Hanif Dawami Columnist at Pakistan Times Chicago and Toronto 40

کیا عمران خان یہودی سازش کا شکار ہو رہے ہیں؟

کیا مسجد اقصیٰ یعنی مسلمانوں کے قبلہ اول پر حملہ اور خود خرابہ ترکی کو گھیرنے کے لئے حربہ کے طور پر کیا گیا ہے۔۔۔ کیا اس طرح سے کرکے ”حماس“ کے جن کو دوبارہ سے بوتل سے نکلوانا تھا تاکہ اس کو جواز بنا کر اقوام متحدہ کا پلیٹ فارم استعمال کرتے ہوئے اس کے کاندھے پر اپنی توپوں کو رکھ کر افغانستان اور عراق کی طرح سے دوسرے مخالفین کو پتھروں کے دور میں پہنچایا جا سکے۔ یہ اہم تریک موضوع ان دنوں دنیا کے اہم ترین فورمز میں زیربحث ہے اور اس کی زد میں ترکی، ایران اور خود پاکستان کے آنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے یہ ایک بہت بڑی سازش ہے جس کے ذریعے ایک تو 2023ءمیں ترکی جو آزادی کا خواب دیکھ رہا ہے اس خوابکی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنا اور دوسرا ترکی اور پاکستان کو ایک دوسرے کا ہمنوا بنانے کے بجائے ایک دوسرے کا جانی دشمن بنانا ہے اس پر ہی اس وقت دنیا کے سارے چھوٹے بڑے شیاطین مل کر کام کررہے ہیں اور اس مقصد کے لئے اپنے بنائے جانے والے قانونی ڈھال ”اقوام متحدہ“ کو استعمال کرنے کے لئے ڈرافٹ بھی بنوا رہے ہیں، کہنے والے تو یہاں تک کہہ رہے ہیں کہ کرونا کے پراسرار اسکینڈل کو پھیلانے کا ایک مقصد اس ٹارگٹ کو پورا کرنا بھی ہے جب کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تبدیلی بھی اس موجودہ حدف کو پورا کرنے کی غرض سے کی گئی تھی کیونکہ پالیسی سازوں کو اس بات کا ڈر تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ صاف گو اور جذباتی ہیں ان کی ذرا سی غلطی سے ان کا بنا بنایا کھیل ہی خراب نہ ہو جائے اس وجہ سے وہ ان کی جگہ دوسرا امریکی صدر لے آئے۔
مغربی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ سارا کام ہی اسکرپٹ کے عین مطابق کیا جارہا ہے فی الحال ترکی کو فوجی لحاظ سے مصروف رکھنے کے لئے ارمینیا کا جھگڑا دوبارہ آذربائیجان سے شروع کروادیا گیا ہے اس طرح سے ترکی آذربائیجان کی مدد کرتے ہوئے اپنی فوج کا ایک حصہ وہاں بھجوا دے گا دوسری جانب اب حماس کی جانب سے پھینکے جانے والے گولہ بارود کو میڈیا کے سامنے دکھانے کی کوشش کی جائے گی یا پھر کسی کو پکڑ کر اسے حماس کا دہشت گرد بنا کر مغربی میڈیا کے سامنے پیش کیا جائے گا اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کی جائے گی کہ حماس کی شکل میں ترکی اور ایران کے فوجیوں نے ایک طرح سے اسرائیل پر جنگ مسلط کرکے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کی ہے اس اسکرپٹ پر بھی اس وقت پوری تندہی کے ساتھ کام ہو رہا ہے جس کا مقصد پاکستان کی مدد سے ترکی کو عالم اسلام کا لیڈر بننے سے روکنا اور سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سمیت دوسرے تمام عرب ممالک کی جداگانہ حیثیت کو برقرار رکھنے کے لئے ان کی ہر ممکن مدد کرنا ہے جو سلطنت عثمانیہ کے ٹکڑے بخرے کئے جانے کے بعد اس کے بطن سے نکلے تھے اور اب سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کو اس بات کا ڈر اور خدشہ ہے کہ اگر ترکی معاہدہ سے آزاد ہو گیا تو وہ اپنے علاقوں کی واپسی کا مطالبہ نہ کردے اسی وجہ سے وہ خود کو بچانے کے لئے ترکی کی مخالفت میں تیزی کے ساتھ اسرائیلی کیمپ میں گئے تھے اور اسرائیلی تاجروں کو بہت ہی نرم پالیسیوں پر اپنے ملک میں کاروبار کرنے کی اجازت دے رہے ہیں تاکہ ترکی کے آزادی کی صورت میں جو موت ان کی جانب بڑھ رہی ہے اسے روکا جا سکے اسی شیطانوں کے اسکرپٹ کے مطابق پاکستان کو ترکی کے ساتھ شانہ بشانہ چلانے کے جرم میں عمران خان کو حکومت سے الگ کیا جارہا ہے۔ عمران خان ڈاکٹرئین کو دفن کیا جارہا ہے جو ان کے عزائم کے لئے زہر قاتل ثابت ہو رہا ہے اس طرح سے پاکستان اور ترکی مل کر ایک اور ایک گیارہ بن رہے ہیں جس سے عالم اسلام ایک نئی طاقت کے ساتھ منظرعام پر آسکتا ہے اور گریٹر اسرائیل کی راہ میں مشکلات کھڑی کر سکتا ہے اسی لئے اپنے راستے کے ان کانٹوں کو نکلوانے کے لئے ہی مسجد اقصیٰ کا یہ خونی اسٹیج تیار کیا گیا ہے اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ حماس کے اس حالیہ حملوں نے اسرائیل کے در و دیوار کو ہلا کر رکھ دیا ہے اور اسرائیل کی سلامتی خطرہ میں پڑ گئی ہے۔ حماس کے ان تابڑ توڑ حملوں نے اسرائیل کی سلامتی پر ایک نہیں بلکہ لاتعداد سوالات کھڑے کر دیئے ہیں اور وہاں کی عوام خود اپنی حکومت کے اس خونی کھیل کے خلاف سڑکوں پر نکل آئی ہے۔ حماس کے ان تابڑ توڑ حملوں کے نتیجے میں ایران، ترکی اور پاکستان پر کفار کی جانب سے سفارتی دباﺅ بڑھنے کا امکان ہے۔ جس میں سب سے زیادہ خطرہ اس وقت بیساکھیوں پر کھڑی عمران خان کی حکومت کو ہے جس کے کسی بھی وقت گرنے کا اندیشہ ہے، مخالفین کا تو دعویٰ ہے کہ بجٹ کے بعد عمران خان اقتدار میں نہیں رہیں گے، عمران خان اور ان کے پس پردہ حکمرانی کرنے والی قوتوں کو چاہئے کہ وہ ان افواہوں کو ناکام بنانے کے لئے اقدامات کریں اور ملکی سلامتی کو ہر معاملے پر ترجیح دیتے ہوئے ملک کو عالمی سازشوں کے نرغے میں آنے سے بچائیں اسی میں وطن عزیز کی خود مختاری اور ترقی مضمر ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں