سندھ ووٹ کو عزت دو، فوج کو عزت دو ہو چکا ہے 112

پی آئی اے کا بوجھ

جمال صدیقی نے مجھ سے پوچھا کہ پاکستان کو چھوڑ کر کیوں آگئے؟ وہ جانتے تھے کہ پاکستان میں اور پی آئی میں بہت اچھی نوکری کے ساتھ ساتھ بہترین گھر اور اعلیٰ خاندانی معیار زندگی کا حامل ہونے کے باوجود کوئی ظاہری مجبوری نہیں تھی کہ میں ترک مکانی کروں۔ میں نے جواب میں کہا کہ اب پاکستان میں رہنے کے لئے دو ہی راستے بچے تھے۔ ایک میں لوٹ مار کرنے والے طبقے میں شامل ہو کر کمزور طبقے کے لوگوں کو لوٹتا رہوں یا دوسرا راستہ یہ تھا ہم اس طبقے میں شامل ہو جائیں جن کو مسلسل لوٹا جائے۔
میں با آسانی لوٹنے والے ڈاکوﺅں میں شامل ہو کر معصوم عوام کے ساتھ نا انصافیوں میں شامل ہو جاﺅں جو میرا ضمیر گوارا نہیں کرتا تھا یا میں بھی مسلسل بے انصافی کا شکار ہو کر مظلوموں میں شامل ہو جاﺅں اس لئے میں نے کینیڈا آنے کا فیصلہ کیا۔
پاکستان میں پی آئی اے کی نوکری کے ساتھ ساتھ اعلیٰ معیار زندگی اور اقدار کو خیرباد کہہ کر ترک وطن کرلی۔ پی آئی اے میں بھی ہم جیسے سینئر اور اعلیٰ تعلیم یافتہ افسران مسلسل بے انصافیوں کا شکار ہو رہے تھے ہر شعبہ میں نا اہل ہمارے سروں پر مسلط کئے جارہے تھے جن کو کام کے بجائے اپنے ذاتی مفادات عزیز تھے۔ پرموشن اور پوسٹنگ کے لئے بھی وہ ہی منتخب کئے جارہے تھے۔ ادارہ دن بہ دن خسارہ میں جارہا تھا اور تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا تھا۔ مجھے یہ بھی معلوم ہوا کہ ادارہ کی نجکاری کی جارہی ہے لیکن وہ ہو نہیں سکتی جب تک سیاسی کاروبار چل رہا ہے ان کے پیروکاران اداروں کو مکمل نہیں لوٹ لیتے۔ میں دل برداشتہ ہو کر کینیڈا میں آگیا لیکن جب ادارے کی دوبارہ محبت آئی تو میں نے واپس جا کر ادارے کا جو حال دیکھا وہ اس سے بھی زیادہ برباد ہو چکا تھا۔ پی آئی اے کا دکھ درد رکھنے والے انتہائی پریشانیوں کا شکار ہو چکے تھے۔
طویل چھٹیاں ختم کرکے جب پہلے دن آفس پہنچا تو پورے آفس کا نقشہ ہی تبدیل ہو چکا تھا۔ ڈیپارٹمنٹ کا مختصر سا سیکشن افسران سے بھرا پڑا کام کی نوعیت کے اعتبار سے افسران کی تعداد بہت زیادہ تھی اس کے باوجود تمام کام ٹھپ پڑا ہوا تھا جو نئے افسران بھرتی ہو کر آئے تھے وہ کام کرنا نہیں چاہتے تھے یا وہ کام کرنے کے اہل ہی نہیں تھے کیونکہ ان کی بھرتی سیاسی اثر رسوخ کی بناءپر ہوئی تھی ان پر کسی کو باز پرس کی ہمت نہیں تھی جو کام کرنا چاہتے تھے ان کو کام کی سمجھ ہی نہیں تھی نہ ان کی قابلیت نہ تربیت نہ تجربہ اس لئے وہ کام کرنے سے قاصر تھے جو رہے سہے افسران تھے وہ بھی ان کی دیکھا دیکھی کام کرنے پر آمادہ نہیں تھے۔ پورے آفس میں اک ہی بندہ کام کا تھا وہ تھا ذیشان۔ ذیشان نے کمپیوٹر سائنس میں گریجویشن کیا ہوا تھا۔ جس کی وجہ سے کمپیوٹر پر بھی عبور حاصل تھا ساتھ اس کو انگریزی پر بھی مہارت حاصل تھی جس کی وجہ سے اس کی طلب بے تحاشہ تھی۔ کوئی افسر اس سے انگریزی میں خط لکھوانا چاہتا، کوئی اس کو ملے ہوئے خط کا جواب دلوانا چاہتا، کسی کو کمپیوٹر سکھانا، کوئی اور ایسا کام جو ان افسران کی سمجھ میں نہیں آتا وہ صرف ذیشان کو بلاتے۔ ذیشان دن بھر ان کے کاموں میں مشغول رہتا، کبھی فارغ ہوتا اس سے چائے کی فرمائش شروع ہو جاتی، کوئی اس سے کینٹین سے کھانا منگواتا، کوئی اپنے ذاتی کام سے باہر بھجواتا۔ ذیشان سب کے آفیشل کاموں کے ساتھ ساتھ ان کے ذاتی کام بھی نبٹاتا۔ کبھی کسی کے کام میں غفلت ہو جاتی تو اس کو یہاں سے تبادلے کی دھمکی دی جاتی، ذیشان جانتا تھا کہ یہ افسران نا اہل ہونے کے باوجود بڑے تعلقات والے ہیں وہ اس کو کسی وقت بھی نکال باہر کر دیں گے وہ وہاں کام تو وہ کچھ کرتا جو افسران کے ذمہ تھے جن کو وہ افسران خود ادا کرنے سے قاصر تھے۔ اس کے باوجود وہ ذیشان کا تبادلہ کروا سکنے کی حیثیت میں تھے کیوں کہ ذیشان تمام قابلیت کے باوجود ہمارے آفس میں لوڈر کی ملازمت کررہا تھا وہ بھی ڈیلی ویجز یا کانٹریکٹ پر۔
یہ نوعیت صرف ہمارے آفس تک ہی نہیں محدود تھی بلکہ پورے ڈیپارٹمنٹ کا ہی یہی حال تھا ہر جگہ افسران کی بہتات، چند گنے چنے کام کرنے والے وہ بھی وقت ملازم جو کہ اپنی ملازمت بچانے کے لئے اپنی حیثیت سے زیادہ کام انجام دینے کے باوجود نکالے جانے کی تلوار کے سائے میں کام کرنے پر مجبور تھے۔ میرا خیال یہی تھا جو حال ہمارے سیکشن کا تھا وہی پورے ڈیپارٹمنٹ کا تھا اس طرح پورے ادارے کا حال یہی حال تھا یعنی قابل با صلاحیت گنے چنے افراد پر ان اہل افسران کی فوج جو کہ اپنے تعلقات کی وجہ سے ادارے پر مسلط تھے یہ نوعیت تو ان افسران کی تھی جو سیاسی بنیادوں پر بھرتی ہو کر آئے یا اپنے تعلقات کی وجہ سے وہ ادارے میں ہر جگہ بے حساب پائے جاتے تھے ان کی تعلیمی قابلیت نا کافی ان کی اہلیت صفر، وہ ادارے پر بوجھ مگر ان کو اپنی جگہ سے ہٹانے کا کوئی سوچ بھی نہیں سکتا کیونکہ مختلف اداروں کے سربراہ بھی سیاسی بنیادوں پر یا رشتہ داروں کی وجہ سے اداروں میں مسلط تھے۔ یہی حال نیچے سے اوپر تک کا تھا۔ مگر ان بے چارے ڈیلی ویجنز کانٹریکٹ کے ملازمین اپنے اپنے اداروں میں کام کے بے پناہ دباﺅ کے باوجود بے یارومددگار تھے وہ قابلیت میں ان افسران سے لاکھ درجہ بہتر ہونے کے باوجود اعلیٰ تعلیم یافتہ اور اپنے اپنے کاموں کے ماہر مگر ان کی نوکری کا ایک ایک لمحہ ان کے سر پر تلوار کی طرح بھاری۔ وہ اپنے اپنے اداروں میں اپنی نوجوانی کے ابتدائی دور میں اداروں کے ملازم ہوتے تھے ایک طویل عرصہ گزارنے کے باوجود وہ مستقل ملازمت کی امید پر اپنی جوانی کا بھرپور عرصہ گزار چکے تھے۔ اس دوران انہوں نے شادیاں بھی کیں، صاحب اولاد بھی ہو گئے ان کے خاندان اس مختصر سی تنخواہ میں زندگی گزارنے کے عادی ہو چکے تھے اور اپنے نصیب کے لکھے کو اپنی تقدیر سمجھ کر ہر برے وقت کا مقابلہ کررہے تھے۔
میرے آفس واپس پہنچنے کے بعد ذیشان کو امید ہوئی کہ شاید اس کے حالات کچھ بہتر ہو جائیں کیونکہ وہ یہ جانتا تھا کہ میں آفس میں موجود افسران سے کام نہیں لے سکوں گا۔ اس لئے کہ پورا نظام ہی اوپر سے نیچے تک بگڑا ہوا تھا یہ حقیقت تھی کہ میں اس نظام کو درست کرنے کی حیثیت میں نہیں تھا مگر ذیشان کو مجھ سے ذاتی طور پر بہت امید تھی۔ سیکشن کام کچھ بہتر ہو جائے گا میں خود مایوس ہو چکا تھا۔ کام میں بہتری کا خیال چھوڑ چکا تھا اور بہتری اور نہ ہی میں یہ چاہتا تھا کیونکہ میں خود اس ادارے میں اس طرح کے ماحول میں کام کرنے کے لئے تیار نہ تھا وجہ صرف یہ تھی کہ میں نے ادارے کی ملازمت ختم کرکے واپس کینیڈا جانے کا فیصلہ کر لیا تھا کیونکہ میں بھی اپنی گزرتی جوانی کو اس ادارے کی ملازمت میں ضائع کرنا نہیں چاہتا تھا وجہ یہ تھی کہ میرے اوپر بھی جو لوگ مسلط تھے وہ انتہائی نا اہل ہونے کے باوجود بیرون ملک ٹرانسفر پوسٹنگ کے اہل ہوتے کیونکہ وہ اپنے کسی سیاسی رشتہ دارے سے سفارش لگو اکر اپنی من پسند پوسٹنگ حاصل کررہے تھے اور جو میری طرح اہل تھے وہ اپنا سا منہ لے کر رہ جاتے۔ اس لئے میں نے تو ادارے میں پچیس تیس سال انتہائی دیانت اور ذمہ داری سے نوکری کرنے کے بعد کینیڈا جانے کا فیصلہ کر لیا تھا میرا یہ فیصلہ ایک حد تک خودغرضی پر مبنی تھا مگر ذیشان اور اس جیسے نہ جانے کتنے ذیشان اپنی اپنی جوانیوں کا بہترین دور گزارنے کے باوجود ڈیلی ویجز تھے نہ ان کو میڈیکل کی سہولت، نہ ہی بیرونی ممالک سفر کی اجازت کیونکہ وہ مستقل ملازمت نہیں رکھتے تھے وہ سال بھر بغیر چھٹی کے اپنی نوکری کو بچاتے رات دیر تک اپنے فرائض انجام دیتے۔ ایک روز ذیشان پریشانی کی حالت میں گھبرایا ہوا میرے پاس آیا اس کی آنکھوں میں آنسو تھے، صاف دکھائی دے رہے تھے اس نے مجھے بتایا کہ اس کا ساتھی سرور گزشتہ رات دیر تک آفس کے کام ختم کرکے گھر پہنچا تو رات اس کو اسٹروک ہو گیا اس کو جب ادارے کے میڈیکل ہاسپٹل لے جایا گیا تو انہوں نے اس کا علاج کرنے سے صاف انکار کردیا کیونکہ وہ ڈیلی ویجنز کا کانٹریکٹ ملازم تھا۔ ذیشان سرور کو حکومت کے سرکاری ہسپتال میں بھرتی کروا کر صبح اپنی ڈیوٹی پر حاضر ہو گیا اس کو میری مدد کی ضرورت تھی میں اس کی مدد سے قاصر تھا کیونکہ مجھے معلوم تھا کہ ہمارا ادارہ اس بیمار ملازم کا علاج کرنے کا اختیار نہیں رکھتا تھا۔ میں نے اپنی جیب سے سو ڈالر کا نوٹ پکڑوایا اور خود اپنا لیٹر لینے ایچ آر ڈیپارٹمنٹ کی طرف روانہ ہو گیا۔ وہاں جا کر اپنا ڈسچارج لیٹر لیا اور رات کی فلائٹ سے کینیڈا روانہ ہو گیا اپنے سر پر خودغرضی کا سودا سوار کرکے۔ آج کافی عرصہ بعد پاکستان کی خبروں سے معلوم ہوا کہ پاکستان میں ہر ادارے سے ان ڈیلی ویجنز ملازمین کو فارغ کردیا گیا ہے جو ادارے پر کافی عرصہ سے بوجھ بنے ہوئے تھے۔ دوسری خبر یہ تھی کہ ادارے کی تباہ حالی کی وجہ سے اس کی نج کاری کردی گئی ہے کہ وہ مزید بوجھ اٹھانے کی سکست نہیں رکھتا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں