91

ہاتھ کی چابی اور وزن سے روشن ہونے والے بلب

لندن: دنیا میں اس وقت لگ بھگ ایک ارب کی آبادی معمول کے تحت فراہم کی جانے والی آف گرڈ بجلی سے محروم ہے۔ اس تناظر میں کءبرس قبل وزن ڈالنے پر ثقلی قوت کے تحت بجلی بنانے کا نظام سامنے آیا تھا جسے گریوٹی لائٹ کا نام دیا گیا تھا۔ اب اسی کمپنی نے چابی بھرنے، وزن ڈالنے یا شمسی توانائی سے روشنی خارج کرنے والا نظام بنایا ہے۔
دیسی واٹ کمپنی نے بجلی سے محروم علاقوں، کیمپوں اور سفر کرنے والے سیاحوں کے لیے ایک نیا بلب ڈیزائن کیا ہے جو ہاتھوں کی مشقت سے بھی چارج کیا جاسکتا ہے۔ غریب علاقوں میں ایندھن اور مٹی کے تیل کے اخراجات غریبوں پر مزید بوجھ بنتے ہیں ان کا دھواں صحت کے لیے بہت نقصاندہ ہوتا ہے۔
اس نئے نظام کو گریویٹی لائٹ ٹو کا نام دیا گیا ہے۔ اس سے قبل گریویٹی لائٹ کے پہلے ڈیزائن میں ایک تھیلی کا ٹوکری میں 10 سے 16 کلوگرام وزن رکھ کر اسے تار سے باندھا جاتا تھا اور وزن کو 6 فٹ اوپر اٹھا کر چھوڑ دیا جاتا تھا۔ اس کے بعد وزن دھیرے دھیرے نیچے آتا جاتا بلب روشنی خارج کرتا رہتا تھا۔ اس طرح ایک مرتبہ وزن اٹھانے پر بلب نصف گھنٹے تک جلتا تھا ، پھر دوبارہ وزن کو اٹھاکر اوپر کردیا جاتا تھا۔
لیکن اب روشنی کے ساتھ ساتھ لوگ اپنے موبائل فون بھی چارج کرنا چاہتے ہیں اور اس کے لیے 3200 ایم اے ایچ کی بیٹری لگائی ہے۔ اب اس کی بدولت اسمارٹ فون آسانی سے چارج کئے جاسکتے ہیں۔ اس کے تار کو بہتر بنایا گیا ہے جو ہموار انداز میں حرکت کرتا ہے اور بجلی کی یکساں مقدار خارج بناتا رہتا ہے۔ اس بار وزن باندھنے کی بجائے صرف تار کو ایک مرتبہ کھینچنا ہوتا ہے جس کے بعد اندر کے نظام میں لگے اسپرنگ میں حرکی توانائی جمع ہوجاتی ہے جو بعد میں بجلی کی صورت میں ڈھل جاتی ہے۔
صرف دومنٹ تار کھینچنے سے بلب نصف گھنٹے تک 20 لیومن روشنی دیتا رہتا ہے۔ اسے یوایس بی تار اور تین واٹ کے شمسی سیل سے بھی چارج کیا جاسکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں