آخری تقریب 98

کرکٹ کے مگرمچھ

وسیم اکرم نے بہت عرصہ تک خاموشی اختیار کرکے جب اس خاموشی کو توڑا تو بحث و مباحثہ ایک طرفہ نہیں رہا، عمر اکمل پر جب تین سال کی بین لگی تو میچ فکسنگ کی بحث و مباحثہ قومی میڈیا پر شروع ہو گیا۔ اس سے پہلے میچ فکسنگ میں محمد عرفان، شرجیل خان، دانش کنیریا، خالد لطیف، شکیل خان، اورنگ زیب، محمد نواز پر بھی اس طرح کی ہلکی پھلکی پابندیاں لگیں۔ جن کی گونج میڈیا میں کچھ عرصہ تک قائم رہنے تک ختم ہو گئی۔ اس سے پہلے جب محمد عامر، سلمان بٹ اور محمد آصف کو انگلینڈ میں اس ہی طرح کے الزامات پر جیل کی ہوا کھانی پڑی تو پورا میڈیا گلا پھاڑ پھاڑ کر اس قومی ذلت پر چیخنے پر مجبور ہو گیا کیونکہ اس وقت پاکستان کا میڈیا حکمرانوں کے ہاتھوں سے نکل کر تقریباً آزاد ہو چکا تھا۔ اس خبر کے پیچھے ایک فوجی حکمران کا ہاتھ تھا۔ پرویز مشرف نے اس قومی میڈیا کے جن کو بوتل سے باہر نکالا۔ اس طرح ملک میں پرائیویٹ چینل کھلنا شروع ہو گئے۔ موجودہ دور میں میڈیا کی آزادی کے باعث ہر بات کھل کر سامنے آرہی ہے۔ عثمان بزدار وسیم اکرم پلس، عمران خان عثمان بزدار پلس، پر ان کے مخالفین بہت سے الزامات لگا رہے ہیں لیکن ان پر ذاتی طور پر کرپشن کا الزام نہیں لگایا ہے۔ یہ بھی آزاد میڈیا کا کمال ہے کہ یہ الگ بات ہے کہ عامر سہیل نے وسیم اکرم پر یہ بھی الزام لگایا کہ اس نے میچ فکسر کے کہنے پر 1996ئ، 1999ءاور 2003 کے ورلڈکپ جان بوجھ کر ہارے کیونکہ وہ نہیں چاہتے تھے کہ 1992ءکے ورلڈکپ کی جیت کو گھن لگا دیا جائے۔ وسیم اکرم پر ان کے مخالفین یہ الزام بھی لگاتے ہیں کہ انہوں نے ایک طرف اپنے بھائی کے ساتھ مل کر میچ فکسر سے بڑا پیسہ کمایا دوسری طرف عمران خان کی حمایت تاکہ 1992ءکا ورلڈکپ کی اہمیت قائم و دائم رہے اس کے عوض صدارتی تمغہ، یہ ساری باتیں عام ہونا شروع ہوئیں جب سلیم ملک نے پچیس سال بعد آزاد میڈیا پر آکر یہ دہائی دینی شروع کردی کہ صرف انہیں ہی کیوں نشانہ بنایا گیا۔ یاد رہے کہ سلیم ملک پر 1996 میں جسٹس قیوم کمیشن نے تاحیات پابندی یا بین لگا دیا تھا۔ سلیم ملک نے یہ بھی الزام لگایا کہ ان کے ساتھ ان کی ٹیم کے تقریباً نو کھلاڑیوں کو بھی اس کمیشن نے مورد الزام ٹہرایا تھا لیکن سزا صرف انہیں اور عطاءالرحمن کو ہی دی گئی جب کہ ان کے مرکزی کرداروں کو اس طرح کی سزاﺅں سے بچا کر معمولی جرمانے لگائے گئے کیونکہ یہ کھلاڑی بہت مضبوط حیثیت کے مالک تھے اور ان کو بین الاقوامی طور پر بے پناہ ساکھ کا مالک سمجھا جاتا تھا اور وہ پاکستانی کرکٹ ٹیم کے مضبوط مقام کے حامل تھے اس لئے ان کھلاڑیوں کو مرکزی میچ فکسروں نے بچا کر نہ صرف اس زمانے کی کرکٹ ٹیم کا کپتان بنایا بلکہ بعد میں اور موجودہ کرکٹ کے آرگنائزر میں بھی اہم مقام دیا گیا۔
راشد لطیف اور باسط علی بھی اپنے کرکٹ کے کیریئر قربان کرکے شروع سے ہی اس کرکٹ مافیا کے خلاف لگے رہے اپنے اپنے لیول پر ان بڑے بڑے بتوں کو توڑنے کی کوششوں سے اپنے سر تڑوا بیٹھے اور جلد ہی ان کو کرکٹ ٹیم اور ٹیسٹ میچ سے باہر کردیا گیا۔ ان کے ساتھ عامر سہیل نے بھی جب علم بغاوت بلند کیا تو اس کے خلاف بھی سازشیں کرکے ان کا منہ بند کروانے کی کوششیں رکھیں۔ اور ایک مدت تک ان کو کرکٹ ٹیم میں واپس آنے سے روکا جب کہ ان میچ فکسر کو اپنے اہم وقت میں کرکٹ کے انتظامات میں بھی اہم عہدوں پر بھی نوازا گیا اور ان کرپٹ کھلاڑیوں کو کرکٹ ہیرو بنا کر پیش کیا جاتا۔
یہی وجہ ہے کہ وسیم اکرم، وقار یونس، مشتاق اور انظمام الحق جو کہ کرکٹ میں اپنی قابلیت کی وجہ سے دنیا میں ایک اہم اور بڑے مقام کے حامل تھے ان بڑے کھلاڑیوں نے اپنے ماضی کی غلطیوں کو فراموش کروا کر کرکٹ بورڈ میں اہم عہدے بھی حاصل کئے۔ جب پاکستان کے میڈیا میں ان کو ہیرو کے طور پر نوازا جاتا اور پاکستان کے کرکٹ کے محبت کرنے والے دلوں پر یہ راج کررہے تھے تو اس موقع پر سوشل میڈیا پر راشد لطیف اور ڈاکٹر نعمان نے ان کے خلاف گھیرا تنگ کرنا شروع کردیا کیونکہ ان دنوں میں بھی راشد لطیف اور ڈاکٹر نعمان کو اندازہ تھا کہ وہ کن بڑے بتوں کو ڈھا رہے ہیں اور ان بتوں کے ہاتھ کتنے لمبے ہیں اس لئے انہوں نے ان کا نام لئے بغیر اپنا مشن جاری رکھا اور اشارے کناﺅں میں ان کے کرتوتوں سے اپنے سوشل میڈیا کے ناظرین کو مسلسل آگاہ کرتے رہے پھر ایک وقت یہ بھی آیا جب کرکٹ کا ایک سابقہ کھلاڑی جو اپنی دیوانگی کے لئے مشہور تھا وہ بھی سامنے آگیا اور اس طرح سرفراز نواز نے بھی سوشل میڈیا پر آکر ان چاروں کھلاڑیوں کا نام لے کر ان کی ماضی کے کارناموں کو اجاگر کیا اس سے پہلے ان کے زمانے کے کرکٹ بورڈ کے چیئرمین سابق خالد محمود نے بھی ان بڑے بتوں کے نام لے کر سرکاری طور پر ان چار بڑے کھلاڑیوں کی نشاندہی کی، جوابی طور پر ان کے مخالفین نے باسط علی کو نشانہ بنانے کی بھرپور کوشش کی جس میں سابق چیئرمین عارف علی عباسی اور انتخاب عالم بھی شامل تھے یہ بات بھی سمجھنے کی ہے کہ اس موقع پر جب سارا نزلہ ان چار بڑے کھلاڑیوں پر گر رہا تھا اس وقت باسط علی کا نام لے کر یہ ایک طرح سے ان چار بڑے کھلاڑیوں سے توجہ ہٹانے کی کوشش قرار دی جا سکتی ہے حالانکہ باسط علی تو ان ابتدائی کھلاڑیوں میں شامل تھا جس نے اس طرح کے مکروہ دھندے کے خلاف آواز اٹھائی اس طرح بچارہ باسط علی دوہرے ظلم کا شکار ہو گیا اس پر ایک بہترین کیریئر کی قربانی کے ساتھ بدنامی کا دھبہ بھی اس پر لگانے کی کوشش کی گئی۔ دوسری طرف عطاءالرحمن بھی میڈیا پر آکر یہ کہنے پر مجبور ہو گیا کہ صرف اس کو ہی اس جرم کی سزا دے کر زندگی بھر کے لئے بین لگا دیا گیا اس کا بھی یہ ہی کہنا تھا کہ ان بڑے بڑے کھلاڑیوں کو کیوں ہلکی سزائیں دے کر بعد میں کرکٹ ہیرو بنا کر پیش کیا گیا اب اس کے بچے بڑے ہو رہے ہیں ان کے سامنے اپنے ناکردہ گناہوں کا کیا جواب دے گا۔
حالانکہ عطاءالرحمن نے اس وقت کے چیئرمین خالد محمود کے سامنے حلف نامہ جمع کروایا کہ ان چاروں کھلاڑیوں کے نام جن میں وسیم اکرم، وقار یونس، انظمام الحق اور مشتاق شامل تھے۔ کرکٹ بورڈ کے سامنے جمع کروایا مگر جب اس کو دھمکیاں ملی تو وہ بیچارہ غریب آدمی اپنے بیان حلفی سے قیوم کمیشن میں مکر گیا۔ سلیم ملک کا کہنا تھا کہ قیوم کمیشن نے ان کے ساتھ اس کرکٹ ٹیم کے نو کھلاڑیوں کا نام کنفرم کیا تھا جو اس مکروہ دھندے میں مرکزی کردار تھے جب خالد محمود اور سرفراز نواز کی بیان سوشل میڈیا سے نکل کر پاکستان کے مرکزی میڈیا پر آنی شروع ہوئی تو مظہر عباس اور عامر سہیل نے بھی مرکزی میڈیا پر آکر کھل کر ان کھلاڑیوں کا نام لے کر تمام حقائق سے کرکٹ کے مداحوں کو چھپے رازوں سے آشنا کرنا شروع کردیا۔ جیسا کہ راشد لطیف اور ڈاکٹر نعمان شروع سے ہی سوشل میڈیا کے ذریعہ یہ باور کرنے میں مشغول تھے کہ بڑے سانپوں کو جو کرکٹ مگرمچھ بن چکے ہیں ان پر بھی ہاتھ ڈالا جائے۔ عامر سہیل اور سلیم ملک نے مبشر لمقان کے پروگرام کے علاوہ جیو نیوز کے پروگرام میں کرکٹ کے ان مگرمچھوں پر بھی انگلیاں اٹھانی شروع کردی ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی کرکٹ ٹیم اس قدر مضبوط تھی کہ وہ 1992ءکے ورلڈ کے علاوہ 1996ئ، 1999ئ، 2003ءکے ورلڈکپ بھی جیتنے کی صلاحیت رکھتی تھی لیکن میچ فکسر نے اس کو خرید کر پاکستان کو اس اعزاز سے محروم رکھا اس طرح ان بدعنوان بڑے کھلاڑیوں کو جو مادی فائدے حاصل ہوئے اس کے علاوہ ان کی بھی حمایت حاصل تھی جو چاہتے تھے کہ پاکستان 1992ءورلڈکپ جیتنے کے بعد باقی کوئی بین الاقوامی اعزاز حاصل نہ کرسکے۔ اس طرح 1992ءکے ورلڈکپ کی منفرد حیثیت برقرار رہ سکے۔
معروف اینکر ڈاکٹر دانش نے کرکٹ بورڈ کے اعلیٰ حکام سے اس بات کی بھی وضاحب طلب کی ہے کہ پچھلے آئی پی ایل کے آخری تین میچوں کے نشریاتی حقوق دبئی کی کمپنی کو جس کا مالک بھارتی شہری مرلی دھرن ہے اس شرطر پر دیئے گئے کہ ان آخری تین میچوں کی میچ فکسنگ کا اختیار بھی پاکستان کرکٹ بورڈ کے حکام کو ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں