ریاست مدینہ کا سفر اور میں۔۔۔شرمندہ شرمندہ 154

کوئی تو ہو جو مری وحشتوں کا ساتھی ہو

کراچی شہر جسے روشنیوں کا شہر کہا جاتا تھا، آج کوڑے کرکٹ کا ڈھیر بن چکا ہے۔ حالیہ بارشوں نے کراچی کے مکینوں کو دو حصوں میں تقسیم کردیا ہے، ایک جو غریب بستیوں پر مشتمل کراچی ہے جہاں آج صورتحال خوفناک حد تک خراب ہے اور بارشوں کے پانی نے لوگوں کی املاک کو شدید نقصان پہنچایا ہے اور حکومت کی جانب سے کوئی ایسے اقدامات نہیں کئے گئے جو ان خستہ حال لوگوں کی داد رسی کرسکیں۔ دوسری جانب ڈیفنس، کلفٹن اور کراچی کے وہ علاقہ ہیں جہاں ہمارے حکمرانوں کے محلات ہیں، وہاں کا نقشہ کراچی کو خوبصورت شہر کے طور پر پیش کررہا ہے۔ جہاں بارشوں کے بعد مزید نکھار آتا دکھائی دے رہا ہے اور جہاں لوگ اپنے ٹیرس پر بیٹھ کر چائے کے ساتھ سموسے، پکوڑے کھا رہے ہیں یعنی ایک ہی شہر میں کس قدر بڑا تضاد ہے مگر ہماری یہ خاموشی اور بے حسی کہیں کسی بڑے طوفان کا پیش خیمہ تو نہیں۔ یہی حالات رہے اور ایسے ہی ظلم و جبر کا ماضی میں فائدہ اٹھا کر اور ان مسائل کو عوام کے سامنے لا کر الطاف حسین جیسے لوگوں نے کراچی کو تہس نہس کرکے رکھ دیا۔ وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کے دست راست جنہیں میں زمانہ طالب علمی سے جانتا ہوں اور جن کا نام ناصر حسین شاہ ہے اور جو سکھر سے ملحقہ علاقہ روہڑی کے رہائشی ہیں کا بیان نظر سے گزارا کہ ”نالوں پر تجاوزات ہم نے نہیں بنائیں“ اور ان کا یہ بیان بالکل درست ہے۔ ہم غیر کراچی والوں سے کیسے اور کیونکر شکایت کریں؟ جب کہ ہمارے اپنے نمائندوں نے جن کا تعلق کراچی سے رہا یا ہے اور جو آج بھی اسمبلیوں میں بیٹھے ہیں مگر اپنی حیثیت کھو چکے ہیں۔ ورنہ ایک زمانہ تھا کراچی کے عوام کی ناراضگی کا خوف حکومت کے ایوانوں میں تھر تھری پیدا کر دیتا تھا مگر اس صورتحال سے ڈرا کر کراچی کے سابقہ نمائندوں نے اپنی جیبیں بھریں مگر کراچی کے اور اربن سندھ کے لئے کچھ نہیں کیا۔ چھوٹی چھوٹی ملازمتوں پر لوگوں کو بھرتی کروایا جنہیں بعد ازاں سیاسی بھرتیوں کا الزام لگا کر فارغ کردیا گیا جب کہ سندھ حکومت نے بے دریغ گزٹڈ پوسٹ پر اپنے لوگ بھرے۔ کچھ اندرون سندھ سے پبلک سروسز کے ذریعہ بھرتی کرکے کراچی کو تحفتاً پیش کردیئے، یوں پورے کراچی کے انتظامی امور ایسے افراد کے ہاتھوں میں چلے گئے جن کا کراچی سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں۔ ان کا مقصد صرف اور صرف کراچی سے پیسہ بٹورنا ہی رہا۔ آج اگر آپ کراچی کے ڈیفنس یا کلفٹن کے اپارٹمنٹس کا جائزہ لیں تو آپ کو اندرون سندھ کا نقشہ نظر آئے گا۔ کلفٹن اور ڈیفنس کی مارکیٹوں اور پلازوں میں آپ کو سندھی بولی سنائی دے گی جو کسی بھی طور قابل اعتراض نہیں مگر دُکھ جب ہوتا ہے جب ایسا تاثر دیا جاتا ہے کہ کراچی کے لوگ یرغمال ہیں اور ملک کے اصل حکمران یہی لوگ ہیں۔ چلیں یہ بھی مان لیں کہ حکمرانی مقامی لوگوں کا حق ہے تو پھر انصاف کے تقاضوں کا کیا کیا جائے جنہیں پورا نہیں کیا جارہا اور مظالم بڑھتے چلے جارہے ہیں۔ کراچی اور اربن سندھ کے لوگ کس قدر مجبور و لاچار ہیں کہ جنہیں غیروں سے شکوہ کرنے کا حق یوں نہیں کہ انہیں تو ان کے اپنوں نے بھی ننگا کر کے غیروں کے آگے کھڑا کردیا اور اب کوئی نہیں جو ان کراچی والوں کی دادرسی کرسکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں