ہائی کورٹ کے 6 ججز کا جوڈیشل کنونشن بلانے کا مطالبہ 113

ہائی کورٹ کے 6 ججز کا جوڈیشل کنونشن بلانے کا مطالبہ

اسلام آباد (پاکستان ٹائمز) اسلام آباد ہائی کورٹ کے 6 ججوں کی جانب سے عدالتی معاملات میں خفیہ اداروں کی مداخلت کے الزامات کے بعد پاکستان کے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی جانب سے طلب کئے گئے اجلاس میں عدالت عظمی کا فل کورٹ اجلاس جاری ہے جس میں سپریم کورٹ کے تمام ججز شریک ہیں۔ اجلاس میں لکھے گئے خط جس میں سپریم جوڈیشل کونسل سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ فوج کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے نمائندوں کی عدالتی امور میں مسلسل مداخلت پر جوڈیشل کنونشن بلایا جائے۔ خط میں کہا گیا ہے کہ عدلیہ کی آزادی کو یقینی بنانے کے لئے ادارہ جاتی ردعمل کی ضرورت ہے اور عدالتی کنونشن کی مدد سے پتہ چلے گا کہ کیا ملک کے دیگر ہائی کورٹ کے ججوں کو بھی کیا ایسی صورتحال کا سامنا کرنا پڑتا رہا ہے۔ خط میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو انٹیلی جنس ادارے کی مداخلت کے بارے میں بات کرنے پر 11 اکتوبر 2018ءکو عہدے سے برطرف کرنے کا حوالہ بھی دیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ 22 مارچ کے فیصلے میں جسٹس شوکت عزیز صدیقی کی برطرفی کو غلط قرار دیا گیا تھا اور انہیں ریٹائرڈ جج قرار دیا تھا۔ جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے عائد کردہ الزامات کی تحقیقات کا مطالبہ بھی کیا گیا۔ خط میں کہا گیا ہے کہ عدلیہ کی آزادی کو سلب کرنے والے کون تھے اور ان کی معاونت کس نے کی؟ خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ ان تحقیقات کا دائرہ وسیع ہونا چاہئے اور معلوم کیا جانا چاہئے کہ کہیں اب بھی مختلف عدالتوں کے ججز کو خفیہ اداروں کی جانب سے مداخلت کا سامنا تو نہیں؟ لکھے گئے خط کے بعد ملک بھر کی بار کونسلز نے بھی اس معاملے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے جب کہ تحریک انصاف نے اسے اپنے خلاف چارج شیٹ قرار دیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں