Hanif Dawami Columnist at Pakistan Times Chicago and Toronto 93

یہ شور و غوغا کیسا۔۔۔؟

کیا عمران خان اپنی مدت پوری کر سکیں گے؟ اور کیا اٹھارویں ترمیم میں ردوبدل کی ترمیمی آرڈیننس سے عمران خان کے حکومت کی باقی مدت مشروط ہو گئی ہے یہ ہی ایک ایسا سوال ہے جو ان دنوں ملک کے تمام سیاسی پارٹیوں میں زیربحث ہے اور اسی سوال کے تناظر میں ”بلیم گیم“ کو بھی دیکھا جارہا ہے جو جے آئی ٹیز رپورٹ کے بعد خاص طور سے سندھ حکومت اور وفاق میں شروع ہو چکی ہے۔ صوبائی اور وفاقی وزراءایک دوسرے سے جنگ کرتے ہوئے نظر آرہے ہیں اور حادثاتی وفاقی وزراءاپنی صلاحیتوں کے لحاظ سے پوری طرح سے بے نقاب بھی ہو سکتے ہیں جب کہ بعض سیاستدانوں کا تو یہ بھی کہنا ہے کہ آصف علی زرداری کے خلاف چلنے والے برسوں پرانے مقدمات میں تیزی بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے دراصل آصف علی زرداری جو اٹھارویں ترمیم کے ایک طرح سے خالق گردانے جاتے ہیں ان کے گرد گھیرا تنگ کرکے انہیں ہی مجبور کیا جارہا ہے کہ وہی اٹھارویں ترمیم سے دست بردار ہو جائے تاکہ جب یہ معاملہ ترمیم کے ساتھ اسمبلی میں لایا جائے تو پیپلزپارٹی اس کی مخالفت نہ کرے اور اس طرح سے یہ ترمیمی بلا پاس ہو جائے، یہ ہی وجہ ہے جس کی وجہ سے سیاست میں ایک بار پھر پھونچال آگیا ہے یہ ہی وجہ ہے جو عمران خان کی اس لنگڑی لولی حکومت کو دام بخشنے کا بھی باعث بن سکتا ہے اور اسے خاک و خاشاک کی طرح سے اڑا لے جانے کا بھی۔۔۔
اسی وجہ سے ہر کسی نے اسےبھی اپنی انا کا مسئلہ بنا لیا ہے اور اسے سر کرنے کی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں اب یہ سلسلہ کہاں جا کر رکے گا یہ تو آنے والا وقت ہی بتلائے گا۔ فی الحال سیاسی درجہ حرارت روز بروز بڑھتا ہی جا رہا ہے جس اٹھارویں ترمیم میں مزید ترمیم کا مسئلہ اس وقت بنا ہوا ہے اس پر پاکستان کے بعض اداروں کو تحفظات ہیں اور وہ اس ترمیم کو پاکستان کے سلامتی کے لئے زہر قاتل قرار دے رہے ہیں ان کا کہنا ہے کہ دراصل اٹھارویں ترمیم صوبوں کو خودمختاری دے کر ایک طرح سے وفاق کو کمزور کرنے کی عالمی سازش تھی اور اس اٹھارویں ترمیم کا پورے کا پورا مسودہ ہی دشمنوں کا تیار کردہ تھا۔ پاکستانی سیاستدانوں نے تو محض ربڑ اسٹامپ کی طرح سے اس پر کارروائی کی تھی۔ خدا جانے اس میں کہاں تک صداقت ہے مگر کچھ نہ کچھ تو ہے جو ابھی تک یہ ترمیم کسی سے ہضم نہیں ہو رہا ہے۔
صوبائی سطح پر حکومت کرنے والی پارٹیوں نے اس اٹھارویں ترمیم کو ہی اپنے لئے موت و زندگی کا مسئلہ بنا لیا ہے وہ کسی بھی حالت میں اس ترمیم سے دست بردار ہونے کے لئے تیار نہیں اس لئے کہ انہیں معلوم ہے کہ اس ترمیم کے وجہ سے ہی وفاق صوبوں کو ان کا حق دینے پر مجبور ہے اور اگر یہ ترمیم ختم ہو گئی یا اس میں کسی بھی طرح کی کوئی اور تبدیلی کر دی گئی تو پھر دوبارہ سے صوبے وفاق کے رحم و کرم پر ہو جائیں اور صوبوں کو ان کا حق دوبارہ سے سیاسی جوڑ توڑ کے نتیجے میں ملے گا اب ان دونوں طرح کے جوابات اور دلائل میں کون سچا ہے۔۔۔؟ اور کون جھوٹا اس کا فیصلہ تو کوئی عدالت ہی کر سکتی ہے مگر اس رسہ کشی نے سیاسی بازیگری میں دوبارہ سے ایک طرح کی روح پھونک دی ہے کہ طویل عرصہ سے منظر سے غائب آصف علی زرداری کو بھی میدان میں اترنا پڑا اور انہوں نے اپنے ملاقاتیوں کی ابتداءبھی مولانا فضل الرحمان سے کی جس کے بعد سے نئے اتحادوں کے بننے کی خبریں گردش کرنا شروع ہو گئی ہے۔ یہ بھی اطلاع ہے کہ حکومت کے بعض ناراض اتحادیوں سے بھی آصف علی زرداری کے رابطے ہیں اور اپوزیشن پوری طرح سے عمران خان کو ٹف ٹائم دینے کے لئے متحرک ہو رہے ہیں اب دیکھنا یہ ہے کہ پس پردہ سرگرم قوتیں کیا کرتی ہیں؟ وہ کس طرح سے عمران خان کی حکومت کے لئے بازو کا کردار ادا کرتی ہیں یا پھر وہ مزید تماشائی بنے رہنا چاہتی ہے ان کا کردار ہی اس ساری صورتحال کا ڈراپ سین ثابت ہو گا جس کا ادراک دونوں پارٹیوں کو ہے اس لئے ہر کوئی اپنے حصے کا کھیل بہ احسن خوبی کھیل رہا ہے اس سارے کھیل کے دوران ملکی عوام پر مہنگائی کا بم پھینک کر انہیں مہنگائی کے مسائل میں جھونک دیا گیا ہے جس کی وجہ سے وہ اپنے مسائل میں گھرے ہوئے ہیں اور اس دوران یہ سارا کھیل بیک گراﺅنڈ یں چل رہا ہے۔ عمران خان اپنے منصوبوں کی ایک ایک کرکے ابتداءکررہے ہیں جو بھی کچھ ہو رہا ہے اس میں ریاست یعنی پاکستان کی نمائندگی کون کررہا ہے۔۔۔؟ وہ سمجھ سے بالاتر ہے، کیا کوئی یہ بتلائے گا کہ یہ اٹھارویں ترمیم ریاست پاکستان کے خلاف ہے؟ یا پھر اس میں ردبدل کرکے لائے جانے والا دوسرا بل ریاست کے حق میں ہوگا۔ عمران خان اور ان کے حکومت کے پس پردہ سرگرم قوتوں کو چاہئے کہ وہ جو بھی کچھ کریں وہ اپنی سیاست سے بالاتر ہو کر صرف اور صرف پاکستان یعنی ریاست کی سربلندی کے لئے کریں۔ ریاست کے عوام کی فلاح و بہبود اور ان کی ترقی کے لئے کریں اس لئے کہ ریاست ہی عوام کی ماں ہوتی ہے اس لئے ریاست کو ماں کا کردار ادا کرنے کا موقع دینا چاہئے یہ ہی ایک نئے پاکستان کا تقاضا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں