اسلام آباد ہائی کورٹ میں سولہ صحافیوں کی سبکی! 101

کیا نواز شریف کا بیانیہ ریاست مخالف ہے؟

نومبر 2019ءمیں سزا یافتہ مجرم میاں محمد نواز شریف کو جھوٹی بیماری کی آڑ میں باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت لاہور ہائی کورٹ کے حکم پر شہباز شریف کی پچاس روپے کے شورٹی بانڈ ر علاج کے لئے برطانیہ بھجوا دیا گیا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے یہ اجازت آٹھ ہفتوں کے لئے دی اور اس پر وفاقی حکومت نے انسانی ہمدردی کی بنیادوں پر درخواست کا جائزہ لیتے ہوئے موصوف کا نام ای سی ایل سے نکال دیا۔ نواز شریف قطر کے شاہی خاندان کے ذاتی طیارے میں لاہور سے لندن روانہ ہو گئے اور جہاز کی سیڑھتیوں سے قوم اور ریاست کو انگوٹھا دکھاتے ہوئے رخصت ہو گئے۔ اس وقت وہ بالکل ہشاش بشاش اور مکمل تندرست دکھائی دے رہے تھے۔
اس سے پہلے نواز شریف کی جعلی بیماری کا مسلم لیگ ن کے نام نہاد راہنماﺅں نے میڈیا پر اس قدر شور مچایا کہ لوگوں کو بھی نواز شریف پر رحم اور ترس آنے لگا اور ایک عام آدمی بھی اس کی حمایت کرنے لگا۔ اس مہم میں میڈیا کے حکومت مخالف دھڑوں نے خوب ساتھ دیا اور نمک ہلالی دکھائی۔ ایسے ظاہر کیا جارہا تھا کہ نواز شریف شاید چند گھنٹوں یا دنوں کا مہمان ہے اور اس کا سارا ملبہ حکومت وقت پر پڑ جائے گا۔ نواز شریف کی ایک پٹیشن کے دوران اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے یہ تککہہ دیا کہ حکومت نواز شریف کی زندگی کی اگر گارنٹی دے تو مزید مقدمہ چل سکتا ہے جو کہ اطہر امن اللہ کی غیر منطقی اور غیر قانونی ڈیمانڈ تھی۔
غرضیکہ نواز شریف کی صحت کو لے کر ہر طبقہ فکر پریشان تھا، قانون میں ایک سزا یافتہ مجرم کو بیرون ملک بھیجنے کی کوئی نظیر نہیں تھی مگر پھر بھی نواز شریف کے کاسہ لیس درباریوں نے میڈیا کے ساتھ مل کر اس قدر شور مچایا کہ عدلیہ کے نا اہل اور نالائق جج بھی اس سازش میں شریک ہو گئے۔
اب سوال اٹھتا ہے کہ اس وقت وفاقی حکومت نے نواز شریف سے بیرون ملک علاج کے لئے جانے کے عوض سات ارب روپے کی گارنٹی طلب کی تھی۔ یہ گارنٹی نواز شریف کو عدالت کی طرف سے ہونے والے جرمانے کے برابر تھی جو کہ بالکل جائز ڈیمانڈ تھی مگر وہی ہوا کہ جیسے پہلے ہی لاہور ہائی کورٹ شریف فیملی کو دی جانے والی چھوٹ کے لئے بدنام ہے۔ لاہور ہائی کورٹ نے حکومت کی درخواست کو نظرانداز کرتے ہوئے شہباز شریف سے پچاس روپے کے اسٹام پیپر پر گارنٹی کے عوض نواز شریف کو رہا کرنے کا حکم دے دیا جو کہ سراسر خلاف قانون تھا۔ اب عوام کا مطالبہ ہے کہ جن جج صاحبان نے یہ غیر قانونی کام کیا ان کا محاسبہ ہونا چاہئے یا تو ان سے سات ارب روپے لئے جائیں یا پھر وہ نواز شریف کو واپس لائیں۔ یہ کیا تماشہ ہے کہ یہ کینگرو کورٹس کے جعلی ڈگریوں پر بھرتی ہونے والے جج ٹھنڈے کمروں میں بیٹھ کر کچھ بھی حکم صادر کردیتے ہیں اور پھر اس کا خمیازہ انتظامیہ کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ اب اسلام آباد ہائی کورٹ میدان میں آگئی ہے کہ ہم نے تو صرف آٹھ ہفتوں کی اجازت دی تھی اس میں بھی حکومت وقت کو مورد الزام ٹھہرایا جارہا ہے۔ اب حکومت نواز شریف کو لندن سے واپس لانے کے حیلے بہانے کررہی ہے جو کہ بے سود ہونے کا احتمال ہے۔
سزا یافتہ، مفرور اور اشتہاری مجرم نواز شریف کو اس بات کا اچھی طرح ادراک ہے کہ اسے برطانیہ کبھی واپس نہیں دے گا اسی وجہ سے نواز شریف نے موقع غنیمت جانتے ہوئے پاکستانی فوج کے چیف سمیت اعلیٰ سرکاری افسروں کو نام لے لے کر سخت تنقید کا نشانہ بنانا شروع کردیا ہے۔ اس پر سونے پہ سہاگہ موصوف کو پی ڈی ایم کا فورم مل گیا ہے جہاں سے نواز شریف نے اپنے لئے اتنے گڑھے کھود لئے ہیں کہ اب اس کی پاکستانی سیاست میں واپسی تقریباً ناممکن ہو چکی ہے اس نے مذاکرات کے تمام دروازے بند کرلئے ہیں۔ پاکستان میں شہباز اور حمزہ جیل یاترہ پر ہیں اور ان پر مزید سخت وقت آتا جارہا ہے۔ ان کے چند ہارڈ کور ہواری میڈیا پر ترجمانی کرتے نظر آتے ہیں، تازہ اطلاعات کے مطابق مسلم لیگ ن سے بہت سارے لوگ ہاتھوں سے پھسلنے والی ریت کی طرح گرنا شروع ہوگئے ہیں۔
ایاز صادق سابق اسپیکر قومی اسمبلی اور موجودہ ایم این اے نے حق نمک ہلالی کرتے ہوئے پچھلے دنوں 27 فروری 2019ءوالے دن انڈیا کے جہاز گرانے اور ان کے پائیلٹ ابھی نندن کو گرفتار کرنے کے بعد رہا کرنے کے سارے واقعہ کو اس قدر بے شرمی سے پاکستان کی بزدلی ظاہر کیا ہے کہ سر شرم سے جھک جاتا ہے۔ اس واقعہ کے بعد انڈیا کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہ تھا، انڈین پائیلٹ کی رہائی پر پوری دنیا نے پاکستان کو بے حد خراج تحسین پیش کیا، پائیلٹ کو رہا کرنے کے اجتماعی فیصلے میں تمام سیاسی قائدین سے مشاورت کی گئی مگر ایاز جھوٹا نے جس ڈھٹائی سے جھوٹ بولا اور ملک عزیز کا نام مٹی میں ملایا، پوری دنیا میں بسنے والے پاکستانی سخت غصہ میں ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں اس قماش کے کرداروں کو فوری اور سخت سزائیں دی جائیں۔ نواز شریف کی درباریوں کی ٹیم نے ایاز جھوٹا کے موقف کی تائید کی ہے، یہ لوگ عمران خان دشمنی میں اندھے ہو چکے ہیں ان کی حواس باختگی کا یہ عالم ہے کہ انہیں اچھے برے کی تمیز نہیں رہی، ان لوگوں نے حلف کی خلاف ورزی کی ہے جس کی آئین پاکستان میں انتہائی سزا مقرر ہے۔ ہندوستانی میڈیا اور حکومت اس تقریر کو دیوالی کی طرح منا رہی ہے، وہاں ہاری ہوئی جنگ نما واردات کو جیتی ہوئی جنگ کے طور پر پیش کیا جارہا ہے۔ نواز شریف اور ایاز جھوٹا کی تقریروں کو ثبوت کے طور پر ہندوستانیوں اور اقوام عالم کے سامنے پیش کیا جارہا ہے۔ ان ملک دشمن کرداروں کی یہ غلیظ تقریریں کئی دہائیوں تک ہندوستان کے اس موقف کو تقویت دیتی رہیں گی کہ پاکستان کمزور ریاست ہے اور دہشت گردی میں ملوث ہے۔ ایاز کی جان بوجھ کر کی گئی اس تقریر کو ہر سطح پر رد کیا جارہا ہے اور تاریخ کے اوراق ان کرداروں کو اسی طرح یاد رکھیں گے جس طرح غداران وطن کو یاد رکھا جاتا ہے۔ عالم اسلام کی ماضی اور حال کی تاریخ ایسے بے ضمیر کرداروں سے بھری پڑی ہے اور پھر ان کے انجام کیسے ہوئے وہ بھی عقل و شعور رکھنے والوں کے لئے تازیانہ ہے۔ نواز شریف اور اس کے درباریوں کا موجودہ بیانیہ حقیقی معنوں میں ملک دشمن ہے اور ہم اس کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں اور حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ بلاتاخیر ان کو سزائیں دی جائیں اور لاہور ہائی کورٹ کے ان جج صاحبان سے بھی پوچھ گچھ کی جائے وہ کوئی مقدس گائے نہیں ہیں۔ قانون کے نیچے سب کو برابر کی سطح پر لانا ہوگا وگرنہ اسی طرح کے واقعات ہوتے رہیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں