Jamal Siddiqui Columnist at Pakistan Times Chicago and Toronto 122

پیر سائیں آیا

پیر عبدالکریم کاروباری شخصیت تھے۔ معمولی پڑھے لکھے تھے اپنے کاروبار میں مگن رہتے تھے اور اپنے کام سے کام رکھتے تھے ۔لیکن ہفتے کے دو دن حاجت مندوں کے لئے مخصوص کئے ہوئے تھے۔مسائل سنتے تھے ان کا حل بھی بتاتے اور دعاوں سے بھی نوازتے تھے۔جب کہ سائل تعویزوں کے اتنے عادی تھے کہ مطمئن نہیں ہوتے تھے کہ بھلا بغیر تعویز کے بھی کوئی مسئلہ حل ہوسکتا ہے لیکن پیر عبدالکریم کسی نا کسی طرح ان کو مطمئن کردیتے تھے یہ سب کچھ وہ اللہ کے نام پر کررہے تھے اور کسی سے کوئی پیسہ نہیں لیتے تھے۔شائید یہی وجہ تھی کہ لوگوں کو ان پر اعتبار تھا کہ یہ کسی لالچ میں یہ سب نہیں کرتے ہیں۔ اور شائید میرے ان کی طرف متوجّہ ہونے کی وجہ بھی یہی تھی میں حیران تھا کہ ایک شخص کا اچھّا بھلا کاروبار ہوتے ہوئے بھی ان کو یہ سب کرنے کی کیا ضرورت تھی ویسے ان سے باتیں کرنے میں بڑا مزہ آتا تھا۔
پیر عبدالکریم نے میری طرف ایک نگاہ ڈالی اور ایک ٹھنڈی سانس بھر کر کہنے لگے تو گویا آپ پوری کہانی سنے بغیر جان نہیں چھوڑیں گے۔میں نے مسکراکر جواب دیا آپ کو تو معلوم ہے۔ چلو آج میں سنا ہی دوں پیر صاحب نے حامی بھرلی ۔پہلے تو میں ڈرتا تھا لیکن اب سوچتا ہوں کہ لوگوں سے کیا ڈرنا ڈرو تو صرف اپنے خدا سے ڈرو ان کی بات سن کر میرے چہرے پر اطمینان کی ایک لہر دوڑ گئی ۔پہلے تو تمھیں تمہید سننا پڑے گی پھر میں اصل کہانی کی طرف آوں گا ۔میں نے حامی بھرلی اور ہمہ تن گوش ہوگیا۔
پیر صاحب نے ایک لمحے کے لئے کچھ سوچا اور پھر کہنا شروع کیا ۔ہم مسلمان اور خاص طور پر انڈیا اور پاکستان کے مسلمان مذہب کے معاملے میں بہت جذباتی ہوتے ہیں اللہ کے نام پر کچھ بھی کر گزرنے کو تیّار ہوجاتے ہیں اور کچھ شیطان صفت لوگ ہماری اس کمزوری سے فائدہ اٹھاکر اپنی جیبیں گرم کرتے ہیں۔ کسی شخص نے اللہ کے نام پر مسجد ،مدرسے ،یتیم خانے کو ایک کاروبار بنایا ہوا ہے تو کسی نے بھیک مانگنے کو کاروبار بنالیا ہے بے شمار لوگ اللہ کے نام پر ان کو پیسے دیتے رہتے ہیں کچھ یہ بھی کہتے ہیں کہ ہم نے تو اللہ کے نام پر دے دئیے ہیں اب ان کا ایمان جانے جب کہ ایمان تو ایسے لوگوں کے پاس ہوتا ہی نہیں ہے لیکن ایسا کرنے اور سوچنے سے کئی مستحق افراد مدد سے محروم ہوجاتے ہیں۔اس کے علاوہ پیری مریدی کا ایک جال پورے ملک میں پھیلا ہوا ہے۔کراچی میں بہت زمانے پہلے فیڈرل ایریا میں ایک صاحب ہوتے تھے شام کو جب وہ اپنی نوکری ختم کرکے گھر آتے تھے۔اپنے کمرے میں بستر پر لیٹ جاتے تھے اور بقول ان کے اور لوگوں کے کہ ان پر پری آجاتی ہے اور پھر وہ صاحب نہیں ہوتے تھے بلکہ باجی صاحبہ کہلاتے تھے۔ ان کا کمرہ خواتین سے بھرا ہوتا تھا اور وہ ایک ہاتھ سے بوتل میں بھرے پانی پر پھونک پھونک کر ان کو دیتے جاتے تھے اور دوسرے ہاتھ سے پیسے لے لے کر تکیے کے نیچے۔یہ انہوں نے پارٹ ٹائم دھندہ بنایا ہوا تھا ،اسی طرح ایک پیر صاحب جو کہ تعویز گنڈے بھی کرتے تھے اور ایک رسالہ بھی نکالتے تھے انتقال کے بعد ان کے صاحبزادے نے گدّی سنبھالی ،ان کے آفس میں لوگوں کو ریٹ کے مطابق بٹھایا جاتا تھا یعنی جو تین ہزار دے گا اس کو پیر صاحب کے پاس جلدی بھیجا جائے گا اس کے بعد دو ہزار والے اور آخر میں ایک ہزار والے یعنی اللہ کے کلام کے بھی ریٹ لگائے ہوئے تھے ایسے بے شمار کردار تھے اور ہیں اور لوگ ان کے ہاتھوں خوب بے وقوف بنتے ہیں۔پریشانیوں میں براہ راست اللہ سے مانگنے کے بجائے ان جعلی پیروں کے در پر پڑے رہتے ہیں۔اور صرف ہمارے ملک کی حد تک نہیں بلکہ ان پیروں کی امریکہ ،برطانیہ ،کینیڈا کے اخبارات میں خوب اشتہارات کی مہم چلی ہے اور ڈالروں میں ادائیگی ہوئی ہے سوچنے کی بات یہ ہے کہ اگر ان کے علم میں اثر ہے تو کیا ہمارے ملک میں مسائل کم ہیں اگر یہ واقعی حاجات پوری کرتے ہیں تو اپنے ہی ملک میں ان کو چوبیس گھنٹے سر
اٹھانے کی فرصت نا ملے لیکن یہ ہزاروں میل دور بیٹھے لوگوں کو بھی چونا لگانے سے باز نہیں آتے ہیں ان کے پاس کوئی علم نہیں ہوتا صرف لوگوں کو لوٹنے اور دھوکہ دہی سے پیسہ کمانے کی ہوس اور ان کے دعوے تو ایسے ہوتے ہیں جیسے نعوذ وبا اللہ تمام اللہ تعالی’ کے کام اپنے ذمّے لے لئے ہوں پیر صاحب ایک وقفے کے لئے خاموش ہوئے۔ اور میں یہ سب سن کر اس لئے حیران ہورہا تھا کہ یہ خود پیر ہیں اور ان کے خیالات پیروں کے بارے میں ایسے ہیں شائید وہ میرے چہرے سے میرا سوال سمجھ گئے اور مسکراکر کہنے لگے میاں ہمارے پاس بھی کوئی علم نہیں ہے دراصل ہمارے بھی ایک پیر صاحب تھے اور انکو مٹّی والے با با کہا جاتا تھا انہوں نے مجھے اپنا گدّی نشین بنایا تھا بس اسی کو نبھارہا ہوں میں نا کوئی تعویز دیتا ہوں نا کوئی پیسہ لیتا ہوں حاجت مندوں کے لئے صرف اللہ تعالی’ سے گڑ گڑاکر دعا مانگتا ہوں کہ یا اللہ تو ان کی مشکل آسان کردے شائید اس گناہ گار کی دعا سن لی جائے قرآن شریف کی آیات پڑھ کر دم بھی کرتا ہوں کہ اس میں بھی بڑی تاثیر ہے ۔ اللہ تعالی’ نے قرآن شریف کی صورت میں ہمیں ایک نعمت عطا کی ہے جس میں تمام مسائل کا حل اور تمام بیماریوں کا علاج پوشیدہ ہے اس کو پڑھنے اور سمجھنے کی ضرورت ہے بات صرف اعتقاد کی ہے شائید ان لوگوں کو اس بات کا یقین نہیں ہے کہ ان کے مسائل اور علاج کا حل قرآن شریف میں موجود ہے اور یہ لوگ دوسرے لوگوں کے پیچھے بھاگتے ہیں نوّے فیصد ہمارے مسائل کا تعلّق دنیاوی خواہشات اور لالچ سے ہوتا ہے۔ اچھّا خاصہ کاروبار ہوگا سکون کی زندگی ہوگی لیکن کاروبار میں
برکت کی خود دعا کرنے کے بجائے تعویز مانگے گا اور اس کا معاوضہ بھی دے گا گویا یہاں بھی کاروبار کررہا ہے۔کسی خاتون کی بیٹی کی شادی نہیں ہورہی ہے پیر صاحب سے تعویز مانگنے آئیں گی تو خواہش یہ ہوگی کہ لڑ کا بہت تعلیم یافتہ اور مال دار ہو انکم ٹیکس ، کسٹم میں ہو تو کیا بات ہے۔ہم اللہ کی نافرمانی بھی کرتے ہیں گناہ بھی کرتے ہیں اللہ کو ناراض رکھتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ یہ اعتماد نہیں ہوتا کہ اللہ ہماری سنے گا اور ہم دوسرے سہارے تلاش کرتے ہیں انسان وہ واحد مخلوق ہے جس سے اللہ تعالی’ اتنا پیار کرتا ہے کہ بار بار موقع دیتا ہے اور توبہ کے دروازے ہمیشہ کھلے رکھتا ہے۔ پیر صاحب کچھ دیر کے لئے خاموش ہوئے اور پھر کہنے لگے اچھّا تو اب میں آتا ہوں اپنی کہانی کی طرف اور میں نے ایک لمبا اطمینان کا سانس لیا۔ میری کہانی بہت مختصر ہے میں دنیا میں یک وتنہا تھا جب کچھ پریشانیوں میں گھر گیا نوکری نا رہی تو مٹّی والے بابا کا رخ کیا بابا نے دو ہزار روپے کا تقاضہ کردیا بھلا میرے پاس اتنے پیسے کہاں تھے بہت منّت سماجت کی دو دن کی کوششوں سے وہ اس وعدے پر راضی ہوگئے کہ نوکری ملنے پر پیسے مل جائیں گے بابا نے مٹّی کا ایک تھیلا مجھے تھمادیا اور کہا کسی فٹ پاتھ پر اس مٹّی کو تھیلے سے باہر ڈال دو اور اس کا تکیہ بناکر سر رکھ کر سوجاو صبح نوکری پکّی شکر ادا کیا کہ بابا کے پاس سردیوں میں نہیں آیا ۔بہرحال ایسا ہی کیا صبح ایک ٹھوکر سے آنکھ کھلی دیکھا تو ایک لحیم شحیم آدمی کھڑا تھا کہنے لگا شائید نوکری نہیں ہے چل میرے ساتھ ۔بس میں تو فوراً ہی بابا کا غلام ہوگیا۔ اس لحیم شحیم شخص کا نام ہاشم خان تھا شہر کے تمام بھکاری اڈّوں کا مالک اس نے ایک اڈّہ مجھے تھمادیا جو اس نے ایک لاکھ میں خریدا تھا۔ میں نے اڈّہ سنبھالنا تھا اور ہاشم خان کو اس کا حصّہ دینا تھا بابا کے پیر چھوکر جب تمام ماجرہ سنایا تو وہ خود حیرانی سے مٹّی کے تھیلوں کی طرف دیکھ رہا تھا تو میاں تم سوچ بھی نہیں سکتے کے میں نے اس اڈّے سے کتنا پیسہ بنایا یہ ایک بہت بڑا کاروبار ہے پیسے جمع کرکے میں نے اس نوکری پر لات ماری اور اپنا دوسرا کاروبار شروع کردیا آج تمھارے سامنے ہوں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں