Jamal Siddiqui Columnist at Pakistan Times Chicago and Toronto 105

ہاتھ کی لکیریں

ہمارے ایک فیس بک دوست اصغر نواز صاحب کا کہنا تھا کہ پیروں کی حالت دیکھ کر معلوم ہو جاتا ہے کہ ہاتھ کی لکیروں میں قسمت اچھّی لکھی ہے یا پھر بربادی ہے۔میرا کہنا تھا کہ قسمت کا تعلق نا پیروں سے ہوتا ہے نا ہاتھ کی لکیروں سے البتہ ہاتھوں سے ہوتا ہے۔دراصل جب یہ کہا گیا کہ آپ کا مستقبل آپ کے ہاتھ میں ہے لوگوں نے اپنے ہاتھ دیکھے تو لکیروں کے سوا کچھ نظر نا آیا تو فرض کرلیا گیا کہ مستقبل ہاتھ کی لکیروں میں لکھا ہوا ہے۔جب کہ قسمت ان لکیروں میں نہیں بلکہ ہاتھوں میں ہی ہوتی ہے جن کو استعمال کرکے محنت کرکے قسمت بنائی جاسکتی ہے۔اسی لئے ہاتھ کی لکیروں کو قسمت سے جوڑا گیا ہے۔ایک شخص سے کسی نے کہ دیا کہ تمہارا مستقبل تاہ رے ہاتھ میں ہے وہ آئنسٹائن کی طرح سوچنے بیٹھ گیا اپنے ہاتھوں کی طرف دیکھا تو لکیروں کے سوا کچھ نظر نا آیا اس نے سوچا اس کا مطلب ہے کہ میرا مستقبل ان لکیروں میں چھپا ہوا ہے ۔لہذا وہ لکیریں پڑھنے والے کسی نجومی کی تلاش میں نکل کھڑا ہوا۔بڑے لمبے پیدل سفر کئے جہاں اسے کسی نجومی کسی جوگی کی خبر ملتی وہاں پہونچ جاتا۔ پہاڑیوں میں بیٹھے جوگیوں تک جا پہونچا لیکن کوئی نجومی کوئی جوگی اسے ہاتھ کی لکیروں سے مستقبل نکال کر نا دے سکا ۔تھکا ہارا پیروں میں چھالے سوجن ایک جگہ بیٹھ گیا لوگوں نے پوچھا کیا ہوگیا بھائی یہ پیروں کی حالت کیسے ہوگئی تو اس نے مختصر جواب دیا کہ مستقبل کی تلاش میں لوگوں کو یہ سن کر بہت افسوس ہوا کہ اس بے چارے نے مستقبل بنانے کے لئے کتنی بھاگ دوڑ کی پیروں میں چھالے پڑ گئے لیکن بے چارہ ناکام رہا لعنت ہو حکومت پریعنی آخر میں سارا نزلہ حکومت پر ہی گرتا ہے ۔ بہرحال بعض اوقات یہ بھی ہوتا ہے کہ قسمت کی دیوی کسی انسان کے دروازے پر دستک دیتی ہے لیکن وہ دروازہ نہیں کھولتا ہے۔بے اعتمادی ،بد مزاجی ،خود غرضی ، یا ہٹ دھرمی اسے یہ دروازہ نہیں کھولنے دیتی ہے اور وہ یہ موقع گنوادیتا ہے جو کہ زندگی میں صرف ایک ہی مرتبہ آتا ہے یہ بیان کہاں تک درست ہے اس کے بارے میں تو مجھے علم نہیں ہے البتہ کئی شواہد سے اس کی تصدیق ہوتی ہے۔یہ بات صرف ایک مثال کے طور پر کہی گئی ہے اصل میں اس دستک پر دروازہ نہ کھولنے والے نے اپنے دل میں اس بات کو بٹھالیا ہوتا ہے کہ اس کی قسمت اچھّی نہیں ہے لہذا اسے کسی بھی ایسے واقعے کی امید نہیں ہوتی ہے کہ کبھی قسمت کی دیوی اس پر مہربان ہوگی اور ہوسکتا ہے کہ اسے یہ یقین دلانے والا بھی کوئی فٹ پاتھی نجومی پروفیسر ہو۔ اور وہ آدمی کوئی کوشش یا جدوجہد نہیں کرتا کہ اس کی قسمت ہی خراب ہے لہذا کوشش کرنا بھی فضول ہے۔ ان تمام باتوں کے بر عکس میرا یہ خیال ہے کہ خوش قسمتی یا بد قسمتی کا تعّلق اس کے اپنے کردار اور آس پاس کے لوگوں کے کردار سے ہے ،یوں تو قسمت کے بارے میں مختلف خیا لات اور نظر یات پیش کئے جاچکے ہیں۔مثلا” انسان اپنی قسمت لکھواکر لاتا ہے یا قسمت ہاتھ کی لکیروں میں پوشیدہ ہے جو ایک مرتبہ ہاتھ کی لکیروں میں سماگئی تو بس سماگئی ۔غرض قسمت کے بارے میں مختلف بیانات ہیں میرے خیال میں انسان اپنی قسمت خود ہی بناتا اور بگاڑتا ہے اللہ تعالی’ نے تو اس تعلیم کے ساتھ دنیا میں بھیج دیا کہ دنیا کی زندگی میں کس طرح رہنا ہے یہاں رہنے کے اصول ،طریقوں اور ضابطوں سے آگاہ کردیا گیا اچھّائی ،برائی اور آخرت کے بارے میں بھی علم دیا۔اب اپنی قسمت کا فیصلہ خود کرو اور اس قسمت کے بننے اور بگڑنے میں کسی حد تک دوسرے افراد کا بھی عمل دخل ہے ،کیونکہ قسمت کا مشورے سے بڑا گہرا تعّلق ہے ،اگر تاریخی کردار و واقعات کا جائزہ لیں اور آج کے دور پر بھی نظر ڈالیں تو ہمیں نظر آتا ہے کہ کوئی بھی شخص بننے اور بگڑنے کا اکیلا ذّمہ دار نہیں ہوتا ہے اس کے آس پاس کے لوگوں کا اس میں اہم کردار ہوتا ہے بڑے بڑے ذہین و فطین ،دور اندیش ، معاملہ فہم ،طاقت ور بادشاہوں کے بھی مشیر ہوا کرتے تھے اور وہ ان سے ہر معاملے میں مشورہ لیا کرتے تھے۔کسی دوسرے کی رائے شامل کئے بغیر ہر شخص نامّکمل ہے۔ ہر شخص کے ذہن میں کوئی نہ کوئی کمی ہوتی ہے جسے دوسرے ذہن مل کر اس کمی کو پورا کردیتے ہیں۔ ہمارے نبی نے بھی مشورہ کرنے کی تاکید کی ہے۔بڑے بڑے حکمران بمع امریکہ جہاں کے صدر مشیروں سے مشورہ کئے بغیر کوئی کام نہیں کرتے۔قسمت کے بدلتے رہنے کا عمل بچپن ہی سے شروع ہوجاتا ہے۔بچّے کے والدین اور اہل خانہ کے کردار اور ان کی سمجھ بوجھ کا بچّے کے ذہن پر اثر ہوتاہے اور وہ ان ہی کے کردار میں ڈھلنا شروع ہوجاتا ہے ،بچّے کے والدین کی اچّھی تربیت ،اچّھے کردار ،مشورے اور تقلید بچّے کو خوش قسمتی کے راستے پر ڈال دیتے ہیں اور اگر معاملہ اس کے برعکس ہوا تو اب بچّہ بد قسمتی کے راستے پر گامزن ہو جا ئے گا۔اگر شروع ہی سے توجّہ نہ دی جائے تو ذرا بڑے ہوکر ماں باپ کی توجّہ بے اثر ہوجاتی ہے۔اس کے بعد اسکول کا دور استاد اور کلاس فیلو اگر مثبت سوچ کے مل گئے تو خوش قسمتی کے راستے پر چلنے کے لئے مزید دروازے کھل جاتے ہیں ورنہ وہ بد قسمتی کی کھائی کے قریب پہونچ جاتا ہے یہاں پر ایک تھوڑا سا ٹرننگ پوائنٹ ہے کہ اگر گھر سے بد قسمتی شروع ہوئی اور اسکول میں اچھّا ماحول استاد اور کلاس فیلو مل گئے تو بد قسمتی کارخ تھوڑا سا تبدیل ہوجا تا ہے۔آس پاس کے دوست بھی معاون ثابت ہوتے ہیں اسی طرح اسکول کالج دوست احباب ان سب کے اچھّے یا غلط مشورے اس کی پوری زندگی پر اثر انداز ہوتے ہیں یہیں پر خوش قسمتی یا بد قسمتی کا فیصلہ ہوجاتا ہے۔ایسے لوگ کبھی بھی کامیاب نہیں ہوتے جو ضدّی ،ہٹ دھرم اور چڑ چڑ ےہوتے ہیں وہ صرف اپنی سوچ اپنے ذہن سے فیصلہ کرتے ہیں۔اور کسی کو بھی اس قابل نہیں سمجھتے کہ مشورہ کرسکیں جو لوگ توجّہ سے کسی کی بات سنتے ہیں تحمل سے اس پر غور کرتے ہیں۔اور اگر قابل عمل ہو تو اس پرعمل بھی کرتے ہیں وہ اپنی قسمت کسی حد تک بدل لیتے ہیں۔یہ ضروری نہیں کہ زندگی کے کسی بھی معاملے میں کسی بہت ہی پڑھے لکھے قابل یا بہت عمر رسیدہ سے ہی مشورہ لیا جائے۔جیسا کہ میں نے پہلے ذکر کیا کہ کسی بھی انسان کا ذہن مکمّل نہیں ہوتا ہے۔مثلا” اگر دماغ کے بارہ جز ہوتے ہیں اور ایک دوسرے سے مختلف ہوں تو کسی بھی انسان کے پاس یہ بارہ کے بارہ جز موجود نہیں ہیں۔ایک آدھ کم ہے یا نامکمّل ہے اور ایک دوسرے انسان کے پاس یہی جز مکمّل ہے لیکن کسی اور جز کی کمی ہے۔لہذا جب زیادہ لوگ مل کر سوچتے ہیں تو ایک دوسرے کے ذریعے ان اجزاءکی کمی کو پورا کرلیتے ہیں۔بعض افراد عبادت کو قسمت بدلنے کا ذریعہ اس طرح سمجھتے ہیں کہ عاےدت کرو دنیا کی تمام نعمتیں تمارے قدموں میں اب کن چیزوں کو نعمت سمجھا گیا ہے ،عالیشان محل نما گھر ،قیمتی گاڑیاں ،لوازمات اور عیش وعشرت کی زندگی اگر نعمتوں سے مراد یہی چیزیں ہیں تو سادگی اپنانے کو کیوں کہا جاتا ہے۔غور کریں ان چیزوں پر جو اللہ تعالی’ نے دنیا میں بنائی ہیں وہ ہیں اصل نعمتیں جن پر ہم اللہ تعالی’ کا شکر تک ادا نہیں کرتے۔قسمت کا حال معلوم کرنے کے لئے طوطے سے فال نکلوائی جارہی ہے۔ہاتھ پھیلائے نجومی کو لکیریں دکھارہے ہیں اور پہلا سوال یہ کہ لکیروں میں پیسہ ہے یا نہیں۔وہ بھی پیسے بنانے کے لئے خوش کردیتا ہے کہ ہاں بہت پیسہ ہے ذرا انتظار کرو۔ قسمت بدلنا ہے تو ہاتھ کی لکیروں سے نہیں ہاتھوں سے بدلیں۔۔کامیابی کے لئے محنت اور مشورہ دونوں بہت ضروری ہیں تب قسمت بھی اچھی نظر آتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں