ریاست جمہوریہ/عسکریہ پاکستان 88

گروپ ٹوئنٹی ۔ G20

ہندوستان میں گزشتہ دنوں G20 کی سالانہ سمٹ کا انعقاد ہو چکا۔ مختلف ممالک کے سربراہان کی جانب سے اسے ایک کامیاب میٹنگ قرار دیا جارہا ہے۔ اس کے دوران ہندوستان نے تمام بڑی ممالک سے اپنے لئے کئی راستے کھولے ہیں۔ کئی نئے سمجھوتوں کے لئے راہ ہموار کی ہے۔ اس کانفرنس کو منعقد کرکے ہندوستان نے عالمی طور پر اپنے آپکو ایک مضبوط، مستحکم اور ترقی یافتہ ممالک کی فہرست میں شامل کئے جانے کی دلیل دینے کی بھرپور کوشش کی ہے۔ سمٹ کا بنیادی نظریہ One Earth, One Family, One Future رکھا گیا تھا۔ جن کا مقصد اس زمین پر بسنے والوں کو ایک خاندان کی طرح اپنے مشترکہ مستقبل کے لئے حفاظتی تدابیر پر غور و غوص کرنا تھا۔
G20 کی بنیاد 1999ءمیں رکھی گئی جس کا مقصد دوسری جنگ عظیم کے بعد سے مستقل عالمی معاشی تنزلی کا سدباب کے لئے سفارشات مرتب کرنے کے ساتھ باہمی امداد مہیا کرنا تھا۔ اسی کو مدنظر رکھتے ہوئے ہر حکومت نے اپنے معاشی ماہرین اور وزرائے خزانہ اس تنظیم کے لئے نامزد کئے مگر 2008ءمیں اس کے دائرہ کار میں توسیع کرتے ہوئے سربراہان مملکت کو ممبران کے طور پر شامل کیا گیا جس میں ارجنٹائن، آسٹریلیا، برازیل، کینیڈا، چین، فرانس، جرمنی، انڈونیشیا، اٹلی، جاپان، میکسیکو، روس، سعودی عرب، ساﺅتھ افریقہ، ساﺅتھ کوریا، ترکی، برطانیہ، امریکہ اور یورپی یونین ہیں اس کے علاوہ اس سال افریقی یونین کو بھی اس تنظیم کی ممبرشپ دی گئی ہے۔ یہ اجلاس ہر سال مختلف ممالک میں بلایا جاتا ہے اس کے ایجنڈے میں عالمی معیشت کے ہمراہ ہر وہ شق شامل ہے جو براہ راست قوموں اور ملکوں کی زندگی اور سالمیت پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ تجارت، صحت، توانائی، زراعت، ماحولیات اور موسمیاتی تبدیلیوں کے ساتھ عالمی طور پر عروج پاتی ہوئی کرپشن کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ ہندوستان کے وزیر اعظم نریندر مودی یکم دسمبر 2022ءسے لے کر 30 نومبر تک اس کے صدر رہے۔
اس امر پر ہر طرف سے کھل کر اظہار طمانیت کیا جارہا ہے کہ ہندوستانی وزیر اعظم نے اپنے دور صدارت میں اس فورم کو عمدگی سے ان تمام معاملات پر مرکوز رکھا جو اس کے دائرہ فکر میں آتے ہیں۔ ہندوستان اور نریندر مودی نے اس وقت اپنی حیثیت کو استحکام دینے میں کامیابی حاصل کی ہے اور کچھ فیصلے کرکے ایک سیاسی مقام پر کھڑے ہوئے ہیں۔ امریکہ سے بہترین تعلقات کے باوجود روس سے سفارتی روابط ہندوستان نے منقطع نہیں کئے۔ امریکہ اور یورپی یونین کو اس اجلاس سے یہ توقع تھی کہ اس کے دوران یوکرین کی جنگ کے بارے میں آزادانہ طور پر گفتگو کی جائے گی۔ خاص کر روس اور چین کے صدور کی عدم شرکت۔ اس معاملے کو اور بھی سنجیدہ طور پر لینے کا موقع فراہم کرے گی مگر G20 کے اعلامیہ میں جہاں یوکرین کی سرحدی آزادی اور ترکیم کی حمایت کی گئی وہیں باضابطہ طور پر روس کو اس جنگ کا ذمہ دار ٹھہرانے میں نرمی کا اظہار کیا گیا۔
ہندوستان اور چین کے تعلقات کئی دہائیوں سے اتار چڑھاﺅ میں رہے ہیں اس وقت امریکہ کی خواہش یہ ہی کہ اس وقت چین اور اس کی پالیسیوں کو عالمی طور پر مسترد کیا جائے تاکہ اسے عالمی معیشت میں وہ برتری حاصل نہ ہو سکے جس کے وہ اشارے دے رہا ہے۔ سیاسی سطح پر بھی چین قدم آگے بڑھا رہا ہے، روس اور چین میں مصبوط روابط سامنے آرہے ہیں۔ ساﺅتھ ایشیا میں چین اپنے تجارتی اہداد کے ساتھ یورپ کی طرف اور خلیجی ممالک سے سفارتی تعلقات کی طرف دیکھ رہا ہے۔
اس کانفرنس کے اختتامی اعلامیہ میں عالمی سیاسی تعلقات اور معیشت اور دیگر موضوعات کے حوالے سے جن سفارشات کا اعلان کیا گیا وہ اس کی غمازی کرتی ہے ان تمام تجاویز پر اختلاف رائے رکھنے کے باوجود ایک مفاہمی طرز عمل کو بنیاد بنایا گیا تاکہ اس اجلاس میں منظور ہونے والی تمام سفارشات اور تجاویز پر بلاتفریق عمل درآمد کیا جا سکے۔ اس کا کریڈٹ ہندوستانی وزیر اعظم کو دیا جارہا ہے کہ انہوں نے اس اجلاس کو ایک دوستانہ اور مفاہمانہ ماحول مہیا کیا۔
نریندر مودی کے لئے یہ ایک انتہائی اہم اجلاس تھا، نہ صرف بیرونی بلکہ اندرونی ماحول میں بھی اس سے ان کی ساکھ میں اضافہ ہوا ہے۔ آنے والی الیکشن میں انہیں یقینی طور سے اس سمٹ کے انعقاد پر سراہا جائے گا۔ نریندر مودی نے خاص طور پر اس اجلاس میں ساﺅتھ ایشیا سے متعلق تجاویز پر فکر و غور پر اصرار کیا تاکہ مغربی ممالک کے مقابلے میں ان کے مسائل اور ترجیحات سامنے آسکیں۔ مودی خطہ میں ہندوستان کی برتری کے خواہاں ہیں مگر اس غور و فکر سے اس خطے میں موجود تمام ملک کے لئے آسانیوں کے راستے کھل سکتے ہیں۔
اس G20 میں پاکستان شامل نہیں ہو سکا جس کی وجہ یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ نہ صرف معاشی طور پر کمزور ہے بلکہ سیاسی طور پر عدم استحکام اس کی ایک بڑی وجہ قرار دی گئی ہے۔ جس ملک میں پچھلے 22 سالوں میں 13 وزیر اعظم تبدیل ہوچکے ہوں، جس کی GDP اپنے تمام ہمسایوں سے کم ترین سطح پر ہو، جس کی کرنسی پچھلے کئی دہائیوں سے جنگ میں مبتلا رہنے والے افغانستان سے بھی کم حیثیت کی ہو، کرپشن کے بارے میں بننے والی فلموں میں جس کے وزیراعظم کی تصاویر دکھائی جائیں، اس کی عالمی سطح پر کیا حیثیت رہ جائے گی۔ وہ سارے ممالک جو پاکستان کے دوست اور ہمدرد گردانے جاتے ہیں اور جو ہندوستان میں ہونے والی انسانی حقوق کی پامالی سے واقف ہیں نہ صرف اس سمٹ میں شریک ہوئے بلکہ ہندوستان کے ساتھ کئی مد میں سمجھوتے کئے۔ سیاسی استحکام، معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ بیرونی سرمایہ کار چاہے انفرادی ہو یا کوئی ملک، یقینی طور پر ایک مطمئن اور پرسکون ماحول چاہتا ہے۔ پاکستان کو بلاشبہ اس وقت کچھ ایسے عنصر کی ضرورت ہے جس میں حالات کی سنگینی کو سمجھنے کی صلاحیت ہو۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں