538

کیوں نہ نہال ہاشمی کی سزا میں اضافہ کردیں، چیف جسٹس کے ریمارکس

اسلام آباد: انٹرا کورٹ اپیل سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے نہال ہاشمی کو کل طلب کرلیا ہے جب کہ چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا ہے کہ کیوں نہ نہال ہاشمی کی سزامیں اضافہ کردیں۔
چیف جسٹس پاکستان ثاقب نثار کی سربراہی میں نہال ہاشمی کی انٹرا کورٹ اپیل پرسپریم کورٹ میں سماعت ہوئی جس کے دوران عدالت نے نہال ہاشمی کی ججز کے خلاف نازیبا الفاظ کی ویڈیو بھی چلوادی، اس موقع پر چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ کیوں نہ نہال ہاشمی کی سزامیں اضافہ کردیں جس پر نہال ہاشمی کے وکیل کامران مرتض نے بینچ پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ بینچ کے 2 ممبران پر اعتراض ہے، چیف جسٹس نے نہال ہاشمی کے خلاف ازخود نوٹس لیا تھا اور فرد جرم عائد ہوتے وقت جسٹس اعجاز الاحسن بینچ کا حصہ تھے۔

عدالت نے نہال ہاشمی کے تمام اعتراضات مسترد کردیے
عدالت نے نہال ہاشمی کے تمام اعتراضات مسترد کردیے جب کہ چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ فیصلہ 2 رکنی بینچ نے کیا تھا، تیسرے رکن نے خود کو فیصلے سے الگ رکھا تھا۔ وکیل نہال ہاشمی نے عدالت سے استدعا کرتے ہوئے کہا کہ نہال ہاشمی کے نازیبا الفاظ حکم نامے میں نہ لکھوائیں، نہال ہاشمی کے الفاظ میرے لیے باعث شرمندگی ہیں۔
چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ بطور وائس چیئرمین پاکستان بار یہ آپ کا امتحان ہے، ہم نے اپنا راستہ چن لیا ہے، ہمیں کسی قسم کی کوئی شرم نہیں جب کہ آپ کے کہنے پرنازیبا الفاظ آج کے حکم نامے میں شامل نہیں کرتے۔ عدالت نے نہال ہاشمی کو کل ہرصورت میں پیش ہونے کا حکم دیتے ہوئے کیس کی سماعت کل تک ملتوی کردی۔

سپریم کورٹ کا دانیال عزیز پر فردِ جرم عائد کرنے کا فیصلہ
دوسری جانب توہین عدالت کیس میں دانیال عزیز کے وکیل نے مئوقف پیش کیا کہ ہم نے جواب جمع کرادیا ہے، میرے مو¿کل عدالت کا مکمل احترام کرتے ہیں اور انہوں نے سیاسی مخالفین پر تنقید کی تھی، 9 ستمبر 2017 کو میڈیا پر ایک خبر نشر ہوئی جس میں لگائی گئی سرخی غلط تھی۔
جسٹس عظمت نے استفسار کیا کہ آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ پی آئی ڈی والی پریس کانفرنس کو غلط انداز میں پیش کیا گیا؟۔ وکیل دانیال عزیز نے کہا کہ دوسرا اعتراض یہ ہے کہ میڈیا میں نشر کردہ تقریر ایک نجی محفل کی تھی جب کہ ایک اور چینل میں جو انٹرویو نشر ہوا اس میں ان کے موکل نے احتساب عدالت کے جج کے بارے میں بات کی۔

14 سال سے توہین عدالت کا نوٹس نہیں لیا لیکن اب تنگ آگیا ہوں، جسٹس عظمت
عدالت نے دانیال عزیز کا جواب غیرتسلی بخش قرار دیتے ہوئے کہا کہ دانیال عزیز پر 13 مارچ کو فردِ جرم عائد کی جائے گی۔ جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیئے کہ قانون کے مطابق انصاف ہوگا، آپ کے مو¿کل نے پاناما کا مکمل ریکارڈ نہیں پڑھا، الفاظ خود بولتے ہیں۔ جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ میں 14 سال سے جج ہوں لیکن کبھی کسی کے خلاف توہین عدالت کا نوٹس نہیں لیا، میں نے تو عدالتی فیصلوں میں یہاں تک لکھا ہے کہ فیصلوں پر اچھے اور برے تاثرات کا اظہار کرسکتے ہیں لیکن اب میں خود تنگ آچکا ہوں۔

ادھر وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کے خلاف توہین عدالت کیس کی سماعت جسٹس اعجاز افضل کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کی۔ طلال چوہدری کے وکیل نے عدالت سے استدعا کرتے ہوئے مئوقف پیش کیا کہ طلال چوہدری کی جانب سے جواب جمع کرادیا گیا ہے کہ لیکن درخواست کے باوجود مجھے میرے مئوکل کے بیانات پر مبنی سی ڈی کی کاپی نہیں دی گئی۔ جسٹس اعجازافضل نے ریمارکس دیئے کہ تقریر کا متن تو آپ کو دے دیا گیا ہے۔ وکیل طلال چوہدری نے جواب دیا کہ ہمیں خدشہ ہے کہ متن میں ٹیمپرنگ ہوسکتی ہے کیوں کہ یہ ایک سیاسی کیس ہے، میرے مئوکل کے اطمینان کے لئے سی ڈی کی کاپی ہی فراہم کردی جائے۔
جسٹس اعجازافضل نے شعر پڑھا کہ خضر کیوں کر بتائے کیا بتائے، اگرماہی کہے دریا کہاں ہے، عدالت نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو طلال چوہدری کے وکیل کو سی ڈی کی کاپی فراہم کرنے کی ہدایت جاری کرتے ہوئے کیس کی سماعت 8 مارچ تک ملتوی کردی۔ وکیل طلال چوہدری نے عدالت سے استدعا کی 8 مارچ کو میرے مئوکل نے کسی کام سے جانا ہے عدالت سماعت 9 مارچ کو رکھ لے۔ جسٹس اعجاز افضل نے ریمارکس دیئے کہ پہلے ہی بہت وقت دیا جاچکا ہے اگر اگلی سماعت پر طلال چوہدری خود موجود نہ ہوں تو ان کے وکیل ہی پیش ہوجائیں طلال چوہدری کو پیشی سے استثنیٰ دے دی جائے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں