تحریک انصاف حکومت تنقید کی زد میں 88

پاک بھارت تعلقات

پاک بھارت تعلقات کو بہتر بنانے کے لئے ایک دفعہ پھر کوششوں کا آغاز کیا جارہا ہے۔ وزیر اعظم عمران خان نے اپنی حکومت کے ابتداءہی میں اس بات کا عندیہ دیا تھا کہ وہ پڑوسی ملک سے بہتر تعلقات کے خواہاں ہیں۔ مگر ہندوستان کی جانب سے اس کا خاطر خواہ جواب نہ ملنے کی وجہ سے اس جانب پیش رفت نہ ہو سکی مگر اس کے ساتھ ساتھ ملکی اورعالمی سطح پر ان کا یہ اصرار بھی واضح رہا کہ کشمیر کا مسئلہ حل کئے بغیر پاک و ہند کے تعلقات بہتر انداز میں استوار ہونا انتہائی مشکل عمل ہو گا۔ چند دنوں پہلے پاکستانی افواج کے سربراہ نے بھی اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ ماضی کو بھلا کر مستقبل کی طرف دیکھنا چاہئے۔ پاکستان اور ہندوستان قریبی ہمسایہ یہ ایک مسلم حقیقت ہے کہ دونوں ممالک کے تعلقات کے اثرات پورے خطے کو اپنے حصار میں لے لیتے ہیں۔
یوم پاکستان کے موقع پر بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کو اپنے تہنیتی پیغام میں یہ کہا کہ ایک پڑوسی ملک ہونے کے ناطے ہندوستان پاکستانی عوام کے ساتھ خوشگوار تعلقات استوار کرنے کی خواہش رکھتا ہے۔ اس وقت دونوں ممالک کے مابین امن کی صورت حال استوار کرنے میں چین، امریکہ اور متحدہ عرب امارات کی ثالثی اور خواہشات کے آثار بھی نظر آرہے ہیں اگر اس تناظر میں دیکھا جائے تو یہ ایک الگ صورت حال ہے جس میں کئی دوسرے عوامل بھی کارفرما ہیں۔ بات اگر صرف پاکستان اور ہندوستان کی، کی جائے تو دونوں ہمسایوں کو تنازعات کے باوجود اسی خطہ میں رہنا ہے اور عمومی تعلقات بھی قائم رکھنے ہیں۔
حال ہی میں پاکستان تجارتی کونسل کی اس تجویز پر کہ ہندوستان سے چینی اور کپاس درآمد کی جا سکتی ہے پر مرکزی کابینہ نے سخت رویہ اختیار کیا ہے اور اس کا اعادہ کیا کہ پاکستان کسی صورت بھی اس مطالبہ سے پیچھے نہیں ہٹے گا کہ مودی سرکار کی 2019ءکی کشمیر پالیسی کو واپس لیا جائے اگر حقائق پر نظر ڈالی جائے تو ہندوستان کے ساتھ تجارت مختلف کچھ نہ کچھ تعطل کے ساتھ ہمیشہ جاری رہی ہے۔ پاکستان کو یہاں سے درآمدگی سستی پڑتی ہے بہ نسبت دوسرے ممالک کے کیونکہ سرحدیں ملی ہوئی ہیں۔ سیاسی اختلافات اپنی جگہ پر ہیں اور انتہائی اہمیت کے حامل ہیں اور مختلف سفارتی ذرائع کے ذریعے حل کئے جاتے ہیں مگر حقائق سے چشم پوشی نہیں کی جا سکتی اس وقت پاکستان کی ٹیکسٹائل کی صنعت ترقی پر ہے، کپاس ایک اہم ترین ضرورت ہے۔ تجارت ایک الگ شعبہ ہے اور سیاست الگ۔ دنیا کے بیشتر چھوٹے اور بڑے ممالک اپنی تجارتی اور سیاسی پالیسیاں الگ رکھتے ہیں ان پر یقیناً ممالک کے درمیان تعلقات کی نوعیت اثر انداز ہوتی ہے مگر اس کا حل بہتر شرائط و ضوابط کو رکھ کر کرلیا جاتا ہے۔ پاکستان کی ہمیشہ کشمیریوں کی اعانت کی ہے مگر اس وقت حکومت کو غور و فکر کے ساتھ تمام معاملات کو مدنظر رکھتے ہوئے ٹھنڈے دماغ سے فیصلے کرنے چاہئے۔ حکومت کے فیصلے پر تبصرے کرنا اپوزیشن کا کام ہے یہ جاری رہے گا۔ حکومتی اداروں کا کام عوام کے مفاد کو مدنظر رکھنا ہے۔ پچھلے ڈھائی سالوں میں تحریک انصاف کی حکومت اپنی ناتجربہ کاری کی وجہ سے عوام کے لئے وہ بنیادی آسانیاں مہیا کرنے سے قاصر رہی ہے جس کی امید پر عوام نے ان کو منتخب کیا۔ پے در پے کابینہ میں ردوبدل نے بھی حکومت کے ہاتھ کمزور کئے ہیں۔ یہ ایک احسن عمل ہے کہ وزراءکی کارکردگی کا جائزہ لے کر ان کی سرزنش کی جائے مگر اس کے ساتھ ہی یہ بھی حکومت کی اولین ذمہ داری تھی کہ ایک مضبوط ٹیم تشکیل دی جائے۔
تحریک انصاف کے ٹکٹ پر منتخب ہونے والے بیشتر افراد سیاست میں نووارد تھے مگر اپنے شعبوں میں ان کی صلاحیتیں بہترین تھیں۔ انتخاب کے میدان میں اترنے سے پہلے ہی تحریک انصاف پر حکومتی شعبے سے متعلق ایک مضبوط حکمت عملی اور پالیسی مرتب کرنی چاہئے تھی جب کہ اسے یہ قوی امید تھی کہ اقتدار ان کے ہاتھ آئے گا۔ بری گورنس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہی ہے کہ وزراءمیں سے بیشتر کو یہ ہی علم نہیں کہ اپنے محکمہ جات سے کیسے نبٹا جائے انہیں اپنے محکمے کو ہی سمجھنے میں وقت لگتا ہے کہ ان کی پورٹ فولیو تبدیل ہو جاتی ہے۔ اپوزیشن پارٹیوں کے اتحاد کا سہرا سو فیصد تحریک انصاف کے سر جاتا ہے۔ وزیروں اور مشیروں کا ایک جھمگٹا ہے جو روز میڈیا پر بیٹھ کر اپوزیشن کو مواد فراہم کرتا ہے۔ یہ اور بات ہے کہ وہ اتحاد جو انتہائی یگانت کے ساتھ حکومت کے خلاف وجود میں آیا تھا وہ اپنے انجام کی آخری منزلوں سے گزر رہا ہے۔ پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ نون کے سنگین اختلافات کھل کر سامنے آگئے ہیں۔ نیشنل عوامی پارٹی نے بھی پی ڈی ایم سے لاتعلقی کا اظہار کردیا ہے۔ وہ تنازعات جو سینٹ کے چیئرمین کے انتخاب کے ساتھ وجود میں آئے تھے مکمل طور پر اپنا رنگ جما چکے ہیں۔ اس وقت پیپلزپارٹی حالات پر گرفت رکھتی نظر آرہی ہے۔ ابتداءہی میں پیپلزپارٹی نے اس کا اظہار کردیا تھا کہ وہ آئینی طور پر موجودہ حخومت کا محاسبہ کرنے کی حکمت عملی اختیار کرنے کا ارادہ رکھتی ہے اور اسی ردعمل کا مظاہرہ کررہی ہے۔ یوسف رضا گیلانی سینٹ میں حزب اختلاف کے لیڈر کا عہدہ سنبھالنے کے بعد قومی اسمبلی کے اسیپکر سے بھی ملاقات کر چکے ہیں اور اس بات کی یقین دہانی کروا چکے ہیں کہ پیپلزپارٹی اپوزیشن کے ساتھ ساتھ حکومت کے صحیح اقدام کی بھی ہمنوائی کرے گی۔ ن لیگ کے لئے یوسف رضا گیلانی کا حزب اختلاف کا لیڈر منتخب ہو جانا ایک اچھنبے سے کم نہیں تھا جب کہ ن لیگ اپنا امیدوار بھی نامزد کرچکی تھی اور جیسا کہ پی ڈی ایم کے اجلاسوں میں بھی یہ فیصلہ ہو چکا تھا کہ سینٹ میں حزب اختلاف کی نمائندگی ن لیگ کے ہاتھوں میں ہو گی اس وقت سابق صدر آصف زرداری کے ماضی کے بیان کی بازگشت ضرور سنائی دے رہی کہ معاہدے اور وعدے قرآن نہیں کہ تبدیل نہیں کئے جا سکیں۔ پیپلزپارٹی سے یہ نظر آرہا ہے کہ ن لیگ سے ماضی میں رونما ہونے والے تمام واقعات کا احتساب کر لیا ہے۔ حزب اختلاف کے لیڈر کی نشست حاصل کرنے کے لئے حکومتی اتحادیوں سے مفاہمت حاصل کرنے کے سلسلے میں پی ڈی ایم پی پی پی کو جو شوکاز نوٹس جاری کیا ہے اس کا سخت ترین جواب متوقع ہے۔ سینٹ کے پہلے اجلاس میں ن لیگ کے امیدوار نے اپنے 27 ارکان کے لئے اسپیکر سنجرانی سے الگ نشستوں کا مطالبہ کیا ہے اور سینٹ میں یوسف رضا گیلانی کو حزب اختلاف کا لیڈر ماننے سے انکار کیا ہے۔ پی ڈی ایم عملی طور پر ناکام اور معطل ہو چکی ہے۔ اس میں شامل جماعتیں آہستہ آہستہ علیحدگی کی طرف پرتول رہی ہیں۔ بہت ممکن ہے کہ جلد ہی ایک نیا اتحاد پیپلزپارٹی کے زیر اثر وجود میں آئے۔ وہ بیانیہ جو ن لیگ آگے لے کر چلی تھی جس میں حکومت اور ان کے اداروں کے خلاف سخت حکمت عملی اختیار کرنے کی خواہش تھی خود ہی ن لیگ کو زک پہنچانے کا سبب ثابت ہوا۔ ن لیگ اور خاص کر جے یو آئی اس وقت سیاسی طور پر تقریباً مکمل سکوت کے عالم میں ہیں۔ خبریں یہ بھی گردش کررہی ہیں کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف مراعات کے ساتھ واپس آنے کے خواہشمند ہیں اور اس سلسلے میں رابطوں کی پیش قدمی بھی ہوئی ہے مگر تاحال کوئی امید افزاءصورت حال سامنے نہیں آئی ہے۔ شہباز شریف اور حمزہ شہباز کی طرف سے بھی اس تمام صورت حال پر خاموشی معنی خیز ہے۔ شہباز شریف کئی مواقع پر اسٹیبلشمنٹ سے تنازعات قائم کرنے کی حکمت عملی پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہیں۔ ن لیگ میں واضح طور پر مختلف آراءکی نشاندہی ہو رہی ہے۔
اس ساری صورت حال میں حکومت پر اعتماد نظر آتی ہے۔ وزیر اعظم نے حکومتی وزراءاور مشیروں کو پی ڈی ایم پر تبصروں سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے اور اس بات کی تنبیہہ کی ہے کہ اپنے محکماجات کی طرف توجہ دیں۔ پیٹرولیم کے مشیر ندیم بابر اور اس محکمہ کے سیکریٹری فارغ کر دیئے گئے ہیں تاکہ اس معاملہ پر تحقیقات کے سلسلے میں کسی قسم کی جانب داری نہ برتی جا سکے۔ شوگر مافیا پر ہاتھ ڈال دیا گیا ہے مگر مسائل اپنی جگہ پر قائم ہیں۔ رمضان کی آمد کے ساتھ مہنگائی کو نچلی سطح پر رکھنا اور اشیائے ضرورت کو کم قیمتوں پر عوام تک پہنچانا حکومت کا اصلی امتحان ہو گا۔ وزیر اعظم نے اس ہفتے عوام سے براہ راست گفتگو کرکے اور سوالات کا جواب دیتے ہوئے ایک بہتر تاثر قائم کیا ہے مگر انہیں کچھ تند و تیز سوالوں کا سامنا بھی کرنا پڑا جس میں آئی ایم ایف اور اسٹیٹ بینک سے متعلق عوام کے تحفظات بھی شامل تھے۔ کم آمدنی رکھنے والوں کے لئے مکانوں کی فراہمی آسان بنانا ایک مستحسن قدم ہے اس کی عوام میں پذیرائی ہو رہی ہے اور اس صنعت نے بلاشبہ روزگار کے دروازے کھولے ہیں۔ اہم ترین ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت کم تعلیم یافتہ لوگوں کے لئے فنی تربیت گاہیں قائم کرے تاکہ اندرون ملک اور بیرون ملک لوگوں کو روزگار حاصل کرنے میں آسانی ہو۔ کورونا کی وباءعالمی طور پر معیشت پر اثر انداز ہوئی ہے۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک پر اس کے اثر شدید ہوئے ہیں باوجود اس کے کہ موجودہ حکومت نے بہترین حکمت عملی اختیار کرتے ہوئے معیشت کے پہیے کو رواں دواں رکھا ہے جس کا اعتراف عالمی طور پر بھی کیا گیا۔ وباءکی تیسری لہر نے دنیا کی سنبھلتی ہوئی معیشت کو ایک دفعہ پھر ڈانواڈول کردیا ہے۔ تمام ممالک اپنے شہریوں کو ویکسین لگوا رہے ہیں۔ پاکستان میں چائنا کی طرف سے دی جانے والی ویکسین کے علاوہ روس سے بھی خریدی گئی ویکسین استعمال میں ہے۔ وزارت صحت اور این سی او سی کے ادارے نے ویکسین کے سلسلے میں بہترین انتظامات کئے ہیں۔ تمام صوبائی حکومتوں کی معاونت اس میں شامل ہیں۔ یہ انتظامات دیکھ کر یہ ضرور احساس ہوتا ہے کہ اگر کسی کام کو کرنے کی مرضی شامل ہو تو یقیناً صوبائی اور وفاقی حکومت مل کر بہترین انتظام کرسکتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں