اندھے لوگوں کا دیس 45

کہتا ہوں سچ کہ جھوٹ کی عادت نہیں مجھے۔۔۔ انس مرتضیٰ خان کے حوالے سے کڑوا سچ

غالباً سنہ 2005ءکا واقعہ ہے کہ الطاف حسین کے بہنوئی یونس سلیمان ایک شخص کو میرے پاس لائے اور بتایا کہ یہ ملازمت کی تلاش کررہا ہے، اس کی کچھ مدد کرو۔ میں اس وقت نیویارک سے شائع ہونے والے ہفت روزہ اخبار میں شکاگو کا بیورو چیف تھا۔ بعدازاں میں نے ہفت روزہ پاکستان ٹائمز کا شکاگو سے اجراءکیا۔ چنانچہ میں نے یونس سلیمان کی سفارش پر انس مرتضیٰ کو اخبار کی ترسیل کا کام دے دیا۔ رہائش اور کھانا مفت اور ایک ہزار ڈالر ماہانہ جو وہ اپنی پاکستان اور روس میں موجود دو بیگمات کو بھجوایا کرتے تھے۔ سلسلہ چلتا رہا اور اخبار کی ترسیل ہوتی رہی۔ بعدازاں میں نے کینیڈا میں بھی پاکستان ٹائمز کا اجرا کردیا جس کے سبب توجہ کینیڈا کی جانب مرکوز رہی اور یوں میں نے اس مرتضیٰ خان کو جو ایک کم تعلیم یافتہ شخص ہے اور دو لائن انگریزی کی بھی نہیں لکھ سکتا۔ ان کی خواہش پر ڈرائیور کے بجائے ایڈیٹر کا بزنس کارڈ دے دیا۔ یہ تقریباً 10 سال تک اخبار کی ترسیل کا کام سر انجام دیتے رہے اور باہر کے کاموں پر بھی مامور رہے مگر اخبار کے کام میں زیادہ پیسہ نہیں ملتا اور بدقسمتی سے امریکہ کے شائع ہونے والے تمام کمیونٹی اخبارات مفت تقسیم ہوتے ہیں چنانچہ ادارہ ہمیشہ وسائل کی کمی کا شکار رہا مگر اخبار ایک ایسا شوق ہے کہ جس کی لت لگ جائے تو پھر ”چھڑائے نہیں چھٹتی“ چنانچہ ہم بھی لگے رہے، ایک موقع پر آکر انس مرتضیٰ خان کو شکایت ہوئی کہ ان کے اخراجات پورے نہیں ہوتے چنانچہ وہ مزید کام نہیں کرسکتے اور انہوں نے عثمانیہ گروپ کے ایک گیس اسٹیشن پر طبع آزمائی کا فیصلہ کیا اور یوں وہ ساﺅتھ کے ایک گیس اسٹیشن پر کیشیئر کی حیثیت سے ملازمت کرتے رہے۔ مگر اپنی سخت اور متکبر طبیعت کے سبب کئی بار گیس اسٹیشن اسٹاف کے دیگر افراد سے منہ ماری کے سبب عثمانیہ گروپ نے انہیں خیرباد کہہ دیا۔ یہ ایک بار پھر ہمارے پاس آئے اور خواہش ظاہر کی کہ یہ UBER میں ڈرائیور بننا چاہتے ہیں چنانچہ ہم نے ان کا کریڈٹ نہ ہونے کے باوجود اپنے عزیز دوست ملک سلیم سے جو کہ فورڈ کار ڈیلر شپ پر مینجر ہیں سے ملوا کر انہیں کار دلوا دی اور UBER کے آفس واقع ڈاﺅن ٹاﺅن میں انہیں لے جا کر ان کا پورا پیپر ورک کروادیا اور یوں یہ دوبارہ کام سے لگ گئے بعدازاں معلوم ہوا کہ یہ ڈاﺅن ٹاﺅن میں ہی کسی خاتون کے ساتھ رہائش پذیر ہیں۔ جس نے ان سے وعدہ کیا ہے کہ وہ انہیں گرین کارڈ دلوا دے گی۔ کئی مہینوں وہاں تخت آزمائی کرکے مایوس ہونے اور کئی ہزار ڈالر کا نقصان کرنے کے بعد یہ دوبارہ ہمارے پاس آئے اور ہمارے ساتھ رہنے کی خواہش ظاہر کی۔ ہم نے ان کی سابقہ سروسز اور پرانے تعلقات کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں اپنے اپارٹمنٹ میں ایک کمرہ دے دیا جو 6231 نارتھ کیلی فورنیا ایونیو پر واقع بلڈنگ کی دوسری منزل پر ہے اور جہاں ہم گزشتہ 9 سالوں سے مقیم تھے مگر اب ان کی قدرِ حالات بہتر تھی اور ان کی مالی حالت بھی قدرے بہتر تھی۔ UBER کی ڈرائیور کی حیثیت سے انہوں نے محنت کرکے ماشاءاللہ خوب رقم بھی اکھٹی کرلی تھی چنانچہ انہوں نے ہمیں طعنہ دینا شروع کردیا کہ میں نے آپ کے ساتھ بہت نقصان اٹھایا اور بہت کم پیسوں میں کام کرکے اپنے کئی سال ضائع کردیئے۔ ہم خاموشی سے سنتے اور اللہ سے دعا کرتے کہ وہ انہیں ہدایت دے۔
فروری 2020ءسے وقت بدل گیا اور کورونا وائرس نے مشکلات کھڑی کردی۔ ہمارا بارڈر کراسنگ کا معاملہ بھی مشکل ہو گیا اور کئی ماہ تک ہم شکاگو نہ آسکے۔ ہم نے اپنے اخبار کو بھی کووڈ 19 کے سبب عارضی طور پر آن لائن کردیا تاکہ پرنٹنگ کے اخراجات سے بچا جا سکے کیونکہ کمیونٹی اس قدر خوفزدہ تھی کہ لوگ گراسری اٹھاتے ڈرتے تھے نہ کہ وہ اخبار پڑھتے۔
یہ بتانا ضروری ہے کہ انس مرتضی خان کو جس وقت یونس سلیمان ہمارے پاس لائے تھے اور یونس سلیمان کے کہنے پر ہم نے انہیں ملازمت دی تھی اس وقت بھی وہ الیگل تھے اور آج بھی الیگل ہیں مگر ہم نے انہیں دیگر دیسی بزنس مینوں کی طرح اسٹیٹس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے 2 ڈالر پر ملازمت نہیں دی بلکہ انہیں اپنے اپارٹمنٹ میں رکھا اور انہیں پوری عزت سے سرفراز کیا۔ کمیونٹی میں جہاں گئے، انہیں متعارف کروایا اور پورے شہر میں ان کا ڈنکا بجنے لگا مگر کہاوت ہے کہ ”اصل سے خطا نہیں اور نقل سے وفا نہیں“۔ غداری تو خون میں ہوتی ہے اور نہ جانے ان کے اندر کس کا خون دوڑ رہا ہے کہ جس نے انہیں ہم سے غداری پر مجبور کیا۔ انہیں ہم سے یہ بھی شکایت رہی جس کا یہ بارہا اظہار بھی کرتے رہے کہ ہم نے ان کا اسٹیٹس لیگل نہیں کرایا۔ کمیونٹی جانتی ہے کہ آج کا امریکہ وہ نہیں جہاں اس سے قبل ہر دس سال کے بعد بلاتفریق تمام غیر قانونی تارکین وطن کو قانونی کردیا جاتا تھا مگر 9/11 کے بعد کا امریکہ مختلف ہے اور آج کے امریکہ میں جو غیر قانونی ہو گیا وہ غیر قانونی ہی رہتا ہے۔ ہاں سوشل سیکیورٹی حصول میں بھی اب مشکلات ہو چکی ہیں، ماضی میں الیگل لوگوں نے بھی سوشل سیکیورٹی کارڈ حاصل کرلئے جس کے بدولت لوگ غیر قانونی ہونے کے باوجود ملازمت حاصل کرلیتے ہیں۔ کوئی گیس اسٹیشن پر ملازمت، کوئی دیسی دوکانوں پر کیش پر کام کرنے لگتا ہے اور کوئی ٹیکسی اور UBER چلانا شروع کر دیتا ہے۔
قصہ مختصر یہ کہ اس بار انس مرتضیٰ خان نے کووڈ 19 کا فائدہ اٹھا کر ہم سے پرانی ذاتی پرخاش نکال لی اور اس کووڈ 19 میں ہماری غیر حاضری میں ہمارے اپارٹمنٹ کی لیز مالک مکان سے یہ کہہ کر کہ اب ندیم بھائی واپس نہیں آئیں گے اپنے نام ٹرانسفر کروا لی۔
گزشتہ ہفتہ ہم عرصہ دراز کے بعد شکاگو آئے تو معلوم ہوا کہ انس مرتضیٰ خان لیز ہماری اجازت کے بغیر اپنے نام ٹرانسفر کراچکے ہیں۔ مقام افسوس ہے کہ ہمارے بارہا پوچھنے کے باوجود آخر تک یہی کہتے رہے کہ وہ یہ اپارٹمنٹ چھوڑ رہے ہیں اور وہ یہاں رہنا نہیں چاہتے، یوں انہوں نے ہمیں دھوکے میں رکھا اور اپنی اصلیت ظاہر کردی۔ کمیونٹی میں جب کبھی کسی سے بات کی ہمیں یہی بتایا گیا کہ اس انس مرتضیٰ آپ سے بہت خفا رہتے ہیں اور آپ کے بارے میں ہمیشہ نازیبا زبان استعمال کرتے ہیں مگر ہم نے کمیونٹی کی باتوں کو اہمیت نہ دے کر غلطی کی اور انس مرتضیٰ خان کو اپنے ساتھ رہنے کی اجازت دیئے رکھی۔ نتیجتاً ہمیں اس فراڈ اور دھوکہ کا سامنا کرنا پڑا۔ ہمیں ہمارے لیگل ایڈوائزر نے قانونی چارہ جوئی کا مشورہ دیا مگر ہم نے اس گند میں خود کو ڈالنے سے پرہیز کرتے ہوئے انکار کردیا کہ ایک کرایہ کے اپارٹمنٹ کے لئے ہم انس مرتضیٰ خان جیسے جھوٹے اور گھٹیا شخص کے لیول پر نہیں جاسکتے۔ اور اس معاملے سے درگزر کرنے کو ترجیح دی۔ سونے پہ سہاگہ کہ ان کا ایک بھتیجا جو کہ لندن یوکے میں الطاف حسین کی خدمات پر مامور ہے، ہمیں کالیں کرکے دھمکیاں دے رہا ہے کہ نہ تو شکاگو دور ہے اور نہ کینیڈا۔ شاید وہ نہیں جانتا کہ یہ پاکستان نہیں ہے مگر پھر ہم نے سوچا کہ جو ڈاکٹر عمران فاروق کو لندن کی اسٹریٹ پر خون میں نہلا دیں وہ شکاگو یا کینیڈا میں بھی کارروائی کر سکتے ہیں۔ یوں ہم یہ بات ریکارڈ پر لانا چاہتے ہیں اور امریکہ کے حکام بالا سے درخواست کرتے ہیں کہ انس مرتضیٰ جیسے لوگوں کو جو غیر قانونی طور پر مقیم ہیں اور کسی بھی غیر قانونی کام کے مرتکب ہو سکتے ہیں پر گہری نظر رکھی جائے خصوصاً ان کے پاس آنے جانے والوں پر کہ ان کا ماضی داغدار ہے اور کرمنلز کی بہت بڑی تعداد پاکستان سے بھاگ کر غیر قانونی طور پر ان ممالک میں سکونت اختیار کئے ہوئے ہے۔
آخر میں ہم کمیونٹی سے درخواست کرتے ہیں کہ انس مرتضیٰ سے ہوشیار رہیں جو کہ اپنے محسنوں کے ساتھ نچلی سطح تک جا سکتے ہیں، وہ کمیونٹی کے دیگر افراد کے ساتھ کیا سلوک روا رکھ سکتے ہیں، ان کے نزدیک امریکہ خصوصاً شکاگو میں رہنے والے تمام پاکستانی گھٹیا ہیں اور ناجانے اور کیونکر وہ امریکا آ گئے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ پاکستانی کمیونٹی سے ملنا جلنا بھی پسند نہیں کرتے کہ یہ ان کا لیول نہیں ہے۔ اور ہم سوچ رہے ہیں کہ ایک UBER ڈرائیور کمیونٹی اور دیگر افراد کا لیول کیونکر اور کیسے ناپ سکتا ہے۔ ہم دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کو ہدایت دے اور انہیں اس تکبر سے دور کرے جو ان میں UBER کی کمائی کے سبب پیدا ہو گیا ہے۔ یہاں ہم یہ بھی وضاحت کردیں کہ کووڈ 19 کی وجہ سے آن لائن جانے والا پاکستان ٹائمز شکاگو بہت جلد آپ کے ہاتھوں میں ہوگا۔ موجودہ حالات کے پیش نظر ہم نے شکاگو آفس نئی جگہ منتقل کردیا ہے جس کی لوکیشن سے کمیونٹی کو جلد آگاہ کردیا جائے گا۔ کمیونٹی کے خلوص اور محبت کا بے حد شکریہ، ہمیں خوشی ہے کہ جن جن افراد نے اس واقعہ کو سنا انہوں نے ہمارے لئے نیک جذبات کا اظہار کیا۔ ہماری حوصلہ افزائی کی اور ہماری انس مرتضیٰ خان کے خلاف قانونی چارہ جوئی نہ کرنے کے عمل کو قابل تحسین اقدام قرار دیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں