حو ّ ا کی بیٹی 110

پاک سعودی تعلق

پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کی ایک تاریخ ہے، ویسے بھی ہم سعودی عرب سے تعلقات کو اپنے لئے جنت کا راستہ تصور کرتے ہیں کیونکہ مسلمان خصوصاً پاکستانی مسلمان حرم کعبہ اور روضہءرسول کے لئے ہم وقت کٹ مرنے کو تیار ہے۔ وہ اپنے اللہ اور نبی کے احکامات پر عمل پیرا ہو یا نہیں مگر ان کی حرمت پر کوئی آنچ برداشت نہیں کر سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ مکہ اور مدینہ ہر پاکستانی کے دل میں بستا ہے اور یہی وجہ ہے کہ سعودی عرب سے تعلقات میں کھنچاﺅ کو پوری قوم نے محسوس کیا ہے۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ سعودی عرب نے ہمیشہ معاشی مشکلات میں پاکستان کی مدد کی ہے اور پاکستان کی ایٹمی طاقت کو بھی عرب ممالک اپنی بقاءکی ضمانت سمجھتے ہیں اور پاکستان فوج ہمیشہ سعودی مشکلات میں ان کے ہم رکاب رہی ہے۔ ہاں البتہ جب یمن فوج بھجوانے کا معاملہ آیا تو ہم نے اپنے قومی مفاد کو ترجیح دی اور سعودی عرب کی خواہش پر پاکستانی فوج نہیں بھیجی۔ پھر ایران کے ساتھ ہمارے تعلقات بھی سعودی عرب کو کھٹکتے ہیں مگر جس طرح سعودی عرب بہت سے معاملات میں اپنے مفادات کو مدنظر رکھتا ہے۔ پاکستان کو بھی یہ حق حاصل ہے کہ ”تیل اور تیل کی دھار دیکھ کر“ اور دنیا کی بدلتی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلہ کرے۔ ماضی میں سعودی عرب کے حکمرانوں میں شاہ فیصل، شاہد خالد اور شاہ عبداللہ جیسے تجربہ کار حکمران موجود رہے مگر آج کی سعودی نوجوان قیادت جس جذباتی انداز میں آگے بڑھ رہی ہے۔ اس پر بھی ایک سوالیہ نشان ہے؟ حال ہی میں اچانک پاکستان سے دیئے ہوئے قرضہ کی واپسی کا مطالبہ بھی ایک جذباتی فیصلہ ہے۔ دوسری جانب شاہ محمود قریشی کا بیان بھی دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کا باعث بنا ہے۔ لیکن اگر حقائق کو مدنظر رکھا جائے تو سعودی عرب کا بھارت کی بے جا سپورٹ پر پاکستان کا ردعمل فطری ہے مگر ہم بھول جاتے ہیں کہ بھارت ہمارے مقابلہ میں ایک بڑا ملک ہے اور سعودی عرب اور بھارت کے درمیان 33 ارب ڈالر کی تجارت ہوتی ہے جب کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان صرف ساڑھے تین ارب ڈالر کا کاروبار ہوتا ہے۔ متحدہ عرب امارات نے بھی بھارت میں بہت بھاری سرمایہ کاری کی ہے جب کہ پاکستان ہمیشہ ہاتھ پھیلائے رکھتا ہے۔
22 لاکھ پاکستانی سعودی عرب میں اور 15 لاکھ یو اے ای میں ملازمت کرتے ہیں جس سے پاکستان کثیر زرمبادلہ کماتا ہے۔ ہمیں دیکھنا ہو گا کہ کیا ہم اتنے خودکفیل ہیں اور کیا ہم اپنے پیروں پر کھڑے ہو سکتے ہیں اور کیا ہم موجودہ حالات میں سعودی عرب یا عرب ممالک کی مخالفت مول لے سکتے ہیں؟ یقیناً نہیں، مگر اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ اپنے مفادات پر سودے بازی کی جائے، یہیں فارن آفس کا کردار سامنے آتا ہے اور ڈپلومیسی کے ذریعہ معاملات کو نارمل رکھا جاتا ہے۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا بیان غلط نہیں مگر غلط انداز میں اور عوامی سطح پر دیا گیا جس کے سبب صورتحال خراب ہوئی اور دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کی صورتحال پیدا ہوگئی۔
پاکستان میں موجود سعودی سفیر نواف بن سعدالمالکی نے ایک نہایت مدبر اور حالات کی نزاکت کو مدنظر رکھتے ہوئے فوری مثبت اقدامات کے ذریعہ دونوں ممالک کے درمیان حالات کو نارمل کرنے میں اہم کردار ادا کیا اور پاکستان کے فارن آفس کے بجائے ہمارے آرمی چیف قمر جاوید باجوہ فوری سعودی عرب روانہ ہوئے اور وہاں سعودی فرماروا شاہ سلمان اور فوج کی اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کرکے حالات کو نارمل کیا گیا۔ آج کا پاکستان دنیا کی نظروں میں بڑا اہم ملک ہے۔ ایک جانب چائنا، ترکی اور ایران ہیں جن سے پاکستان کا مستقبل وابستہ ہے۔ دوسری جانب سعودی عرب ہے جو امداد دیتا ہے اور امریکہ کے اشاروں پر چلتا ہے۔ یہی ایک معاملہ ایسا ہے جس نے پاکستان کو سینڈوچ بنا کر رکھ دیا ہے کہ چین، امریکہ ٹینشن کے اثرات سعودی عرب کے ذریعہ پاکستان تک پہنچ رہے ہیں۔ اب یہ پاکستان کو دیکھنا ہو گا کہ وہ کس طرح ذمہ داری اور تدبر کے ساتھ فیصلے کرکے تمام ممالک سے اپنے تعلقات بھی استوار رکھے اور اپنے ملکی مفادات پر بھی ضرب نہ لگنے دے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ہمارے حکمرانوں کو اور ہمارے تمام سیاستدانوں کو مکمل معاملات ذمہ داری سے حل کرنے کی سمجھ عطا کرے اور اپوزیشن، علمائ، فوج اور سیاستدان اپنی ذاتی جنگ بالائے طاق رکھ کر ملکی مفاد کے لئے کام کریں، آمین۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں