ویت نام کے بعد افغانستان سے امریکہ کی رسوائی اور واپسی 93

پردیس

آج کل اے آر وائی ڈیجیٹل پر ایک ڈرامہ سیریز دکھائی جارہی ہے جس کا ٹائٹل ہے ”پردیس“۔ اس ڈرامے کے پروڈیوسر ہمایوں سعید ہیں جب کہ معروف اداکارہ مرینہ خان نے اس کی ہدایات دی ہیں۔
جیسا کہ نا سے ہی ظاہر ہے کہ یہ کہانی پردیس سے جڑی ہوئی ہے۔ اس میں کم و بیش تیس سال پہلے کا دور دکھایا جا رہا ہے جب عام گھروں میں ٹی وی اور فون بھی نہیں ہوتا تھا اور لوگ غربت کی زندگی گزارتے تھے۔ عوام الناس کی کثیر تعداد غریب اور متوسط طبقے سے تعلق رکھتی تھی۔
احسن اس کہانی کا ہیرو ہے اور زبیدہ ہیروئن اور ساس کا کردار بشری انصاری نے بڑی مہارت سے نبھایا ہے۔ سرمد کھوسٹ اور شائستہ کی اداکاری بڑی پاور فل ہے اور حقیقت سے بہت قریب ہے۔ یہ اس زمانے کی بات ہے جب لوگوں نے بہتر مستقبل کے لئے مڈل ایسٹ جانا شروع کیا تھا کیوں کہ پاکستان میں ان کو روزگار سے اتنا معقول معاوضہ نہیں ملتا تھا کہ جس سے وہ ایک اچھا مستقبل گزار سکیں اور پھر جوائنٹ فیملی سسٹم کی وجہ سے ایک فرد پر سارے خاندان کی ذمہ داری ہوتی تھی اور وہ قربانی کے لئے اپنے آپ کو پیش کرتا تھا۔ یہ بڑی تلخ حقیقت ہے اور اس ڈرامے میں تمام کرداروں نے بہت اچھا کام کیا ہے۔
احسن ایک الیکٹریشن ہے اور وہ کراچی میں عام سی نوکری کرتا ہے جس سے اس کے گھر والوں کے اخراجات پورے نہیں ہوتے۔ وہ شادی شدہ ایک بیٹی کا باپ ہے جب کہ اس کی والدہ کے علاوہ چھوٹا بھائی اور اس کی بیوی، اس کی ایک شادہ شدہ بہن اور آخری غیر شادہ شدہ بہن اس کی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔ اتنے بڑے کنبے میں ہر وقت تنگی سامان کی شکایت رہی ہے ہر ایک کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ بہتر سے بہتر زندگی کی آسائشوں سے لطف اندوز ہو مگر حالات اجازت نہیں دیتے۔ شادی شدہ بہن کے آئے دن کے نئے نئے مطالبات اس کی ماں اور پھر احسن کے لئے پریشانی کا باعث بنتے ہیں۔ چھوٹا بھائی روایتی نکما دکھایا گیا ہے جس کی نظر ہر وقت بڑے بھائی کی جیب پر ہوتی ہے۔
احسن اور اس کی بیوی بچوں کا پیار بڑے اچھے انداز میں دکھایا گیا ہے وہ اپنی بیوی سے اور بیٹی سے بڑی محبت کرتا ہے اور ان سے ایک پل کے لئے دور نہیں جانا چاہتا جب کہ اس کی گھر کی ضروریات اسے مجبور کرتی ہیں کہ وہ پردیس چلا جائے اور اچھے پیسے کمائے۔ یہ بات اس کا ایک دوست اس کو مشورہ کے طور پر بتاتا ہے کہ فلاں شخص باہر چلا گیا ہے اور اس نے زندگی کی بہت ساری آسائشیں حاصل کرلی ہیں۔ انہیں باتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے وہ بھی نا چاہتے ہوئے مڈل ایسٹ جانے کے لئے تیار ہو جاتا ہے اس کی بیوی اور بیٹی کے علاوہ تمام اہل خانہ بڑے خوش ہوتے ہیں کہ اب ہمارے حالات بدل جائیں گے۔
بڑے بوجھل دل کے ساتھ وہ گھر سے روانہ ہو جاتا ہے مگر اس کی بیوی اور بیٹی جدائی کے غم سے گزر رہی ہوتی ہیں۔ وہ ان کی زندگی کا کوالٹی ٹائم ہوتا ہے جو وہ پردیس میں محنت مزدوری کرکے گزارتا ہے۔ ہر پل بیوی کی محبت کو مِس کرتا ہے اور اس کی بیوی ساس اور دیور کے ناروا سلوک کے باوجود بڑی خندہ پیشانی سے پیش آتی ہے۔ بڑی صابر اور شاکر عورت کا کردار ادا کرتی ہے۔ احسن کی کمائی آنا شروع ہو جاتی ہے جس سے گھر کے حالات بدلنا شروع ہو جاتے ہیں مگر احسن کے بیوی اور بچی کو اس سے محروم رکھا جاتا ہے۔ اس دوران ایک دوبار وہ پاکستان آتا ہے اور فیصلہ بھی کرتا ہے کہ اب واپس نہیں جائے گا لیکن پھر ماں اور بہن بھائی کے اصرار کرنے پر واپس چلا جاتا ہے۔ اس سارے ڈرامے میں احسن اور اس کی بیوی زبیدہ اور بچی ایمن پر جو بیتتی ہے وہ ہر اس شخص کی کہانی ہے جو روزگار کی خاطر بیوی بچوں کو چھوڑ کر پردیس چلا جاتا ہے اور پھر کئی کئی سال تک نہیں آ پاتا۔ یہ صرف اور صرف اپنی فیملی کے اچھے مستقبل کے لئے کرتا ہے، خود روکھی سوکھی کھا کر گزارہ کرتا ہے۔ چھ چھ لوگ ایک کمرے اور باتھ روم کے ساتھ گزارہ کرتے ہیں۔ اس دوران کئی قربانیاں دینی پڑتی ہیں۔ احسن کی والدہ فوت ہو جاتی ہے۔ وہ نہیں آ پاتا۔ اسے کمپنی سے چھٹی نہیں ملتی۔ اس کا بیٹا آوارہ منش دوستوں کے ساتھ گھومتا ہے اور بگڑ جاتا ہے۔ بیٹی چڑچڑی ہو جاتی ہے لیکن اس سارے عرصے میں زبیدہ کی عادات و اطوار نہیں بدلتے وہ ایک باوفا بیوی کا حق ادا کرتی ہے اور ایک تابعدار بہو ہونے کا ثبوت بھی دیتی ہے۔ جب اس کی ساس بیمار پڑ کر صاحب فراش ہو جاتی ہے تو وہ اس کے ناروا سلوک کے باوجود بڑی خدمت کرتی ہے۔
یہ ایک رُلا دینے والا ڈراہ ہے اس میں ہمارے معاشرے کے پسماندہ اور پسے ہوئے طبقے کی بھرپور نمائندگی کی گئی ہے اور اچھے مستقبل کی خاطر ایک بیٹے اور شوہر کو قربانی دیتا ہوا دکھایا گیا ہے۔ اب وہ دائمی بیماری لے کر واپس آگیا ہے جس سے سب ناخوش ہیں، ماسوائے اس کی بیوی کے وہ آج بھی اسے اسی قدر پیار کرتی ہے۔
پردیس ایک ایسی کہانی ہے جو بہت عرصہ بعد ٹی وی پر دکھائی جارہی ہے، یہ کہانی کوئی نئی نہیں ہے صرف Refresh کی گئی ہے۔ اس سے لاکھوں خاندان جڑے ہوئے ہیں۔ یہ ایک سبق آموز کہانی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں