76

ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس کا ٹرائل پانچ سال بعد مکمل، فیصلہ محفوظ

اسلام آباد: متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے مقتول رہنما ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس کا پانچ سال بعد ٹرائل مکمل کرلیا گیا ہے۔ ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس میں بڑی پیش رفت ہوگئی ہے اور انسداد دہشت گردی عدالت نے کیس کا فیصلہ محفوظ کرلیا ہے۔
ایف آئی اے پراسیکوٹر خواجہ امتیاز احمد نے حتمی دلائل مکمل کرتے ہوئے کہا کہ ملزمان کا تعلق بھی ایم کیو ایم سے ہے، اشتہاری ملزمان بانی متحدہ الطاف حسین اور انور حسین کیخلاف عمران فاروق کے قتل میں ملوث ہونے کے ٹھوس شواہد موجود ہیں، ملزمان جرم کے مرتکب ہوئے انہیں قانون کے مطابق قرار واقعی سزا دی جائے۔
ایف آئی اے پراسیکوٹر نے عدالت استدعا کی کہ بانی متحدہ کی پا کستان میں منقولہ اور غیرمنقولہ جائیداد بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم دیا جائے، عدالت نے کہا کہ یہ حکم پہلے ہی دے چکے ہیں اب آپ ضبط کرنےکی کارروائی شروع کریں۔
عدالت نے ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس کا فیصلہ محفوظ کرلیا جو 18 جون کو سنایا جائے گا۔
پس منظر
ڈاکٹر عمران فاروق 16 ستمبر 2010 کو لندن میں اپنے دفتر سے گھر جارہے تھے کہ انہیں گرین لین کے قریب واقع ان کے گھر کے باہر چاقو اور اینٹوں سے حملہ کرکے قتل کردیا گیا تھا۔
ڈاکٹرعمران فاروق کے قتل کے بعد کراچی میں نامعلوم افراد نے سڑکوں پر نکل کر ہنگامہ آرائی کرتے ہوئے دکانوں اور گاڑیوں کو نذر آتش کردیا تھا۔
وقوعہ لندن میں ہونے کے باوجود 2015 میں اس وقت کے وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کی ہدایت پر ایف آئی اے نے عمران فاروق کے قتل میں ملوث ہونے کے شبہ میں بانی متحدہ اور ایم کیو ایم کے دیگر سینئر رہنماو¿ں کے خلاف مقدمہ درج کیا۔
کاشف خان کامران، محسن علی سید، معظم خان اور خالد شمیم کو مرکزی ملزم قرار دیا گیا تھا۔ 2015 میں ہی محسن علی سید، معظم خان اور خالد شمیم کو گرفتار کیا گیا تھا جب کہ کاشف خان کامران تاحال مفرور ہے جس کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ اس کی موت ہوچکی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں