تزکیہءنفس 145

ڈکیت

ایک روز مرزا غالب نواب فتح الملک بہادر سے ملنے ان کی حویلی گئے۔ جب ان کی غلام گردش (دالان) میں پہنچے تو خدمت گاروں نے صاحب نواب عالم کو اطلاع پہنچائی کہ مرزا نوشہ صاحب آرہے ہیں۔ ملک بہادر نواب عالم کسی کام میں مشغول تھے اس لئے مرزا صاحب کو فوراً نہ بلوا سکے۔ یوں مرزا صاحب وہیں ٹہلتے رہے، ملک بہادر صاحب عالم نے تھوڑی دیر میں پکارا کہ مرزا صاحب! کہاں ہیں، انہیں بلوایا جائے، مرزا صاحب نے وہیں سے جواب دیا کہ ”غلام گردش“ میں ہے۔ یہ سن کر صاحب عالم فتح ملک بہادر خود باہر تشریف لائے اور فوراً مرزا صاحب کو اندر لے گئے۔ موجودہ زمانے میں گردش میں تو ساری دنیا ہے، کیا آقا، کیا غلام، جو دنیا کے آقا ہیں وہ غلاموں کو پابند کرنا چاہتے ہیں، غلام ہیں کہ وہ آقا کی سننے کو تیار نہیں بلکہ وہ آقا کی سمجھ پر ہی اعتراض کررہے ہیں۔
ریاست ہائے متحدہ امریکہ جو سپر پاور ہونے کی حیثیت سے دنیا کے دگر ممالک پر اپنی حاکمیت قائم کرنا چاہتی ہے، اقوام عالم کے ممالک ہیں کہ ان کی بات ماننے کو تیار نہیں، پچھلے دنوں امریکی صدر بارک اوبامہ نے بھارتی خبر رساں ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے یہ کہا کہ پاکستان کو چاہئے کہ اپنے علاقوں سے دہشت گردی کا خاتمہ کردے کیونکہ پاکستان ہی یہ کام سب سے بہتر طریقہ سے کرنے کی حیثیت میں ہے۔ اس سے پہلے اسٹیٹ یونین کے موقع پر اپنے آخری خطاب میں دنیا بھر کے حالات کا ذکر کرتے ہوئے یہ کہا کہ پاکستان اور افغانستان آئندہ ڈکیٹ (عشرہ) میں غیر مستحکم رہیں گے۔ اس کے جواب میں پاکستان کے وزارت خارجہ کے مشیر چوراسی سالہ سرتاج عزیز نے کہا کہ صدر اوبامہ کو ہمارے علاقے کے بارے میں صحیح ادراک نہیں یعنی ان کو ہمارے حالات کا مکمل علم نہیں اور وہ ہمارے زمینی حقائق کے بارے میں بے خبر ہیں۔ پاکستان تو اس طرح کے ڈکیٹ ایک طویل عرصہ سے بھگت رہا ہے اس طرح کے بہت سے ڈکیٹ پاکستان میں آئے اور گزر گئے۔ سرتاج عزیز کی ہر کسی کو تائید کرنا چاہئے جو پاکستان کے حالات کو بخوبی سمجھتا ہو، وہ جانتا ہے کہ پاکستان میں ہر طرح کے ڈکیٹ آئے اور اپنا دور گزار کر چلے گئے۔
گزشتہ ڈکیٹ میں بہت سے سیاسی ڈکیٹ بھی آئے اور انہوں نے نیچے سے اوپر تک بڑے سے چھوٹے سائز کے ڈکیٹ پیدا کئے۔ جو جتنے بڑے عہدے پر تھا اتنا ہی بڑا ڈکیت تھا۔ مرکزی حکومت کے صدر سے لے کر صوبائی حکومت کے وزیر اعلیٰ سے لے کر وزیر داخلہ تک سب ہی اپنی ذات میں ڈکیت تھے یا انہوں نے ڈکیت پالے ہوئے ہوتے تھے۔ یوں تو ڈکیت ہونا ہمارے ایک صوبے کے لوگوں کے لئے اعزاز سمجھا جاتا ہے۔ ہمارے ایک قوم پرست لیڈر نے یہ بات فخریہ انداز میں بیان کیا کہ ہماری تو روایت یہ ہی ہے کہ ہمارے معاشرے میں ڈکیت ہونا فخر سمجھا جاتا بلکہ انہوں نے بتایا کہ وہ بھی بچپن میں ڈکیت بننے کے خواب دیکھتے تھے مگر قسمت سے وہ قوم پرست لیڈر بن گئے۔
ہمارے ایک صوبے کے وزیر داخلہ جو خود ملک کے بڑے ڈکیت کی دوستی کے سبب وزیر بنے تھے انہوں نے قسم کھا کر بتایا انہوں نے شہر کے ایک علاقے کو پیرس بنانے کی خاطر لاکھوں کی تعداد میں اسلحہ تقسیم کیا جس کے سبب شہر میں گینگ وار شروع ہو گئی، ہر گینگ کا سرغنہ ڈکیت کے نام سے پہچانا جاتا تھا یہ تو موجودہ زمانے کے ڈکیت ہیں یہ وہ ڈکیت ہیں جن کے بارے میں صدر اوبامہ کو ادراک نہیں جیسے کہ ہمارے سرتاج عزیز کا بیان ہے، صدر اوبامہ کا ڈکیٹ (عشرہ) کچھ اور ہے پاکستان کے ڈکیت کچھ اور۔ ہمارے سرتاج عزیز کو پاکستان کے ڈکیت کے بارے میں بہت گہری معلومات ہیں کیونکہ انہوں نے اپنی زندگی آٹھ سے زائد (عشرے) ڈکیت گزار چکے ہیں اور ان کے ڈکیت سے دیکھنے کا موقع حاصل ہوا ہے۔ انہوں نے ایوب خان کے ڈکیت میں پاکستان کی سیاست کو پہلی بار دیکھا یوں پاکستان میں پہلا فوجی ڈکیت ان کے سامنے پورا ہوا اس طرح ایوب خان کا عشرہ ترقی (ڈکیت) بھی سرتاج عزیز نے اپنی ابتدائی سیاسی زندگی کو گزارا۔ ایوب خان کا تو پہلا فوجی ڈکیت تھا اس طرح پاکستان میں نوکر شاہی کے ڈکیت کے ساتھ ساتھ فوجی ڈکیت کا آغاز ہوا۔ ایوب خان کے فوجی ڈکیت کے بعد یحییٰ خان نے اپنے ڈکیت کا آغاز کرنا چاہا۔ یحییٰ خان کو اپنا ادھورا ڈکیت چھوڑ کر ذوالفقار علی بھٹو کو نئے ڈکیت کے آغاز کے لئے اقتدار منتقل کرکے جانا پڑا۔ ذوالفقار علی بھٹو نے پاکستان کے عوام کو روٹی، کپڑا، مکان کے وعدے پر معاشرے کو کھلی آزادی دلوا دی اس طرح پاکستان میں ایک نئے سیاسی ڈکیت کا آغاز ہوا۔ یوں پاکستان ہر جانب سے ڈکیت بننے شروع ہوئے۔ پاکستان میں جو اب تک فوجی ڈکیت کے ساتھ نوکر شاہی جس کو سرخ فیتہ کہا جاتا ہے اس کی سرکردگی میں ایک ایسے ڈکیت کی ابتداءہوئی جس کو اسٹیبلشمنٹ کہا جاتا ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو نے اس ڈکیت کا مقابلہ کرنے کے لئے عوامی لوگوں پر مشتمل ایک نئے ڈکیت کی بنیاد رکھی۔ یہ ڈکیت سیاسی اور عوامی عناصر پر مبنی تھا۔ بھٹو کو اپنے اس کئے کی سزا ایک فوجی جنرل نے پھانسی کے پھندے پر پہنچا کر دی۔ اس طرح ضیاءالحق کا ڈکیت سب سے بڑا عفریت بن کر تمام ڈکیتوں پر چھا گیا۔ ضیاءالحق کے ڈکیت سے پاکستان میں ہر طرح کے ڈکیت معاشرے کے ہر شعبہ میں پیدا ہونا ہوئے۔ ضیاءالحق کے ڈکیت نے پاکستان کی ہر شعبہ میں اینٹ سے اینٹ بجادی۔ اس طرح زندگی کے ہر شعبہ میں ڈکیت پیدا ہونے شروع ہوئے۔ پہلا اوّلین سب سے بڑا دہشت گردی کا ڈکیت پیدا ہوا جس نے اپنے سامنے تمام ڈکیتوں کو خوفزدہ کردیا، دہشت گردی کے اس ڈکیت کے ساتھ جمہوری ڈکیت بھی پروان چڑھنا شروع ہوا جس نے جمہوریت کے نام پر بدعنوانی کے ڈکیت تیار کرنے شروع کردیئے۔ کرپشن کے یہ ڈکیت نے بھی دہشت گردی کے اور عصیبت کے ڈکیت کو بھی سانپ بن کر پالا۔
اس طرح پاکستان میں فرقہ پرستی کا ڈکیت بھی توانا ہوتا چلا گیا۔ مشرف کے ڈکیت میں میڈیا کو آزادی دی گئی جس نے بہت بڑے ڈکیت کا روپ اختیار کرکے سب سے پہلے مشرف کو اپنا شکار بنایا۔ اس طرح تمام جمہوری ڈکیت اس میڈیا کے ڈکیت کے آگے پیچھے گھومنے لگے اس طرح ڈکیتی کی تعلیم گھر بیٹھے حاصل ہونے لگی۔ یوں معاشرے کے وہ شعبہ جو اب تک ان ہنر سے محروم تھے وہ بھی ڈکیت بننے لگے۔ اس طرح ہمارے چوراسی سالہ بزرگ سرتاج عزیز نے اپنے آٹھ سے زائد ڈکیت کے بزرگی کا تجربہ حاصل ہونے کی بناءپر ڈاکٹر آف ڈکیت کہا جائے تو غلط نہ ہو گا۔ ان کا کہنا بالکل درست لگتا ہے کہ اوبامہ کو ہمارے زمینی حقائق کا علم نہیں۔ اس لئے کہا جا سکتا ہے کہ موجودہ زمانے میں غلام گردش میں ہیں بلکہ آقا گردش میں ہیں۔ پاکستان کے ڈکیت کی وجہ سے سارا عالم گردش میں ہے۔ کیا آقا، کیا غلام۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں