Hanif Dawami Columnist at Pakistan Times Chicago and Toronto 44

کراچی۔ کراچی اور کراچی۔۔۔

کراچی اس وقت ہارڈ ایشو بنا ہوا ہے، دوسرے معنوں میں کراچی ایک ایسے دوہرائے پر پہنچ چکا ہے جہاں اس بات کا فیصلہ ہونا ہے کہ آیا کراچی کے سارے کے سارے مسائل چٹکی بجا کر حل کر دیئے جاتے ہیں یا پھر کراچی نے مزید رسوائی اور تباہی کے لئے سندھ کے ساتھ ہی چمٹے رہنا ہے یا پھر خود کو وفاق کے رحم و کرم پر چھوڑنا ہے یا پھر کسی نا معلوم سمت کی جانب بڑھنا ہے، کچھ بھی ہے، فیصلے کی گھڑی آگئی ہے جب تک یہ کالم اخبار کی شکل میں قارئین کے ہاتھوں میں ہو گا اس وقت تک وزیر اعظم پاکستان عمران خان کراچی کا دورہ کرچکے ہوں گے اور وہ کراچی والوں کو اپنی حکومت کی جانب سے بہت بڑا انعام یا خوشخبری سنا چکے ہوں گے جس کی نوید پہلے سے آنا شروع ہو چکی ہیں اس لئے کہ سندھ کے صوبائی وزیر اطلاعات ناصر شاہ چھوٹا منہ بڑی بات کے مصداق وفاق سے دس ارب ڈالر کی امداد کراچی کے حالیہ تباہی کے مد میں مانگ چکے ہیں جس کی تصدیق وفاق وزیر اطلاعات شبلی فراز کر چکے ہیں۔ شبلی فراز کا کہنا ہے کہ اوّل تو وفاق کے پاس اتنی بڑی رقم ہے نہیں اور اگر ہوتی تو تب بھی وہ سندھ پر قابض ٹولے کے حوالے نہ کرتے، اس لئے کہ یہ ٹولہ فنڈ عوام پر خرچ کرنے کے بجائے اومنی گروپ کے اکاﺅنٹ میں جمع کرادیتے ہیں، یہ ان کا ٹریک ریکارڈ ہے، غرض سندھ حکومت کے ارادوں اور ان کی نیت کا بھانڈا وفاقی وزیر نے پھوڑ دیا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ وفاقی حکومت کراچی کے عوام کے زخموں کا مداوا کس طرح سے بنتی ہے۔ کراچی کی موجودہ حالت کسی بھی طرح سے قرون وسطیٰ کے کسی شہر سے کم نظر نہیں آرہی ہے۔ جس طرح سے سوشل میڈیا پر سابق وزیر اعلیٰ سندھ قائم علی شاہ کو اس کے بڑھاپے کی وجہ سے موہن جو ڈاروں کے دور کے باسی کے حیثیت سے ظاہر کرکے اس کا مذاق اڑا دیا جاتا رہا ہے۔ بالکل اسی طرح سے کراچی بھی حالیہ بارشوں کی وجہ سے دنیا بھر میں ایک مذاق بن کر رہ گیا ہے، کوئی بھی نہیں کہہ سکتا کہ دور جدید کا اتنا بڑا شہر ضروریات زندگی کے بنیادی مسائل تک سے محروم ہے کہ جہاں قدرت کی رحمتیں بھی خود انسانوں کی نا اہل کی وجہ سے زحمت بن جاتی ہے جس پر جتنا بھی ماتم کیا جائے کم ہے۔ سندھ پر حکمرانی کرنے والے ضرورت سے زیادہ بے شرم اور بے حس اور ڈھیٹ نکلے انہیں کراچی کی موجودہ صورتحال پر بھی کوئی دُکھ افسوس یا ندامت نہیں ہے بلکہ وہ کراچی کے اس موجودہ صورتحال کو بھی اپنے کھانے پینے کا ذریعہ بنانے کی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں جس کا اندازہ سندھ کے اس وزیر کے مطالبے سے لگایا جا سکتا ہے۔ جس کا منہ توڑ جواب وفاقی وزیر شبلی فراز نے دیا۔
کراچی کے عوام کو اب خواب غفلت سے بیدار ہو جانا چاہئے اور انہیں دوست اور دشمنوں میں فرق کر لینا چاہئے کہ کون ان کے سجن ہیں اور کون دشمن۔۔۔؟ سندھ پر حکمرانی کرنے والوں نے پچھلے 20 سالوں سے کراچی والوں کے ساتھ سوتیلے والا سلوک اختیار کر رکھا ہے، کراچی کے ترقیاتی اور فلاحی کاموں کے لئے ملنے والا اربوں روپوں کا فنڈز کراچی پر خرچ کرنے کے بجائے اس پر حکمران اپنی عیاشیاں کررہے ہیں جس کا منہ بولنا ثبوت حالیہ بارشوں کے نتیجے میں شہر بھر میں سیلاب کا آ جانا ہے، یہ اس طرح کا سیلاب تھا کہ جس نے کراچی کے پوش اور مضافاتی علاقوں کا فرق تک مٹا دیا جو حال اورنگی، کورنگی، سرجانی ٹاﺅن اور لیاری کے چھونپڑے کا ہے، وہی حال ڈیفنس سوسائٹی اور کلفٹن کے عالی شان بنگلوں میں رہنے والوں کا ہے۔ دونوں مقامات پر رہنے والے لوگ سراپا احتجاج ہے، دونوں کو ایک جیسی صورتحال کا سامنا ہے۔ کراچی بننے کے بعد شاید پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ پورے کراچی کا دکھ اور تکلیف ایک جیسا ہے اگر یہ کہا جائے کہ نازوں اور لاڈ میں پلنے والے ڈیفنس سوسائٹی اور کلفٹن والوں نے پہلی بار اس دردناک اذیت اور تکلیف کا سامنا کیا تو غلط نہ ہو گا۔ یہ ہی وجہ ہے کہ ان کی چیخ و پکار کیماڑی، سرجانی ٹاﺅن اور اورنگی والوں کے مقابلے میں زیادہ تھی اور بارش کا پانی بھی سب سے آخر میں ہی ڈیفنس اور کلفٹن سے نکلا اور اسی طرح سے بجلی اور نیٹ کا سلسلہ بھی مضافاتی علاقوں کے بعد ڈیفنس اور کلفٹن میں بحال ہوا جو کراچی کا سب سے زیادہ پوش علاقہ ہے جہاں کروڑ پتی اور ارب پتی رہتے ہیں۔ یہ ہے کراچی کی صورتحال جو اس پر حکمرانی کرنے والوں کے منہ پر زور دار طمانچے سے کم نہیں۔۔۔
یہ کراچی کی انتظامیہ کی کارکردگی پر بھی بہت بڑے سوال سے کم نہیں، اب یہ فیصلہ کرنا کراچی کے عوام کا کام ہے کہ انہوں نے مستقبل میں کیا کرنا ہے، کس کے ساتھ رہنا ہے، انہیں دکھوں اور تکلیفوں کے ساتھ باقی ماندہ زندگی گزارنا ہے یا کچھ اور کرنا ہے۔ یہ فیصلہ کی گھڑی ہے اور کراچی والوں کو بھی سوچنا ہے کہ انہوں نےس ندھ کے حکمرانوں کی باتوں میں آنا ہے یا پھر وفاق کو بھی آزمانا ہے۔
خدارا کچھ بھی کرناہے وہ کر گزرو، یہ ہی وقت ہے، لوہا گرم ہے، جو چاہو بنا لو، وزیر اعظم عمران خان بھی کچھ کرنے کے موڈ میں لگتے ہیں، ان سے بات کرکے اپنا مسئلہ حل کروادیں۔ کراچی کو اس کا حق ملنا چاہئے، کراچی کے تمام مسائل کو ترجیحی بنیاد پر حل ہونا چاہئے لیکن یہ سب کچھ خود کراچی والوں کے شور مچانے اور متحرک ہونے پر ہی ہوگا۔ خواب دیکھنے سے ہی تعبیر نہیں ملا کرتی۔۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں