تیری نظر پہ چھوڑا ہے فیصلہ 292

کرتے رہو ان کی زیارت کبھی کبھی

مغرب کی اذان کی آواز سن کر جیسے ہی میں گھر کے دروازے سے باہر نکلا تو سامنے سے مجھے اپنا بھتیجا فاروق بھاگتا ہوا گھر کی جانب آتا دکھائی دیا۔ میں اپنی جگہ پر رک کر ہی اس کے قریب آنے کا انتظار کرنے لگا۔ مسجد گھر کے سامنے ہی تھی، مجھے اندازہ تھا کہ میں کچھ دیر انتظار کے بعد بھی جماعت میں با آسانی شمولیت اختیار کر سکتا ہوں۔
قریب آنے کے بعد فاروق نے مجھے بتایا کہ وہ بھی گھر سے وضوع کرنے کے بعد مغرب کی جماعت میں شمولیت کا ارادہ رکھتا ہے۔ میں نے اس کے وضوع کرنے تک انتظار کا فیصلہ کیا جب وہ واپس آیا تو میں اس کو اپنے ساتھ سامنے مسجد کی طرف لے جانے لگا تو اس نے وہاں جانے سے انکار کردیا اور مجھے بتایا کہ وہ کچھ دور فاصلہ پر دوسری مسجد میں نماز ادا کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ سامنے والی مسجد بریلویوں کی ہے جہاں وہ نماز نہیں پڑھنا چاہتا۔ میں نے فاروق کو بتایا کہ وہ جس مسجد میں نماز ادا کرنے کا ارادہ رکھتا ہے وہاں تک پہنچتے پہنچتے مغرب کی جماعت نکل چکی ہو گی یہ کہہ کر میں نے فاروق کا ہاتھ زور سے پکڑا اور سامنے مسجد کی جانب چل دیا وہ بھی بغیر مزاحمت کے میرے ساتھ ساتھ چلنے لگا، مجھے محسوس ہوا کہ وہ میرے احترام میں ایسا کرنے پر مجبور ہو رہا ہے۔ میں نے اس کو سمجھایا کہ نماز ہر فقہہ میں ایک ہی طرح سے ادا ہوتی ہے، اور پھر آپ کی نیت کا حال تو اللہ سب سے بہتر جانتا ہے، وہ خاموشی سے میری باتیں سنتا رہا، مسجد کے قریب پہنچ کر میں نے اس کا ہاتھ چھوڑ دیا اور اس کو بتایا کہ برابر میں ایک مدرسہ ہے، وہ اپنی مرضی کے مطابق نماز ادا کر سکتا ہے جہاں نماز میں وہ با آسانی شامل ہو سکتا ہے، وہاں مغرب کی جماعت کچھ ہی دیر میں ادا ہو گی وہ اس میں شامل ہو سکتا ہے۔ فاروق نے مجھ سے پوچھا کہ آپ میرے ساتھ اس جماعت میں شامل نہیں ہو رہے، جواب دیا کہ میں ابھی تو اس مسجد میں نماز ادا کرنے جا رہا ہے، جہاں تم نہیں جانا چاہتے ہو، مگر اکثر اس مدرسہ میں بھی جماعت میں شامل ہو جاتا ہوں جب بھی حقانی صاحب کی مسجد جس کو تم بریلویوں کی مسجد کہتے ہو اکثر جب دیر ہو جاتی ہے اور جماعت میں شامل نہ ہو سکوں ، یہ کہہ کر میں نے جلدی جلدی مسجد کے صحن کے آخری حصے میں قائم ہونے والی قطار میں اپنی جگہ پر کھڑے ہو کر تکبیر کے لئے ہاتھ اٹھایا تو برابر میں ایک شناسا دکھائی دیئے میں نے سر گھما کر ان کی طرف دیکھا اور مسکرا کر ہلے سے پوچھا یہاں کدھر۔ جواب میں وہی روایتی مسکراہٹ محسور کن آواز میں جواب دیا، یہ بھی ہماری ہے، اور آپ بھی، ہم دونوں نے خوشگوار انداز میں تکبیر کے لئے ہاتھ باندھ کر نماز شروع کردی۔ نماز کے بعد سنتیں مکمل کرنے کے بعد میرے کندھے پر ایک ہلکا سا دباﺅ محسوس ہوا تو وہی مسکراتی آنکھوں میں شرارت کے ساتھ کھڑا نوجوان دعوت دے رہا تھا۔
پاشا گل سے میری ملاقاتیں ہوتی تو بہت کم تھیں مگر جب بھی ہوتی تھیں تو ہم ایک دوسرے کو خوبصورت جملوں سے تبادلہ کرتے رہے اور ان چٹکلوں کے درمیان بڑے بڑے پیغام بھی منتقل کرتے رہتے۔ ہر ملاقات میں سلسلہ تکلم اس ہی باغ و بہار انداز میں شروع ہوتا جیسے ہم ہمہ وقت ایک دوسرے کے ساتھ گزارتے رہتے ہوں۔
مختصر سی ملاقات کے بعد جب بھی وہ جاتا مجھے محسوس ہوتا کہ مجھ میں ایک تازگی کی لہر خودبخود پیدا ہوتی چلی جاتی جیسے کوئی پاور اسٹیشن سے توانائی حاصل کرلے۔ وہ اپنی ذات میں خلوص محبت وفا فلاح بہبود اور دوسرے کو اپنی جانب کھینچنے والی قوت کا پاور ری ایکٹر تھا جس کو خود نہیں معلوم تھا وہ کتنی زبردست پاور اپنے ساتھ لئے گھوم رہا ہے اس روز بھی وہ ہماری والی مسجد میں نماز پڑھنے آیا تو اس نے بتایا کہ قریب ہی ادارہ نورحق میں جماعت کا اجلاس منعقد ہو رہا ہے نماز کے وقعہ میں آپ کی اس مسجد میں اکثر نماز ادا کرنے آجاتا ہوں، میں نے قریب اپنے گھر چل کر چائے پینے کی دعوت دی تو حسب عادت اس نے اپنی مصروفیت کے بارے میں مجھے قائل کرکے رخصت حاصل کرلی۔ اس نوجوان میں اللہ تعالیٰ یہ خاصیت رکھی تھی کہ وہ ہر ایک کو بڑی خوبصورتی سے قائل کر لیتا۔ اس خاصیت سے شاید خود اس کو بھی علم نہ ہو لیکن اس کے ہم جیسے دوستوں کو کسی وقت میں جو اس کے مخالف بھی ہوتے تھے جب ان کو قائل کر لیتا وہ اس کے گہرے دوست بن جاتے اور وہ اس کی اس صلاحیت یا خصوصیت کے قائل ہو جاتے۔ اگر پاشا گل اپنے قاتلوں سے کچھ وقت حاصل کرکے چند الفاظ کا تبادلہ کر لیتا تو اس کے قاتل ہتھیار پھینک کر اس کے ہماری طرح دیوانے بن جاتے اس کی یہ ہی سب سے بڑی خوبی تھی کہ وہ الفاظ اور لہجے سے اپنے بڑے سے بڑے مخالف کو بھی اپنا گرویدہ بنا لیتا، مجھے معلوم تھا کہ وہ میرے مکتبہ فکر سے تعلق نہیں رکھتا مگر اکثر وہ ہماری والی مسجد میں نماز ادا کرتا، مجھے یقین ہے کہ وہ میری طرح کسی نہ کسی نمازی کو اپنا ہم خیال بنانے میں کامیاب ہو جاتا ہو گا۔ میں اپنے بھائی کے بیٹے کو اپنا ہم خیال بنانے میں کامیابی حاصل نہیں کر سکا۔ اب فاروق بھی اس دنیا سے چلا گیا اور پاشا گل کو اس کے قاتلوں نے دوسری دنیا بھیج دیا۔
مجھے یقین ہے کہ اکثر دونوں کی دوسری دنیا میں ملاقات ہوتی تو پاشا گل اس کو قائل کر لیتا کہ وہ اپنے لوگوں میں بھی رہ کر مختلف بات کرتا تھا کہ اس کے خیالات کا مخالف بھی اس کے خیالات کا احترام کرنے پر مجبور ہو جاتا اور بالاخر وہ اس کا ہم خیال بن جاتا وہ مخالفین میں بھی مقبول تھا ہم خیال دوستوں کا ترجمان بھی تھا۔ وہ سب کے دل کی آواز اور خیالوں کا ساتھی بن جاتا اس کے جملے اور الفاظ سن کر محسوس ہوتا تھا کہ یہ ہی تو ہے جو میرے دل میں ہے۔ دوسروں کے دماغ اگر مختلف بھی سوچ رہے ہوں تو دل اس کی جانب کھینچا چلا جاتا۔ جیسے وہ آنکھوں سے نہیں لفظوں سے ہپناٹائز کررہا ہو۔ وہ اس عمل سے مخالفین کی سب سے بڑی سوچ و فکر چرا لیتا تھا۔
ہمارے معاشرے میں ایسے ہی محبت کرنے والے افراد کی کمی ہے اور جو ہیں وہ بھی آہستہ آہستہ ختم کئے جارہے ہیں۔ پاشا گل اگر آج بھی ہم میں موجود ہوتا تو وہ نہ معلوم کتنے اپنے مخالفین کو اپنا ہم خیال اور ہم نوا بنا کر اپنے ساتھ شامل کرکے اس جیسی خصوصیات کا حامل بنا چکا ہوتا کیونکہ ہمارے معاشرے میں جہاں اپنی پرانی دوستیوں اور رفاقتوں کو بحث و مباحثہ کے ذریعہ ختم ہونے میں ذرا دیر نہیں لگتی اس معاشرے میں ایسے ہی افراد کا ہونا ضروری ہے جو پاشا گل کی طرح غیروں کو اپنا بنا سکیں۔
ملتے کہاں ہیں ایسے محبت رسیدہ لوگ
کرتے رہو ان کی زیارت کبھی کبھی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں