الوداع اے محسن قوم الوداع 85

کچھ بھی نہیں بدلا

عام تاثر ہے کہ پاکستان میں اس قدر کرپشن، غنڈہ گردی، اداروں میں بدعنوانی، ریا کاری کے باوجود پاکستان سلامت ہے اور یہ اللہ رب العزت کی کرم نوازی ہے کہ پاکستان زندہ و تابندہ ہے اور دنیا کے نقشہ پر موجود اپنے ہونے کا احساس دنیا بھر کو دلاتا رہتا ہے۔ معاشی مشکلات کا شکار ہونے کے باوجود خدا کے فضل و کرم سے ایٹمی طاقت بھی رکھتا ہے اور دشمنوں کے دانٹ کھٹے کرنے کے لئے بہترین فوج اور ایئرفورس کا وجود بھی۔ موجودہ کرونا وائرس کی صورتحال میں جب کہ پوری دنیا معاشی مشکلات سے دوچار ہے اور کورونا سے خوفزدہ ہو کر تقریباً گزشتہ ایک سال سے گھروں میں مقید ہے۔ پاکستان میں بغیر کسی خوف کے لوگ اپنے کاروبار زندگی میں مصروف ہیں اور اس وائرس نے ان کا بال بھی بیکا نہیں کیا۔ شاید دنیا کو دکھانے کے لئے کچھ SOP’s پر عمل درآمد کرلیتے ہوں مگر سچ تو یہ ہے کہ کسی کو کرونا
وائرس سے کوئی خوف نہیں۔ یوں پاکستان کے 70 سال گزر جانے کے باوجود ہر برائی اپنی جگہ موجود ہے بلکہ عوام میں اخلاقی گراوٹ بہت بڑھ چکی ہے۔
ہمارے ٹی وی چینلز جس قسم کے اخلاق سے گرے ہوئے ڈرامہ دکھاتے ہیں اس سے صاف ظاہر ہے کہ پاکستان کے فیملی سسٹم کو ایک خاص پلاننگ کے تحت سبوتاژ کیا جارہا ہے۔ ہمارا میڈیا ہو، عدالتیں ہوں یا قومی، صوبائی یا سینیٹ اسمبلیاں ہر جگہ کرپشن کا بازار گرم ہے۔ اقرباءپروری نے ملک کو تباہی کے دھانے پر پہنچا دیا ہے یوں ہر شاخ پر الو بیٹھا ہے، کسی جگہ پر
Right Man at the Right Place
والی بات دیکھنے میں نہیں آتی اور یہی وجہ ہے کہ کسی بھی شعبہ میں بہتری دکھائی نہیں دیتی بلکہ بس کام چل رہا ہے جس کا جہاں داﺅ چلتا ہے، وہ دوسرے کا سر قلم کرکے آگے بڑھ جاتا ہے، پیسہ کمانے کی دھن نے اخلاقیات کے سارے درس پس پشت ڈال دیئے ہیں۔ آنے والے سینیٹ کے الیکشن ہوں یا ضمنی انتخابات جس طرح کا رویہ دیکھنے میں آرہا ہے وہ قابل مذمت بھی ہے اور قابل شرم بھی مگر کیا کیا جائے، ہمارے میڈیا کا یا ہمارے جسٹس سسٹم کا کہ ہر شخص قومی مفاد کو
بالائے طاق رکھ کر یا تو اپنے مفاد کے لئے کام کررہا ہے یا پھر حق اور سچ بات کہنے کی جرات نہیں رکھتا کہ اسے نوکری اور تمام مراعات سے ہاتھ دھونے پڑیں گے اور اس کی اولاد کو بھی پاکستان میں چھپنے کے لئے کوئی کونہ درکار نہ ہو گا۔ المیہ یہی ہے کہ جن لوگوں نے پاکستان کی باگ دوڑ سنبھالی ہوئی ہے یہ سب قیام پاکستان کے مخالف تھے اور ان کے آباﺅ اجداد انگریزوں کی غلامی کرتے رہے اور آج بھی تاج برطانیہ سے وفاداری کا دم بھرتے ہیں۔ ان میں نہ صرف ہمارے سیاستدان شامل ہیں بلکہ بیوروکریٹس اور ہمارے چند فوجی جرنیل آج بھی اسی گوروں سے کئے گئے اسی عہد کو نبھا رہے ہیں اور اپنا سر تسلیم خم کئے ہوئے ہیں جو سر اٹھاتا ہے اس کا سر قلم کردیا جاتا ہے اور نہ جانے یہ سلسلہ کب تک یونہی چلتا رہے گا اور کب اس سیٹ اپ سے نجات مل سکے گی؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں