The agreement to transfer the data of European citizens to the United States has been annulled 30

یورپی شہریوں کے ڈیٹا کی امریکہ منتقلی کا معاہدہ کالعدم قرار

لندن: امریکہ اور یورپی یونین کے درمیان پرائیویسی شیلڈ 2016 میں قائم کی گئی تھی جس کا مقصد یورپی شہریوں کے ذاتی ڈیٹا کی تجارتی مقاصد کے لیے امریکہ منتقلی کے وقت اسے تحفظ فراہم کرنا تھا۔ (اے ایف پی فائل)
یورپی یونین کی اعلیٰ عدالت نے جمعرات کو یورپ سے ڈیٹا امریکہ منتقل کرنے کا ایک اہم معاہدہ کالعدم قرار دیا ہے جس کے نتیجے میں بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے کاروبار کے لیے قانونی مسائل کھڑے ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
خبررساں ادارے اے ایف پی اور روئٹرز کےمطابق عدالت کی طرف سے کالعدم قرار دیے گئے معاہدے کا نام ‘پرائیویسی شیلڈ’ ہے جو 2016 میں بنایا گیا تھا۔ عدالت نے کہا ہے کہ معاہدہ یورپی شہریوں کو امریکہ کے نگرانی کے نظام اور سلامتی کے قوانین کے خلاف مو¿ثر تحفظ فراہم کرنے میں ناکام رہا ہے۔
عدالت نے متعلقہ یورپی اداروں کو ہدائت کی ہے کہ وہ صارفین کے ڈیٹا کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے اقدامات کریں۔ عدالتی فیصلے سے نجی معلومات کی حفاظت کے سرگرم وکیل میکس شرمز کے ڈیٹا کی نگرانی کے امریکی قانون پر خدشات کی توثیق ہو گئی ہے۔
انہوں نے فیس بک کی جانب سے معاہدے کی معیاری شقوں کو استعمال کرنے کے خلاف پورپی عدالت انصاف سے رجوع کیا تھا۔ ان کا مو¿قف تھا کہ فیس بک کے یورپی شہریوں کے ڈیٹا کو محفوظ بنانے کے لیے کیے گے انتظامات ناکافی ہیں۔
امریکہ اور یورپی یونین کے درمیان پرائیویسی شیلڈ 2016 میں قائم کی گئی تھی جس کا مقصد یورپی شہریوں کے ذاتی ڈیٹا کی تجارتی مقاصد کے لیے امریکہ منتقلی کے وقت اسے تحفظ فراہم کرنا تھا۔
سوشل میڈٰیا پلیٹ فارم فیس بک سمیت ہزاروں بڑی کمپنیاں اور کارساز ادارے یورپی ڈیٹا پوری دنیا میں منتقل کرنے کے لیے اس معاہدے کی مختلف شقیں استعمال کرتے ہیں۔ یہ ڈیٹا کلاو¿ڈ نظام سے لے کر، ڈیٹا ہوسٹنگ، تنخواہوں اور مارکیٹ میں سرمایے کی فراہمی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
ان شقوں کو کالعدم قرار دیے جانے کی صورت میں کمپنیوں کو ڈیٹا کی منتقلی معطل کرنے پڑے گی یا یورپی یونین کے پرائیوسی کے قانون کے تحت بھاری جرمانے دینے پڑیں گے۔
عدالتی حکم کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ڈیٹا کی یورپ سے باہر منتقلی فوری طور پر بند ہو جائے گی کیونکہ دوسرا قانونی نظام موجود ہے جسے بعض کمپنیاں استعمال کر سکتی ہیں۔ تاہم ایسا کرنے سے منتقل ہونے والے ڈیٹا کی جانچ پڑتال میں اضافہ ہو جائے گا اور امریکہ اور یورپ کو ایسا نیا نظام تلاش کرنا پڑے گا جو ضمانت فراہم کرے کہ یورپی شہریوں کے ڈیٹا کی پرائیویسی کو امریکہ میں بھی وہی تحفظ حاصل ہو گا جو اسے یورپ میں حاصل ہے۔ یورپ میں ذاتی معلومات کے تحفظ اور امریکی میں ڈیٹا کی نگرانی کے قوانین ایک دوسرے متصادم ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں