Police search for teacher who 'raped' students and made videos 42

پولیس کو طلبہ کا ”ریپ“ کرکے ویڈیوز بنانے والے استاد کی تلاش

سندھ کے ضلع خیرپور کے شہر ٹھری میرواہ میں پولیس نے طلبہ کا ریپ کرنے والے میرس کالونی کے رہائشی اور ریٹائرڈ سکول ٹیچر سارنگ شر کے خلاف انسداد دہشت گردی کا مقدمہ درج کرلیا۔

اس حوالے سے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو بھی وائرل ہوئی، جس میں ملزم کو ایک 11 سالہ بچے کا ریپ کرتے ہوئے دیکھا گیا۔ معاملہ سامنے آنے پر پولیس نے متاثرہ بچے کے والد زاہد حسین کی درخواست پر ملزم کے خلاف پاکستان پینل کوڈ (پی پی سی) کی دفعہ 377 کے تحت زنا کا مقدمہ درج کیا۔

تاہم سماجی تنظیموں نے احتجاج کیا کہ پولیس نے کیس میں درست دفعات نہیں لگائیں جبکہ سوشل میڈیا پر بھی خیرپور پولیس کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔

خیرپور کے رہائشی اور وکیل طارق مہیسر کا کہنا تھا: ‘پولیس کی درج کردہ ایف آئی آر میں مناسب دفعات نہیں لگائی گئیں اور چونکہ ملزم نے موبائل فون سے ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر پوسٹ کی لہٰذا اس کیس میں سائبر کرائم کی دفعات شامل کرکے چائلڈ پروٹیکشن ایکٹ کے تحت نیا کیس داخل کیا جائے۔’

ٹھری میرواہ کے مقامی افراد کے مطابق مذکورہ ٹیچر اس سے پہلے بھی ریپ کے کئی کیسوں میں ملوث رہے ہیں جبکہ دو سال پہلے بھی ان پر ایک طلب علم کے ریپ کا مقدمہ درج ہوا تھا مگر انہوں نے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے معاملہ دبا دیا۔

پولیس نے ایک اور متاثرہ بچے کے والد سکندر علی کی مدعیت میں ملزم کے خلاف پاکستان پینل کوڈ (پی پی سی) کے ساتھ ساتھ انسداد دہشت گردی کی دفعہ سات کے تحت مقدمہ درج کرلیا ہے۔ انسداد دہشت گردی کی دفعہ سات کا قانون 16 سال سے کم عمر بچوں کے ریپ سے متعلق ہے، جس کے تحت مجرم کو سزائے موت یا پانچ لاکھ جرمانے کے علاوہ عمر قید کی سزا ہوسکتی ہے۔

ایف آئی آر کے مطابق متاثرہ بچے کرونا وبا کے باعث سکول بند ہونے کی وجہ سے ملزم سارنگ شر کے پاس ٹیوشن پڑھتے تھے اور واقعے والے دن زاہد حسین کا بیٹا گلی میں موجود تھا جب ملزم اسے اپنے ساتھ لے گیا۔

ٹھری میرواہ پولیس تھانے کے سٹیشن ہاو¿س آفیسر (ایس ایچ او) دریا خان جتوئی نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ مذکورہ بچے کے ریپ کا واقعہ 13 جولائی کو پیش آیا مگر بچے کے والدین کو اس کا علم نہیں تھا۔

‘کچھ دن بعد جب واقعے کی ویڈیو وائرل ہوئی تو بچے کے والد نے ہم سے رجوع کرکے کیس کے اندراج کی درخواست کی، جس پر ہم نے پاکستان پینل کوڈ (پی پی سی) کی دفعہ 377 کے تحت زنا کا مقدمہ کیا مگر بعد میں ایک اور والد کی درخواست پر انسداد دہشت گردی کی دفعات شامل کرتے ہوئے ایک اور ایف آئی بھی درج کرلی ہے۔’
سوشل میڈیا پر مذکورہ ٹیچر کی جانب سے متعدد بچوں کے ریپ کرنے کے دعوو¿ں کے حوالے سے ایک سوال پر ایس ایچ او دریا خان جتوئی نے بتایا: ‘پولیس کو اس بات کا علم نہیں۔ ہمارے پاس دو بچوں کے والدین آئے ہیں، بظاہر لگتا ہے کہ دو بچوں کے ساتھ ہی ریپ ہوا ہے۔ پولیس اس حوالے سے تفتیش کر رہی ہے۔’

ان کا مزید کہنا تھا کیس میں ایک ہی ملزم نامزد ہے جس کی گرفتاری کے لیے انہوں نے کئی شہروں میں چھاپے مارے ہیں اور امید ہے کہ بہت ہی جلد ملزم کو گرفتار کرکے عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

دوسری جانب سینیئر سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس ایس پی) خیرپور میرس امیر سعود مگسی کا کہنا ہے کہ ریپ کی تصدیق کے لیے متاثرہ بچوں کا میڈیکل چیک اپ کیا گیا ہے، جس کی رپورٹ کا انتظار ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں