمیان پہنچتا ہے اور ان کو اپنے آنے کا مقصد بتاتا ہے اور للکارتا ہے، دشمن کی صفوں میں کھلبلی مچ جاتی ہے، انہیں فینس بن یوسف کی بہادری کا اچھی طرح علم ہے کہ وہ اپنے دشمنوں کو کبھی معاف نہیں کرتا اور انہیں واصل جہنم کرکے رہتا ہے، فینس بن یوسف کا تعلق ایک خانہ بدوش خاندان سے ہے جو سارا سال رزق کی تلاش میں مختلف مقامات کا سفر کرتے رہتے ہیں اور جہاں پانی اور سبزہ ملا وہیں پڑاﺅ ڈال لیا۔
فینس بن یوسف کی غیر موجودگی میں ان لوگوں نے اس کے قبیلے پر حملہ کیا اور ان کا ضروری سامان لوٹ کر فرار ہو گئے۔ فینس بن یوسف قبیلے سے ہوئی زیادتی کا بدلہ لینے کے لئے سر پر کفن باندھ کر بدلہ لینے نکلا تھا۔ اس نے اپنے کسی دشمن کے ساتھ کوئی رحم دلی یا رعایت نہیں کی اور ان کو سخت مقابلے کے بعد قتل کرکے اپنے قبیلے سے ہونے والی زیادتی کا بدلہ لیا۔ اس کی آہنی زنجیر کسی پھانسی کے پھاندی سے کم نہ تھی، ایک ہی زنجیر دشمن کا کام تمام کر دیتی۔ اس بہادر نوجوان کا نام کئی سو سال گزر جانے کے باوجود بھی تاریخ کی کتابوں میں زندہ ہے۔
کرکٹ کے سرسبز میدانوں سے اٹھنے والا طوفان جس کے کھیل اور حسن کے تذکرے آج کی جدید دنیا میں ہر دل میں بسے ہوئے ہیں، کھیل کے میدان میں اس نے کبھی کسی پر رحم نہیں کھایا، کبھی ایمپائر کو ساتھ ملا کر نہیں کھیلا، انتہا کا محنتی کھلاڑی تھا۔ دشمن سے مقابلے سے پہلے پوری تیاری کرتا تھا، ڈسپلن کا پابند لیکن انتہائی پروفیشنل کپتان۔ حیرانگی کی بات ہے کہ اس کی کپتانی میں کھیلنے والے کسی کھلاڑی نے آج تک اس کی بدتعریفی یا بدنیتی کا ذکر نہیں کیا۔ سب نے ہمیشہ اس کی بہت اچھے الفاظ میں تعریف کی۔ ڈیڑھ سو سالہ کرکٹ کی تاریخ کا پہلا وزیر اعظم عمران خان۔۔۔
عمران خان کی کرکٹ کے میدان میں ملک کے لئے خدمات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں، ریٹائرمنٹ کے بعد مرحومہ والدہ کی یاد میں کینسر ہسپتال کی تعمیر اور تعلیمی میدان میں نمل یونیورسٹی کا قیام عظیم کارنامے ہیں جو رہتی دنیا تک یاد رکھے جائیں گے۔ اس کا اجر لینے سے اسے کوئی اپوزیشن لیڈر نہیں روک سکتا، وہ ایک غریب پرور، نرم دل اور پاکستان کو بڑھتا اور پھلتا پھولتا دیکھنا چاہتا ہے۔ اس کے دل میں کئی ارمان ہیں۔ وہ پاکستان کو مدینہ کی طرز پر فلاحی اسلامی ریاست کا خواب لے کر میدان عمل میں اترا ہے جہاں انصاف کا بول بالا ہو، ریاست ہر شہری کی جان و مال کی حفاظت کرے، ہر شہری کے نان نفقہ کا بندوبست کرے، بددیانت لوگوں کو قرار واقعی سزا ملے۔ پاکستان دنیا میں اپنا نام اور مقام بلند کرے، یہ سب کچھ کرنے کے لئے اس کے پاس جرات، ہمت اور حوصلہ ہے۔ مگر ساری قوم گواہ ہے کہ جس طرح پاکستان میں کاروباری اور دوسرےمافیاز اپوزیشن جماعتوں کی پشت پناہی سے اس کے مشن کو ناکام کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔
جب میں عمران خان کو انتخابی مہم کے دوران جلسوں میں جس قدر گرجتے برستے دیکھتا تھا تو مجھے ہمیشہ قطیبہ بن مسلم کا ہیرو فینس بن یوسف یاد آ جاتا تھا کہ ایک دن عمران خان اسی زور سے کرپٹ اپوزیشن پر وار کرے گا اور ان کا بھرکس نکال دے گا۔ میں سمجھتا ہوں کہ بنیادی طور پر خان میں وہ تمام صفات موجود ہیں جو عربی ہیرو میں تھیں لیکن فرق یہ ہے کہ عربی ہیرو کے پاﺅں کی زنجیر عدلیہ اور اسٹیبلشمنٹ نہیں تھی جب کہ آج خان کو اپنے منشور کو عملی جامہ پہنانے کے لئے ان بدنام مانہ اداروں کا سامنا ہے جو ہر اچھے کام سے کیڑے نکالتے ہیں اور ہر طریقے سے موجودہ حکومت کو ناکام کرنے پر تلے ہوئے ہیں کیوں کہ پچھلے تیس سالوں میں پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن نے جس بے رحمانہ طریقے سے ملک کے اداروں کو مفلوج کیا ہے اس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔
عدلیہ، بیوروکریسی، سول انتظامیہ، پی آئی اے، اسٹیل مل وغیرہ میں جس پیمانے پر انہوں نے من پسند غیر تربیت یافتہ افراد کی بھرتیاں کیں اسی کا شاخسانہ ہے کہ آج ہر ادارہ تباہی کے دہانے پر کھڑا ہے، ہر ادارہ اربوں روپے خسارہ کررہا ہے، اور یہ چلے ہوئے کارتوس جیسے اپوزیشن لیڈر ان حکومت کی پھر بھی مخالفت کررہے ہیں لیکن عوام میں ان کی کوئی پذیرائی نہ ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ پچھلے دو سال میں مہنگائی اور بے روزگاری کا ایک طوفان کھڑا ہو گیا ہے جو کہ اس حکومت کے لئے ایک بہت بڑا چیلنج ہے اور پھر اس سال کے شروع سے کرونا وائرس نے رہی سہی کسر نکال دی ہے اور پھر عمران خان کابینہ کے بعض وزراءبھی سوالیہ نشان ہیں۔ جن کی وجہ سے خان حکومت کی ساتھ کو نقصان پہنچا رہا ہے۔
موجودہ حکومت کے کئے گئے بہت سارے مثبت اقدامات پر پانی پھرتا نظر آرہا ہے۔ نام نہاد سیاسی پنڈت اور نان اسٹیٹ ایکٹرز حکومت کےدن گنے جا چکے کا ڈھنڈورہ پیٹ رہے ہیں۔ آئے دن نئی نئی بے بنیاد افواہیں پھیلا رہے ہیں کہ یہ حکومت گئی کہ اب گئی۔ میڈیا کے چند روایتی بکاﺅ تجزیہ نگار اندھی فائرنگ کررہے ہیں کہ کوئی نشانہ تو کسی کو لگے گا مگر وہ گمراہی میں لت پت ہیں۔ ایسا نہیں ہو گا۔ ان شاءاللہ
اپوزیشن کی تمام ناکام جماعتیں مل کر پورا زور لگا رہی ہیں کہ کسی طرح کم از کم عمران خان کو وزارت عظمیٰ سے ہٹا دیا جائے کیوں کہ خان کرپٹ اپوزیشن کے پیچھے فینس بن یوسف کی طرح پڑا ہوا ہے اور وہ وقت دور نہیں جب وہ اپنے وطن کے ساتھ دشمنی کرنے والوں کو عبرت ناک انجام تک پہنچا دے گا کیوں کہ اس کے لئے اس کے اندر (Zero Tolerance) ہے۔ لیکن ابھی اس کی کچھ مجبوریاں ہیں جو اس کے ہاتھ باندھے ہوئے ہیں۔ امید ہے جلد ہی ان زنجیروں کو توڑ کر عوام کے خواب کو پایہ تکمیل تک پہنچائے گا اور تمام ملک دشمن اور کرپٹ عناصر کو جہنم واصل کرے گا۔
عمران خان جناب وزیر اعظم آپ کو دوبارہ وزیر اعظم بننے کی خواہش سے زیادہ یہ خواہش ہو گی کہ عوام کے اور اپنے ایجنڈے پر عمل کرتے ہوئے اس ملک کا گند صاف کیا جائے، لوگ آپ کی طرف دیکھ رہے ہیں، ہمیں معلوم ہے کہ یہ ایک کٹھن کام ہے مگر میں آپ میں ایک بہادر اور جری جرنیل کے اوصاف دیکھ رہا ہوں جو موقع پاتے ہی دشمن کا سر دھنی ہوئی روئی کی طرح کچل دیتا ہے۔ خان صاحب یقین کیجئے کچھ بھی نہیں ہو گا، ہمت کریں، قوم آپ کے ساتھ ہے اور سب سے بڑھ کر اللہ کی نصرت و حمایت آپ کے ساتھ ہے، آپ پر اللہ کی خاص رحمت ہے کہ اس نے آپ کو آج تک کسی مقصد میں ناکامیاب نہیں کیا۔
ہم بیرون ملک رہنے والے پاکستانی سیاست کے میدان میں ہونے والے اس پراگندہ کھیل کو اسی طرح دیکھ رہے ہیں جس طرح کھیل کے تماشائی گھروں میں بیٹھ کر ٹی وی اسکرینوں پر مقابلہ دیکھ رہے ہوتے ہیں اور وہ میدان میں بیٹھے ہوئے تماشائیوں کی بنسبت بہتر تجزیہ کررہے ہوتے ہیں کہ گیم کس طرف جارہی ہے۔ اس لئے بطور اوورسیز پاکستان ہمارا مشورہ ہے کہ گیم ختم ہونے والی ہے اس گیم میں فتح بائیں کروڑ عوام کی ہو سکتی ہے اگر آپ جرات اور ہمت کا مظاہرہ کریں اور ان کرپٹ عناصر کا سر کچل دیں، اگر آپ ان کو جمہوری یا عدالتی طریقے سے ناک آﺅٹ کروانے کے خواب دیکھ رہے ہیں تو یہ خام خیالی ہے، یہ کبھی نہیں ہو گا اور پچھلے دو سال میں ہونے والے احتساب کے بے ہودہ عمل کو ساری قوم دیکھ رہی ہے اور مایوس ہوتی جارہی ہے۔
اس وق تمام اپوزیشن کے بے ضمیر اور کرپٹ عناصر فینس بن یوسف کی آہنی زنجیر کے مستحق ہیں اور وہ ہیرو آپ ہو سکتے ہیں جس کا کام اور نام تاریخ کی کتابوں میں صدیوں زندہ و جاوید ہو جائے گا اور قوم قائد اعظم کے بعد آپ کو نجات دہندہ کے طور پر ہمیشہ یاد رکھے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں