حکومت کا انتخابی اصلاحات کا اعلان 59

”پرنس ھیری اور میگھن مارکل“ کا تہلکہ خیز انٹرویو!

گزشتہ ہفتے کی سب سے بڑی خبر ”پرنس ھیری اور میگھن“ کا انٹرویو تھا جو کہ انہوں نے ”اوپرا“ کو دیا جس کو دنیا بھر میں کروڑوں لوگوں نے دیکھا۔ کم و بیش دنیا کے ہر اخبار اور ٹی وی چینل نے بریکنگ نیوز کے طور پر چلایا۔ امریکہ کی جدید میڈیا کی تاریخ میں ”اوپرا ونفری“ اور ”لیری کنگ“ دو بہت بڑے نام ہیں۔ لیری کنگ تو انتقال کر چکے ہیں لیکن اوپرا ابھی چاق و چوبند ہیں اور شروع سے ہی بولڈ انٹرویو کرنے کی شہرت رکھتی ہیں۔
مبینہ طور پر اس پلانٹڈ انٹرویو کے ذریعہ برطانیہ کی شاہی فیملی کو بدنام کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ شمالی امریکہ میں بسنے والے کروڑوں لوگوں نے اس انٹرویو میں لگائے گئے الزامات پر شدید تنقید کی ہے اور میگھن کو بڑے سخت الفاظ میں برا بھلا کہا گیا ہے۔ میگھن پہلے سے شادی شدہ اور طلاق یافتہ عورت ہے۔ اس کا پس منظر ایک چھوٹی موٹی ماڈل اور ایکٹریس سے زیادہ نہیں ہے۔ انٹرنیٹ پر اس کی نیم برہنہ تصویریں دیکھی جا سکتی ہیں۔ ہمارے ہاں تو شاید اس کو بہت برا سمجھا جاتا ہے لیکن مغربی معاشرے میں سب اچھا ہے۔ سیاہ فام ”میگھن“ نے پرنس ھیری کو جب اپنے دام الفت میں پھنسایا تو وہ اس بہت بڑے خواب کی تکمیل کرنے جارہی تھی جو ہر لڑکی دیکھتی ہے کہ وہ کسی پرنس کی زوجہ ہو، کسی شاہی خاندان کی بہو ہو۔ اس کے آگے پیچھے لوگوں کا ہجوم ہو، پروٹوکول ہو، جو بات وہ منہ سے نکالے فوری پوری ہو۔ اس کا عزت و مرتبہ سب سے ممتاز ہو۔ تبصرہ نگاروں کا کہنا ہے کہ میگھن شاید شاہی فیملی کے قابل نہیں تھی۔ اسی لئے وہ وہاں ایڈجسٹ نہیں ہو سکی اور دھیری کو لے کر کیلی فورنیا منتقل ہو گئی۔ ھیری چونکہ میگھن سے عمر میں کافی چھوٹا ہے اس لئے اتنا میچور بھی نہیں ہے۔ میگھن نے اسے پرنس سے عام آدمی بنا دیا ہے یعنی اس کی تنزلی کروادی ہے۔ یہ اسی اندھی محبت کا شاہکار ہے جس کا تذکرہ ہمیں تاریخ کے اوراق میں ملتا ہے۔ اسی طرح جہانگیر نے انارکلی کی محبت میں گرفتار ہو کر لافانی مقام پایا اور آج تک لوگ ان کی محبت کی مثالیں دیتے ہیں۔ اپنی محبت کی یاد میں تاج محل جیسا شاہکار کھڑا کردیا جو کہ صدیوں تک محبت کی نشانی کے طور پر زندہ رہے گا۔
میگھن کا الزام ہے کہ شاہی خاندان میں اس کے ساتھ جو سلوک روا رکھا گیا وہ ناقابل یقین ہے۔ پہلے پہل اسے قبول ہی نہیں کیا گیا، اس کی جیٹھانی کیٹ مڈلنٹن نے اس سے ناروا سلوک کیا۔
اس کا کہنا ہے کہ جب وہ پہلے بچے کی ماں بننے والی تھی تو اس پر بھی سب کو تشویش تھی کہ بچے کا رنگ کیسا ہو گا؟ یعنی بچہ کالا ہو گا یا گورا۔ یہ بات اس کو بہت بری لگی۔ اس نے ایک مرتبہ سوچا کہ میں اپنی زندگی ختم کر لیتی ہوں۔ اس قدر اس کو ستایا گیا کہ اس کا پاسپورٹ ضبط کرلیا گیا۔
میگھن اور دھیری کا کہنا ہے کہ پرنس چارلس بھی ہم سے اچھے طریقے سے بات نہیں کرتے تھے حتیٰ کہ بیٹے دھیری کا فون بھی اٹینڈ نہیں کرتے تھے۔ ڈیڑھ گھنٹہ کے اس انٹرویو میں دونوں نے شاہی فیملی پر خطرناک حملے کئے اور ان کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی۔
شاہی فیملی نے اس پر دعمل میں دیتے ہوئے تمام الزامات کو مسترد کردیا اور کسی الزام کا جواب نہیں دیا۔ یہ وہی تاج برطانیہ ہے جس نے کم و بیش پوری دنیا پر سینکڑوں سال حکومت کی ہے اور ان کی بادشاہت میں سورج غروب نہیں ہوتا تھا۔ انگلستان میں عام لوگ ان سے بہت پیار کرتے ہیں اور عقیدت رکھتے ہیں۔ اب بھی ملکہ برطانیہ کئی ممالک کی اعزازی ملکہ ہے یعنی یہ ممالک اب بھی اسی طرح شاہی فیملی کے ساتھ پیش آتے ہیں اور ان کا اکرام کرتے ہیں۔
شمالی امریکہ کی کثیر تعداد نے اس انٹرویو کو مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا ہے اور میگھن مارکل پر شدید تنقید کی ہے اور دھیری کو ایک رن مرید شوہر سے تعبیر کیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں