Hanif Dawami Columnist at Pakistan Times Chicago and Toronto 104

پی ڈی ایم کا ایمپائر کون؟

کیا پاکستان میں اپوزیشن پارٹیوں کے اتحاد پی ڈی ایم کو واقعی کسی ایمپائر کی انگلی اور اس کے اشارے کا انتظار ہے؟ اور کیا پی ڈی ایم کی یہ تحریک اور ان کے استعفیٰ عمران خان کی حکومت کے خاتمے کا باعث بن سکتی ہے؟ یہ وہ سوال ہے جو ان دنوں پورے ملک کے سیاستدان اور ان کے ورکرز ایک دوسرے سے پوچھ رہے ہیں جب کہ خود حکومتی حلقوں اور حکومت کے پس پردہ کام کرنے والی قوتیں بھی ایک دوسرے سے یہ سوالات پوچھتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ آخر ملک میں کیا ہونے جا رہا ہے۔
پی ڈی ایم اپنے طور پر حکومت کے خلاف متحرک ہو گئی ہے یا پھر ان کی ڈوریں وہی سے ہلائی جا رہی ہیں جہاں سے عموماً اس طرح کی اپوزیشن کی تحریکوں کی ڈوریاں ہلائی جاتی ہیں، ایسا کرنے کا مقصد صرف حکمران پارٹی پر نفسیاتی دباﺅ ڈال کر ان سے اپنے حسب منشاءکام نکلوانا ہوتا ہے۔ ماضی میں ایسا ہی ہوتا آرہا ہے، ممکن ہے کہ اب بھی کچھ ایسا ہی ہونے جا رہا ہو، جس کا علم کس اور کو ہو یا نہیں لیکن وزیر اعظم عمران خان کو ضرور اس کا علم ہو گا کہ ایسا کون سا کام ہے جو ان سے کہا گیا ہو اور انہوں نے اس کو کرنے سے انکار کردیا ہو؟ کیونکہ ایسی کوئی اور وجہ سامنے نہیں آرہی ہے جس سے یہ معلوم ہو سکے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ راتوں رات پی ڈی ایم اتنی متحرک ہو گئی ہے، جنہیں خود بھی اب اس کا اندازہ ہوچکا ہے کہ وہ اور ان کی پارٹیاں گملے کے پودے بن چکے ہیں ان کی جڑیں عوام میں نہیں ہیں اس لئے وہ جلسہ جلوس یا کسی بھی تحریک کے ذریعے حکومت کے خلاف کچھ بھی نہیں کر سکتے لیکن اس کے باوجود وہ سب مل کر نہ صرف جلسے کررہے ہیں بلکہ تحریک بھی چلا رہے ہیں اور اب انہوں نے استعفیٰ استعفیٰ کھیلنے کا سلسلہ بھی شروع کردیا ہے یعنی اپنے حقیقی اتحاد کا ثبوت دینے کے لئے پی ڈی ایم میں شامل اس پارٹی کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کے پاس استعفیٰ رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ جو بدقسمتی سے خود بھی کسی اسمبلی کا ممبر نہیں لیکن اسمبلی کے دوسرے ممبروں کو اپنی طرح سے اسمبلی کی رکنیت سے محروم کرنے کے اس کام میں آگے آگے ہے، کہنے کا مقصد یہ ہے کہ اب پی ڈی ایم کے پاس استعفوں کا یہ آخری آپشن ہے اور ممکن ہے کہ یہ بھی کسی جانب سے ملنے والے اشارے کے بعد ہی کیا جارہا ہو تاکہ ان قوتوں کو یہ یقین دلایا جائے کہ ہم سب آپس میں ایک ہیں جس کا ثبوت ہمارے یہ استعفیٰ ہیں اور اگر اپوزیشن کی پارٹیاں ایسا کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہیں تو اس کے بعد کیا ہو گا؟
کیا اس سے حکومت چلی جائے گی؟ اس کے بعد عمران خان کے پاس نئے الیکشن کروانے کے اور کوئی آپشن نہیں بچے گا، اب پی ڈی ایم کا پریشر عمران خان کی حکومت پر اس وقت مزید بڑھ سکتا ہے اگر پی ڈی ایم کا 13 دسمبر کو لاہور میں ہونے والا جلسہ کامیابی کے سارے ریکارڈ توڑ دے، یعنی دوسرے معنوں میں پی ڈی ایم کے 13 دسمبر کے لاہور کا جلسہ بھی حکومت کی کایہ پلٹنے میں سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔ حکمتی تابوت میں آخری کیل ثابت ہونے کا انحصار اب لاہور کے جلسے کے رزلٹ پر ہے، یہ ہی وجہ ہے کہ پنجاب کی حکومت بھی مختلف ہتھکنڈوں کے ذریعے لاہور کے اس تاریخی جلسے کو سبوتاژ اور اسے ناکام بنانے کے لئے ہر ممکن داﺅ پیج استعمال کررہی ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ لاہور کا جلسہ کیا رنگ لاتا ہے، یہ ساری کوششیں پی ڈی ایم کی جماعتیں تو اپنے طور پر کررہی ہیں لیکن عمران خان کی حکومت کو یہ گلہ اور شکوہ ہے کہ پی ڈی ایم یہ سب کچھ اپنے طور پر نہیں بلکہ انہیں ضرور کسی جگہ سے اشارہ ملا ہے جس کی وجہ سے یہ اتنے متحرک ہو چکے ہیں، کسی جگہ سے ضرور ان پر ہاتھ رکھا گیا ہے، جس کی وجہ سے ان میں اتنی بجلی بھر گئی ہے، جیسے خدانخواسطہ ان کے ہاتھ میں حکومت آرہی ہے یا پھر نیب کے محکمے پر کوئی آسمانی آفت گرنے والی ہے جس سے وہ تباہ ہ وبرباد ہو جائے گا اور اس کے بعد نہ رہے گا بانس نہ بجے کی بانسری کے مصداق ان کے خلاف ہونے والے کرپشن کے سارے مقدمے بھی اپنی موت آپ مر جائیں گے اور ان کے خلاف کوئی بھی کارروائی نہیں کر سکے گا، کچھ اس طرح کی یقین دہائی یا پھر لالی پاپ ان اقتدار سے محروم سیاستدانوں کو دیا گیا ہے جو اقتدار کے بغیر بیمار پڑ گئے ہیں اور اپنے علاج معالجے کے لئے بھی جلسہ جلوس اور تحریک چلانے کے بہانے عوام کے پاس آئے ہیں، انہیں یقین ہے کہ وہ جس مقصد کے لئے یہ تحریک چلا رہے ہیں اس میں انہیں ضرور کامیابی ملے گی اور اب لاہور کا 13 دسمبر کا جلسہ ہی ان کی امیدوں کا مرکز بن گیا ہے اس جلسے کا رزلٹ بھی یا تو ان کی مشکلات میں اضافے یا پھر ان کی راحت کا سامان بنے گا۔
عمران خان اور ان کے حواریوں کو چاہئے کہ اپوزیشن کے ان تحریکوں اور جلسہ جلوسوں سے خائف نہ ہو بلکہ ان کو سبوتاژ کرنے کے لئے اپنی ترقیاتی کاموں کی رفتار میں اضافہ کریں اور عوام کو مہنگائی کے بوجھ سے باہر نکالنے کے لئے انہیں زیادہ سے زیادہ ریلیف دیں تاکہ عوام کو پی ڈی ایم کے نعروں اور ان کے بہکاوے میں آنے کی نوبت ہی پیش نہ آئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں