خود غرض اور انا پرست حکمران 157

ڈائریکٹوریٹ آف پاسپورٹ میں بیٹھی کالی بھیڑوں کو پکڑیں

پاسپورٹ کسی بھی ملک کی شہریت حاصل کرنے کا ذریعہ ہے۔ یہ کس قدر اہم دستاویز ہے کہ جس کا اندازہ شاید ہم وطنوں کو نہیں یا پھر رشوت ستانی اور مہنگائی نے ان اداروں میں بیٹھے ہوئے ملازمین کو مجبور کردیا ہے کہ وہ بغیر چھان بین اور بغیر کاغذات کی تکمیل کے یہ اہم دستاویز غیر ملکیوں کو جاری کر دیتے ہیں۔ ماضی میں ایسے واقعات سامنے آتے رہے ہیں کہ بیرون ممالک میں بھیک مانگنے والے پکڑے گئے، ڈرگ اسمگلنگ میں پکڑے گئے یا پھر غیر قانونی طریقہ سے پاکستانی پاسپورٹ تحویل میں لئے، افغانی باشندے گرفت میں آئے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ افغان مہاجرین نے یہ اہم دستاویز کس طرح اور کس کے کہنے پر حاصل کرلی۔ اس وقت پاکستان خصوصاً کراچی میں بڑے بڑے کاروبار اور جائیدادیں افغان باشندوں کے ہاتھوں میں ہیں یہ لوگ رشوت ستانی کا بازار گرم کئے ہوئے ہیں اور پورے ملک کو یرغمال بنا رکھا ہے۔ لاقانونیت کے بے قابو ہو جانے کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ یہ لوگ پاکستان کی شہریت جیب میں رکھ کر پاکستان کو سرعام گالیاں دیتے ہیں۔ زیادہ وقت نہیں گزرا جب کرکٹ اسٹیڈیم میں بھی میچ ہار جانے پر پاکستانی اور افغان باشندوں میں جنگ کا سماں پیدا ہو گیا تھا۔ یاد رہے کہ سعودی عرب نے 12 ہزار افغان باشندوں سے پاکستانی پاسپورٹ برآمد کئے تھے جب کہ سعودی حکام نے جب پاکستانی حکام سے رابطہ کیا تو حسب روایت ایک انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی گئی۔ موجودہ چیئرمین نادرا جنرل منیر جو کہ آن ڈیوٹی لیفٹیننٹ جنرل ہیں، شاید کہ اس ادارے کو کالی بھیڑوں سے پاک کر سکیں مگر کیا ہماری سرحدیں محفوظ ہیں، جس کی ذمہ داریاں بھی ان جیسے کئی لیفٹیننٹ جنرلز کو ادا کرنی چاہئے تھیں۔ ان وردی والوں کا کام دفتر میں بیٹھ کر حکم چلانا نہیں بلکہ ان کا کام سرحدوں کی حفاظت ہے مگر اللہ بھلا کرے ہمارے ملک کے بے شعور عوام کا کہ انہیں اس معاملہ کا شعور ہی نہیں کہ ان کے ساتھ کس قدر سنگین اور خطرناک کھیل کھیلا جا رہا ہے۔ ہمارے عوام کو آج بھی آنے والے حالات کا ادراک نہیں ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ پاسپورٹ کے ناجائز اجرا کی انکوائری کے نتیجہ میں 84 افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔ ان پر الزام ہے کہ ڈائریکٹوریٹ آف پاسپورٹ کے یہ ملازمین جعلی دستاویزات کے ذریعہ، بغیر فنگر پرنٹ لئے یا تصویر کو ٹیمپر کرتے رہے ہیں، بتایا جارہا ہے کہ پاسپورٹ کا ڈیٹا کمپیوٹرائزڈ نہیں۔ مسئلہ نادرا کے ڈیٹا میں ہے جو کمپیوٹرائزڈ ہے۔
وجہ کچھ بھی ہو یہ ایک سنگین حقیقت ہے کہ موجودہ حالات میں جب کہ پاکستان سازشوں کی زد میں ہے۔ ہماری سیاسی جماعتیں باہمی دست و گریبان ہیں انتقامی کارروائیاں جاری ہیں۔ کچھ کی ماضی کی سزائیں معاف کی جارہی ہیں اور انہیں ماضی میں لگائے گئے۔ الزامات کی تحقیقات کرنے کے بجائے کلین چٹ دی جارہی ہے اور وہ لوگ جنہیں ان سیاستدان کو بے دخل کرنے کے لئے استعمال کیا گیا تھا۔ آج اسی ڈگر پر ڈال دیئے گئے ہیں، کوئی اس عمل کو روکنے کی طاقت نہیں رکھتا۔ نہ یہ پوچھنے کا روادار ہے کہ ان کے کیسز غیر اہم کیسے ہو گئے اور اگر ان حکمرانوں پر جھوٹ کھڑا گیا تھا تو اس کے ذمہ داروں کو کٹھہرے میں کون لائے گا۔ موجودہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا طوطی بول رہا ہے مگر دیکھنا یہ ہو گا کہ وہ کس حد تک طاقتوں کے آگے کھڑے رہیں گے۔ کیا وہ ان افراد کو جنہوں نے یہ پاسپورٹ جاری کئے، پابند سلاسل کرسکیں گے۔ کیا وہ بارڈر سے آنے والی ڈرگ کو روک سکیں گے۔ ان کے پاس بھی ایک سال ہی تو ہے۔ وہ یہ سب ایک سال میں کیونکر کرسکیں گے۔ پاکستان میں آوے کا آوا بگڑا ہوا ہے اور اسے ٹھیک کرنے والے ٹھکانے لگا دیئے جاتے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ پاکستان کا مستقبل تابناک ہوتا ہے یا پھر عبرتناک؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں