ڈونلڈلو کی امریکی کانگریس کے ایوان نمائندگان میں پیشی 103

ڈونلڈلو کی امریکی کانگریس کے ایوان نمائندگان میں پیشی

ٹورنٹو/شکاگو (پاکستان ٹائمز) پاکستان کے سیاسی مسائل اور جمہوری عمل میں عدم استحکام کی بازگشت امریکی کانگریس کے ایوان نمائندگان میں اس وقت سنائی دی جب بدھ کو کانگریس کی کمیٹی برائے امورخارجہ میں امریکہ کے جنوبی اور وسطی ایشیا کی امور کے معاون وزیر خارجہ ڈونلڈلو نے سابق وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے ان کی حکومت گرائے جانے میں امریکی مداخلت کے الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کا موقف جھوٹ پر مبنی ہے۔ سماعت کے دوران جب ڈونلڈلو سے پوچھا گیا کہ کچھ لوگ آپ کو رجیم چینج کا قصور وار ٹھہراتے ہیں جس کی وضاحت میں ان کا کہنا تھا کہ میں یا کوئی بھی امریکی اس سازش میں ملوث نہیں تھا۔ اس سماعت کے دوران کانگریس کی کمیٹی برائے امور خارجہ کے چیئرمین جوولسن نے ڈونلڈلو سے پاکستانی سیاست میں فوج کی مداخلت سے حوالےسے بھی پوچھا جس پر ان کا کہنا تھا کہ فوج پاکستان میں ایک اہم ادارہ ہے تاہم امریکہ کی سابق حکومتیں اور موجودہ حکومت اس آئینی اصول کا احترام کرتی ہیں کہ فوج کو سویلین کنٹرول میں رہنا چاہئے اور اس کے کمانڈر انچیف کو صدر کو جوابدہ ہونا چاہئے۔ ڈونلڈ لو سے یہ بھی پوچھا گیا کہ یوکرین میں روسی مداخلت کے خلاف اقوام متحدہ میں ووٹ نہ دینے کی بنیاد پر پاکستان کے لئے امریکی امداد روکی گئی تو ڈونلڈلو نے اس کا جواب نفی میں دیا۔ کمیٹی کی اس کارروائی کے دوران شور شرابہ ہوتا رہا اور عمران خان زندہ باد کے نعرے اور قیدی نمبر 804 کی رہائی کا مطالبہ بھی کیا جاتا رہا۔ سماعت میں بار بار خلل ڈالنے والے افراد کو جب باہر نکالا جانے لگا تو بھی عمران خان کے حق میں پرزور نعرے لگائے جاتے رہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ ڈونلڈ لو کی امریکی کانگریس کی کمیٹی برائے امورخارجہ میں پیشی کروا کر پاکستان تحریک انصاف نے کیا کھویا اور کیا پایا؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں