گیت سنگیت شکاگو کا واحد میوزیکل اسٹوڈیو 69

گیت سنگیت شکاگو کا واحد میوزیکل اسٹوڈیو

شکاگو (رپورٹ: جمال صدیقی) شہر شکاگو امریکہ کے دوسرے بڑے شہروں کی طرح اپنے اندر ان گنت ثقافتی، مذہبی اور معاشرتی ماحول سموئے ہوئے ہے۔ یہاں دنیا کے ہر ملک سے آئے ہوئے پردیسی اپنی زبان اور اپنی ثقافت کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔
دوسرے شہروں کی مانند شکاگو میں بھی پاکستانی موسیقی کی محفلیں سجائی جاتی ہیں۔ غزلیں، ملی نغمے اور فلمی گیت سب کچھ موجود ہے۔ یہاں کئی میوزیکل گروپ، ساﺅنڈ سسٹم، آرٹسٹ، گلوکار موجود ہیں۔ چھ سال پہلے شدت سے کسی ایک ایسے ٹھکانے کی کمی محسوس کی گئی جہاں یہ فنکار کچھ سیکھ سکیں، پریکٹیس، ریہرل کرسکیں لیکن ایسا کوئی مقام نہیں تھا پھر 2015ءمیں ایک اسٹوڈیو کا قیام عمل میں لایا گیا جس کے روح رواں مرزا برجیس قدر تیموری تھے ان سے ہماری 25 سالہ واقفیت ہے۔
برجیس تیموری نے گیت سنگیت اسٹوڈیو کی بنیاد ڈالی۔ یہ اسٹوڈیو موسیقی کے تمام آلات سے مزین ہے۔ اس اسٹوڈیو کی خاص بات یہ ہے کہ چھ سال سے گلوکار فنکار یہاں ریہرسل کررہے ہیں، گلوکاری کے شوقین یہاں سیکھنے کے لئے آتے ہیں، پاکستان کے اور انڈیا کے کئی بڑے فنکار یہاں آکر ریہرسل بھی کرچکے ہیں اور اپنے فن کا مظاہرہ بھی کرچکے ہیں۔ یہ بہت اچھا اور خوبصورت اسٹوڈیو ہے اور اس اسٹوڈیو کی ایک بہت خاص بات یہ ہے کہ اکثر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ اسٹوڈیو کاروبار کے لئے کھولا گیا ہے لیکن آپ کو یہ سن کر حیرت ہو گی کہ اس اسٹوڈیو کو برجیس تیموری اپنے خرچے پر چلا رہے ہیں۔
اس اسٹوڈیو کے دروازے پر شخص کے لئے کھلے ہوئے ہیں اور برجیس کسی سے کوئی پیسہ نہیں لیتے تمام سروس مفت میں مہیا کی ہے۔ بڑے اچنبھے کی بات ہے، امریکہ جیسے ملک میں جہاں دو چیزیں اہم اور لازم ہیں۔ وقت اور پیسہ جو مفت میں نہیں ملتا لیکن گیت سنگیت وہ مقام ہے جہاں برجیس اپنا وقت بھی دیتے ہیں اور پیسہ بھی خرچ کرتے ہیں لیکن کسی سے کوئی مالی مدد نہیں لیتے لیکن کچھ لوگ جن میں انڈین پاکستانی شامل ہیں وہ والنٹیئری برجیس بھائی کا ساتھ دیتے ہیں جو کہ پروگرام کی تیاری ہوتا ہے۔
اس اسٹوڈیو میں موسیقی کے پروگرامز کے علاوہ کچھ لوگوں کے نجی یا سیاسی پروگرام ہوتے ہیں جو کہ برجیس بھائی بغیر کسی معاوضے کے خندہ پیشانی سے اسٹوڈیو کی خدمات پیش کردیتے ہیں بلاشبہ دیار غیر میں اپنے ہم وطنوں کے لئے گیت سنگیت جیسا اسٹوڈیو کسی نعمت سے کم نہیں ہے۔ برجیس بھائی ایک کاروباری آدمی ہیں لیکن اپنی ثقافت کو زندہ رکھنے کے لئے اور ملک کا نام روشن رکھنے کے لئے کاروبار کو ایک طرف رکھتے ہیں اور پاکستانی کمیونٹی کے لئے ہمہ وقت تیار اور حاضر رہتے ہیں۔ برجیس تیموری کا تبرج Tabarruj کے نام سے اسٹوڈیو کے ساتھ ہی بوتیک ہے جہاں نئے ڈیزائن کے ملبوسات موجود ہیں۔ ہماری دعا ہے برجیس کو اسٹوڈیو اور بوتیک دونوں میں ترقی عطا ہو۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں