کینیڈا کی مردم شماری کے بارے میں پاکستانی ہائی کمیشن کا کینیڈا کی حکومت کو مراسلہ پریشان کن ہے، پروفیسر مرتضٰی حیدر 99

کینیڈا کی مردم شماری کے بارے میں پاکستانی ہائی کمیشن کا کینیڈا کی حکومت کو مراسلہ پریشان کن ہے، پروفیسر مرتضٰی حیدر

ٹورنٹو (خصوصی رپورٹ) اب سے چند ہفتہ قبل کینیڈا میں پاکستان کے ہائی کمیشن نے ایک پریس ریلیز جاری کی تھی ، جس میں کہا گیا تھا کہ کینیڈا میں جاری مردم شماری کے بارے میں ہائی کمیشن نے کینیڈا کی وزارت ِ خارجہ کو کچھ تجاویز پیش کی ہیں۔ جن کا مقصد مردم شماری میں زبان کے اندراج کے بارے میں کچھ تبدیلیا ں کروانا تھا۔ ہم نے اس ضمن میں ماہرین کی رائے حاصل کرنے کے لئے منصوبہ بندی اور اعداد و شمار کے علم کے ماہر پروفیسر مرتضی ٰ حیدر سے رابطہ کیا۔ ڈاکٹر مرتضیٰ حیدر کینیڈا کی رایئرسن یونیورسٹی میں پروفیسر ہیں، ان کے مضامین اور آراءکینیڈا کے اہم جرائد میں شایع ہوتے ہیں۔
ہمارے رابطہ کرنے پر انہوں نے ایک تفصیلی رائے دی جو مندرجہ ذیل ہے:
“کینیڈا کی مردم شماری میں زبانوں کے بارے میں کینیڈا کے شماریاتی ادارے کے طریقہ کو تبدیل کرنے کی درخواست کئی حوالوں سے مسائل پیدا کرتی ہے اول یہ کہ اس ضمن میں کینیڈا کی وزارتِ خارجہ کو خط لکھنا لاحاصل ہے کیونکہ کینیڈا کے قومی اعداد وشمار کا ادارہ ”اسٹیٹسٹک کینیڈا“ ایک خود مختار ادارہ ہے جو کینیڈا کی وزارتِ سائنس اور صنعت کے تحت کام کرتا ہے۔ دوئم یہ کہ اس خط سے کینیڈا کی مردم شماری کے طریقہ ءکار سے ناواقفیت ظاہر ہوتی ہے۔
اس مراسلہ کا محرک یہ تشویش ہے کہ کینیڈا کے پاکستانی نژاد شہری اور مستقل باشندے اگر پنجابی کو اپنی مادری زبان ظاہر کریں گے تو ہائی کمیشن کو یہ خدشہ ہے کہ اس کے نتیجہ میں بھارتی نژاد پنجابیوں کی تعداد میں اضافہ دکھائی دے گا۔ یہ تجویز دی گئی ہے کہ مردم شماری میں اردو زبان شامل کئے جانے کے ساتھ ساتھ شاہ مکھی پنجابی، اور گ±ر مکھی پنجابی کی تخصیص کی جائے تاکہ پنجابی بولنے والے پاکستانی اور بھارتی نژاد شہریوں میں فرق واضح ہو سکے۔
یہ کاوش قطعی غیر ضروری ہے کیونکہ اردو کے بارے میں اعداد و شمار گھر میں سب سے زیادہ بولی جانے والی زبان کی ضمن میں حاصل کئے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ مردم شماری کے تفصیلی فارم کے ذریعہ، جو پچیس فی صد خاندان مکمل کرتے ہیں، جائے پیدایئش کے بارے میں معلومات حاصل کی جاتی ہیں۔ جس کے ذریعہ پاکستانی نژاد اور بھارتی نژاد پنجابی بولنے والوں کی تعداد میں فرق واضح ہو جاتا ہے۔ اس کے علاوہ کینیڈا میں ہر دس سال بعد کی مردم شماری میں مذہب کے بارے میں معلومات جمع کی جاتی ہیں۔ ان کا زبانوں کے ساتھ تقابلی تجزیہ بعض جزوی تفاصیل بھی فراہم کر سکتا ہے۔
زبانوں اور ثقافتوں پر فخر کے اظہار کے لئے ضروری ہے کہ مصنوعی تفرقات اور رکاوٹو ں کو دور کیا جائے۔ رسم الخط کا فرق ایسی ہی ایک رکاوٹ یا تفریق ہے۔ پاکستان میں پنجابی بڑی تعداد میں بولی تو جاتی ہے لیکن عام طور پر لکھی اور پڑھی نہیں جاتی۔ پاکستان میں بڑی تعدا میں شائع ہونے والا پنجابی زبان کا ایک بھی اخبار نہیں ہے۔ لکھی ہوئی پنجابی بھارتی پنجاب میں واضح طور پر مروج ہے۔
تارکین وطن پاکستانی کینیڈا کے کثیر الثقافت معاشرہ کی قدر میں اضافہ، پنجابی بول کر، لکھ کر اور ، پڑھ کر ہی کر سکتے ہیں۔ ہمیں چاہیئے کہ ہم کینیڈا کے مردم شماری کے ادارے کو اس کا کام کرنے دیں۔ گزشتہ تین سو سالہ سے زیادہ مردم شماریوں کا تجربہ ثابت کرتا ہے کہ کینیڈا کے شہری اور ادارے مردم شماری کے قاعدوں اور قرینو ں کو خوب جانتے ہیں۔ ہم پر بھی اس کوشش میں شامل ہونا لازم ہے۔”
پاکستان ٹائمز کی تحقیق سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ کینیڈا کی مردم شماری کے ادارے نے اردو زبان میں بھی ایک تفصیلی کتابچہ شائع کیا ہے تاکہ کوئی بھی شہر ی مردم شماری میں شرکت سے محروم نہ رہ جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں