کراچی: ہاکس بے ساحل سبز کچھوﺅ کیلئے موت کا دہانہ بن گیا 301

کراچی: ہاکس بے ساحل سبز کچھوﺅں کیلئے موت کا دہانہ بن گیا

کراچی: ہاکس بے کا ساحل گرین ٹرٹلز(سبزکچھوﺅں) کے لیے موت کا دہانہ بن چکا ہے،ساحلوں پربڑھتی تعمیرات کی وجہ سے کچھوﺅں کے انڈے دینے کی جگہیں ختم ہوتی جارہی ہیں۔

مادہ کچھواگنجان آبادی والے ساحلوں پرانڈے دینے پرمجبورہے،تفریحی ہٹس پرہونے والی ڈانس پارٹیز،میوزک شورشرابے،تیزبرقی قمقموں کی چکاچوند،سمندرکنارے فراٹے بھرتی کاروں نےگرین ٹرٹل کے افزائش نسل کے مقام کو تباہی سے دوچارکردیا،ساحل پرموجود آوارہ کتے اورچیل کوے بھی کچھوو¿ں کے لیے عفریت ثابت ہورہے ہیں۔

ساحلوں کی آلودگی اوردیگرمتفرق خطرات کی وجہ سے اولیوریڈلی(زیتونی کچھوے) کراچی کے ساحلوں سے روٹھ چکے ہیں،واحد رہ جانے والی نسل گرین ٹرٹل(سبزکچھوﺅں)کی بقا کو سنگین خطرات لاحق ہیں۔

مادہ کچھوا دماغ میں موجود قدرتی مقناطیسی سیال کی وجہ سے اپنی اوسط عمر70سال میں 10سے15مرتبہ افزائش نسل کے لیے اپنی جائے پیدائش کا رخ کرتی ہے۔

کرہ ارض کی خشکی وپانی پرصدیوں سے موجود کچھوا وہ واحد جاندارہے،جس کو اپنے بچے دیکھنا نصیب نہیں ہوتے۔

ہاکس بے کے ساحلی مقامات سینڈزپٹ اورپیراڈائزپوائنٹ سمیت تاحدنگاہ پھیلا ساحل آبی حیات کے لیے عفریت بنتا جارہا ہے،سمندرکنارے بڑی تعداد میں ماضی قریب اورماضی بعید میں بننے والے تفریحی ہٹس کی تعمیرنے ان کچھوﺅں سے قدرتی مسکن چھین لیے۔

رات کے وقت ان ہٹس میں ڈانس پارٹیوں،بلند آوازمیں بجنے والامیوزک،غل غپاڑہ،تیزبرقی قمقموں اورچکاچوند کا سبب بننے والی اسپاٹ اور فلڈلائٹس کا بے دریغ استعمال ان مادہ کچھوو¿ں کے لیے موت کا دہانہ ثابت ہورہی ہیں۔

رہی سہی کسران نجی محفلوں کے دوران ڈیزرٹ سفاری(موٹربائیک)،گھڑسواری جبکہ بیش قیمت فراٹے بھرتی کاروں کا سمندرکنارے آزادنہ اوردھڑلے سے نقل وحرکت ہے،جس نے کچھوﺅں کے اس قدرتی مسکن کو تباہی کےدہانے پرپہنچادیا۔

ان کچھوﺅں کی بقا کے لیے کام کرنے والےمقامی رضا کار شاہ میربلوچ کے مطابق نشے میں دھت ان بگڑے رئیس زادوں کو اگرمنع کیا جاتا ہے،تویہ سنگین نتائج کی دھمکیاں دینا شروع کردیتے ہیں،اوربسااوقات جارحانہ رویے کے دوران انتہائی اقدام سے بھی گریز نہیں کرتے۔

گرین ٹرٹل(سبزکچھوے)کی مادہ کے انڈوں اوربچوں کے لیے ایک بہت بڑاخطرہ ساحل پرمٹرگشت کرنے والے آوارہ کتے اورفضاوں میں منڈلاتے چیل کوے ہیں،جوان کے انڈے بچے کھاجاتےہیں۔

آج سے دودہائی قبل سمندری کچھوﺅں کی سات اقسام سندھ،بلوچستان کے ساحلی مقامات پرپائی جاتی تھیں،تاہم سمندری آلودگی،تجارتی سرگرمیوں اورتفریحی عوامل کی وجہ سے یہ تعداد صرف 2 رہ گئی،ان دواقسام میں سے اولیوریڈلی(زیتونی کچھوے)بھی ناپید ہوچکے ہیں۔

سن 2010کے بعد کوئی بھی زندہ زیتونی مادہ کچھواکراچی کے ساحلوں پرنہیں دیکھا گیا،البتہ مردہ حالت میں لہروں کے دوش پربہتے کنارے پرضرور رپورٹ ہوچکے ہیں،ماہرین حیوانات و ماحولیات اس بات پر متفکر ہیں کہ آخر وہ کیا وجوہات ہیں جن کی بنا پر اولیو ریڈلی نے سینڈز پٹ سے منہ موڑ لیا۔

کچھ عوامل پر ماہرین متفق ہیں جن میں ساحل کی گندگی ،بے لگام ساحلی تعمیرات، مچھلی کے شکار کے دوران نقصان دہ جال کا دھڑلے سے استعمال،آوارہ کتوں اور چیل ،کوﺅں کی بہتات ہے جس نے اولیو ریڈلی کا سرے سے ہی صفایا کردیا،کیونکہ اولیوریڈلی انتہائی حساس مزاج کاکچھوا ہےاور اپنے لیے ہر خطرے کو بہت جلد بھانپ لیتا ہے۔

سینڈز پٹ پر جابجا موجود کچرے کے ڈھیروں میں پلاسٹک کی تھیلیاں بڑی مقدار بھی موجود ہیں جوساحل کے کنارے مادہ کچھوے کے افزائش نسل کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہیں،کم وبیش ان ہی عوامل کی وجہ سے اب بچ جانے والی واحد نسل گرین ٹرٹل (سبزکچھوے)کی معدومیت کے بھی شدید خطرات پیداہوچکے ہیں۔

ساحلوں پربڑھتی تعمیرات کی وجہ سے کچھوﺅں کے انڈے دینے کی جگہیں ختم ہوتی جارہی ہیں،اسی وجہ سے مادہ کچھواگنجان آبادی والے ساحلوں پرانڈے دینے پرمجبورہے،ساحل پر بکھرے ماہی گیری جالوں کے ٹکڑے،پلاسٹک کی تھیلیاں اور کچرے کے ڈھیر جسے ساحل پر بنے درجنوں ہٹس پر تفریح کے لیے آنے والے،عارضی قیام کے بعد انتہائی لاپروائی سے ساحل پر پھینک دیتے ہیں، کچھوﺅں کے بچوں کے موت کے شکنجے بن جاتے ہیں اورانڈوں سے نکل کر پانی میں جانے کے چکر میں ان شکنجہ نما جالوں اور کچرے کے ڈھیر میں پھنس کراکثراوقات آوارہ جانوروں کا لقمہ بن جاتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ تفریح کے لیے ساحل پر آنے والوں کو،اپنا رویہ تبدیل کرنے کی ضرورت ہے،اگر یہاں آنے والے افراد اس بات کو اپنی عادت بنالیں کہ وہ اپنے کھانے پینے کی اشیا سے بننے والا کچرا جاتے وقت ذمے داری سے اپنے ساتھ لے جاکر کسی صحیح جگہ پر ٹھکانے لگا دیں گے تو یقیناً اس عمل کے دوررس نتائج برآمد ہوں گے۔

اس عمل سے بیک وقت آبی حیات اور ساحلی مقام کی خوبصورتی کو مزید کسی تباہی وبربادی سے بچایا جاسکتا ہے،جس دوران مادہ کچھوا گڑھا بنارہی ہوتی ہے تو اکثر پلاسٹک بیگ وغیرہ اس قدرتی عمل کے درمیان حائل ہوجاتے ہیں اور کوشش کے باوجوداکثر وبیشتر وہ اپنے چیمبر نہیں بناپاتی اور واپس پانی میں چلی جاتی ہے،یہ بہت بڑا خطرہ ہے جن کی وجہ سے کچھوﺅں کا قدرتی مسکن شدید متاثر ہورہاہے۔

اگر یہ مادہ کچھوا انڈے دینے میں کامیاب بھی ہوجائے توبھی ایک اور بھیانک خطرہ آوارہ کتوں کی شکل میں موجود ہے جو کچھوﺅں کے افزائش نسل کے اس مقام پر انڈوں اور بچوں کو کھانے کے لیے دن رات گھوم رہے ہوتے ہیں،کیونکہ آوارہ کتوں کو دن بھر تفریح کے لیے آنے والے بچھا کچا کھانا ڈال دیتے ہیں اوردن بھر وافر مقدار میں ملنے والے کھانے کے بعد یہ آوارہ کتے اس بات سے بھی آگاہ ہوچکے ہیں کہ کچھوﺅں کی افزائش کے مقام پربھی ان کے کھانے کے لیے کچھ موجود ہے۔

ریت میں دبے ان انڈوں کی بو کتے،نیولے اورسانپ باآسانی سونگھ لیتے ہیں،جو ان انڈوں کو کھاجاتے ہیں جبکہ ان انڈوں سے بچے نکلنے کے بعدبھی فضاﺅں میں منڈلانے والے چیل اورکوﺅں کی وجہ سے خطرے کی تلواران کےسرپرلٹکتی رہتی ہے۔

ایک اورہولناک خطرہ کسی عفریت کی طرح سمندرمیں لگے ماہی گیری کے جال ہیں،جن میں بچے پھنس جاتے ہیں جبکہ ان کے مسکن کے آس پاس سے گذرنے والی کشتیوں کے انجنوں کے بلیڈ یا توانھیں زخمی کردیتے ہیں یا پھر یہ ان لانچوں کے بلیڈ میں آکرمرجاتے ہیں،ماہرین کے مطابق پاکستان سمیت دنیا بھرمیں تین اقسام کے کچھوے پائے جاتے ہیں،جن میں سمندری،میٹھے پانی اورخشکی کے کچھوے شامل ہیں۔

سمندری کچھوﺅں کی 7جبکہ میٹھے پانی کی 8اقسام پائی جاتی ہیں،اس کے علاوہ خشکی کی 2اقسام بھی موجود ہیں،میٹھے پانی کے کچھوﺅں میں پنجوں اورناخنوں دونوں اقسام کے کچھوے ملتے ہیں،سمندری کچھوے اپنے بازوﺅں کونہیں سمیٹ سکتے البتہ میٹھے پانی کے کچھوے اپنے بازو سمیٹ لیتے ہیں۔

کچھوا دنیا کا واحد جاندارہے،جس کو اپنے بچے دیکھنا نصیب نہیں ہوتے۔ مادہ کچھواانڈے دیکرواپس گہرے پانیوں میں لوٹ جاتی ہے،ماہرین کے مطابق کچھوﺅں میں بھی انسانوں کی طرح جسمانی اپاہج اوراندھے بچے پیداہوتے ہیں،اوردیگرمعذوری کے شکاربچے بھی پیداہوتے ہیں،کچھوے کی اوسط عمر70سال کے لگ بھگ ہوتی ہے،مگریہ 100سال تک بھی جیتے ہیں،ماہرین کے مطابق یہ جاندارڈائنا سار کے دورسے کرہ ارض پرموجود ہیں،مادہ کچھوا ایک وقت میں 120سے170کی تعداد میں انڈے دیتی ہے،ان انڈوں کی ساخت ٹیبل ٹینس کی بڑی گیند جیسی ہوتی ہے۔

چینی اورکورین کچھوے کے گوشت کے علاوہ اس کے انڈوں کو بھی رغبت سے کھاتے ہیں،مادہ سبز کچھوا کراچی کے سینڈز پٹ،پیراڈائزپوائنٹ کے علاوہ بلوچستان کے ساحلی مقامات جیوانی،گوادر،اورماڑہ پسنی،دھیران،فرنچ بیچ،مبارک ولیج اورکیپ ماونزے اورچرنا جزیرے پربھی افزائش نسل کے لیے رخ کرتی ہے،افزائش نسل کے دوران پہلے مرحلے میں مادہ کچھوا ساحل کی مٹی پرجگہ کے انتخاب کے بعد اپنی پچھلی ٹانگوں کی مدد سے پورے جسم کو مٹی سے ڈھانک لیتی ہے،پھرکھدائی شروع کردیتی ہے۔

اس دوران مادہ کچھوا تین سے ساڑھے تین فٹ گہراگڑھاکھودتی ہے،عموما انڈے دینے کا یہ عمل رات کے وقت ہوتا ہے،جب ہرجانب گہراسکوت ہوجاتا ہے،انڈوں سے بچے نکلنے کا عمل 45سے60دن پرمحیط ہوتا ہے جبکہ افزائش نسل کا کل دورانیہ اگست کے وسط سے فروری کے وسط تک تقریبا 7ماہ تک جاری رہتا ہے،اس دوران اگربارش ہوجائے تویہ انڈے پانی لگنے کی وجہ سے خراب ہوجاتے ہیں۔

پاکستان ان 11ممالک میں شامل ہے،جہاں مادہ کچھواافزائش نسل کے لیے اس کے ساحلی مقامات کا رخ کرتی ہے،ان ممالک میں کینیڈا،جرمنی،اٹلی،اسٹریلیا،برطانیہ،سری لنکا،بھارت اوربنگلہ دیش شامل ہے، سائنسی اعتبار سے قدرت نے مادہ کچھوے کے دماغ میں ایک مقناطیسی سیال (Brain Magnetic Fluid) رکھا ہے،جس کے ذریعے مادہ کچھوا افزائش نسل کے لیے ٹھیک اس مقام تک پہنچ جاتی ہے،جہاں کا وہ خمیر ہوتی ہے۔

ماہرین کہتے ہیں کہ عام طورپریہ کچھوےبحراوقیانوس،بحرالکاہل اوربحرہند کے گرم اورمعتدل ساحلوں کے قرب وجوار میں پائے جاتے ہیں،ان کو گرین ٹرٹل ان کی بیرونی رنگت کی وجہ سے نہیں بلکہ جسم میں پائی جانے والی سبزرنگ کی چربی کی وجہ سے کہا جاتا ہے، سندھ وائلڈ لائف ان کو ٹیگ کرتے ہیں،پاکستان کا کوڈ این ہے،کراچی کے ساحل پرٹیگ کیے جانے والے کچھوے بعدازاں ایران،بھارت اورمسقط کے ساحلوں پربھی پائے گئے ہیں۔

ان مادہ کچھووں کی ترجیح نرم ریت والی مٹی ہوتی ہے،جہاں یہ آسانی سے گڑھا بناکرانڈوں کو ریت میں گہرائی تک دباسکے،سمندری کچھووں کی زندگی حیرت انگیزحقائق سے بھری پڑی ہے،ان کچھووں کے بچے ایک بارانڈے سے نکل کر سمندرمیں چلے جائیں توپھرزندگی بھرلوٹ کرنہیں آتے،ماسوائے مادہ کچھوے کے جو اپنی 70سالہ اوسط عمرمیں 10سے15دفعہ اسی ساحل کا رخ کرتی ہے،جہاں سے اس نے اپنی زندگی کا سفرشروع کیا ہوتا ہے،ایک دلچسپ حقیت یہ بھی ہے کہ جس وقت سمندری کچھوے کے بچے انڈوں میں بن رہے ہوتے ہیں،اس دوران اگرریت کا درجہ حرارت 27ڈگری سے زیادہ ہوتو مادہ کچھوے کی تولید ہوتی ہے جبکہ 27ڈگری سے کم پرنرکچھوا وجود میں آتا ہے۔

محکمہ سندھ وائلڈ لائف نے ان مادہ کچھووں کی افزائش نسل کے لیے ہاکس بے ٹرٹل بیچ پرخصوصی اقدامات کررکھے ہیں،ایک بڑے احاطے میں ان کے انڈوں کے گھونسلوں کو گول آہنی گرل سے محفوظ کیاہے،اس ہیچری میں انڈوں سے بچے نکلنے کے تولید کے مراحل طے ہوتے ہیں،آفیسرسندھ وائلڈ لائف اشفاق میمن کے مطابق کراچی کے ساحل پرمادہ کچھووں کی آمد کا سلسلہ جاری ہے،رواں سال ستمبرسے اب تک 25ہزارانڈوں کوتولیدگی کے عمل کے لیے محفوظ کیا جاچکا ہے،جس سے نکلنے والے ساڑھے دس ہزاربچوں کورواں سال سمندرمیں چھوڑا جاچکا ہے،اشفاق میمن کا کہنا ہے کہ ابھی فروری کے وسط تک افزائش نسل کا سلسلہ برقراررہے گا،فروری میں رپورٹ ہونے والی مادہ کچھووں کے انڈوں سے بچے اپریل میں نکلے گے،جس کے بعد حتمی اعدادوشمارکی رپورٹ مرتب کیے جاسکے گے،ان کا کہنا ہے کہ ایک قوی امید ہے کہ اس سال 30ہزاربچوں کا ہدف پوراہوجائےگا۔

سن 1975سے اب تک 9لاکھ کے لگ بھگ کچھووں کے بچے سمندرمیں چھوڑے جاچکے ہیں،سندھ وائلڈ لائف کے رضا کارغروب آفتاب کے بعد ساحل پرگشت شروع کردیتے ہیں،جس وقت مادہ کچھوا انڈے دیکرسمندرمیں لوٹ جاتی ہے،تو گارڈز ان گڑھوں سے انڈے نکال کرسندھ وائلڈ لائف کی ہیچری میں لے جاتے ہیں،جہاں کے محفوظ احاطے میں ان انڈوں کو دوبارہ گہرے گڑھوں میں دبادیا جاتاہے،اور ہر گھونسلے کا باقاعدہ ریکارڈ رکھاجاتاہے،40سے60دنوں میں انڈوں سے بچے نکلنا شروع ہوجاتے ہیں،جنھیں گارڈزسمندری لہروں کے حوالے کردیتے ہیں،جس کے بعد ان کی ذمہ داری ختم اورقدرت کا قانون شروع ہوجاتا ہے،آئی یوسی این کی ایک تحقیق کے مطابق انڈوں سے بحفاظت نکلنے والے کچھووں کی بقا کا تناسب اعشاریہ ایک فیصد ہے،یعنی ایک ہزاربچوں میں سے کوئی ایک زندہ بچ پاتا ہے۔

یہی وہ نقطہ فکرہے،جس کی وجہ سے عالمی ادارے اورسندھ وائلڈ لائف ان بچوں کی بقا کے لیے مسلسل سرگرداں ہیں،ماہرین کے مطابق کچھوے سمندر کی گہری تہہ میں ایک ایسے کردارکے حامل ہیں،جس پرسمندر کی پوری دنیا کی سلامتی کا دارومدارہے،ان کچھوﺅں کی خوراک تہہ آب اگنے والی سمندری گھاس ہے،جس کو یہ اپنی خوراک کے ذریعے ایک خاص حد سے بڑھنے نہیں دیتے،اگرکچھوے اس گھانس کو کھانا چھوڑدیں تواس گھانس کی بلندی کی وجہ سے سمندرمیں شدید گھٹن پیداہوسکتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں