تیری نظر پہ چھوڑا ہے فیصلہ 249

یہ مسلمان ہیں جنہیں دیکھ کر شرمائیں ہنود

رمضان کے مبارک مہینہ کے احترام میں قیمتیں کم کردی گئی ہیں۔ مجھے اپنے کانوں پر یقین نہیں آرہا تھا۔ ”کیا کہا آپ نے“۔ انہوں نے اپنے پنجابی لہجہ میں دوبارہ کہا کہ جناب ہم نے قیمیں کم کردی ہیں رمضان المبارک کے احترام میں۔
یہ الفاظ جب میرے کانوں کے ذریعہ میرے دماغ تک پہنچے تو مجھے محسوس ہوا کہ میرا دماغ تک پہنچے تو مجھے محسوس ہوا کہ میرا دماغ ماﺅف ہو چکا ہے۔ یہ وہ الفاظ تھے جن کو سننے کے لئے میں ایک عرصے سے ترس رہا تھا یا بے قرار تھا۔ مجھے محسوس ہوا کہ میں زندگی کا بڑا حصہ اس طرح کے الفاظ کے انتظار میں گزار دیا۔ آج میری زندگی کی پچپن بہاریں دیکھنے کے بعد یہ الفاظ مجھے پاکستان سے دور ہزاروں میل کے فاصلے پر کینیڈا کے شہر مسی ساگا کی ایک پاکستان کی مٹھائی کی دوکان کے مالک کی زبانی سننے کو ملے۔
پاک سوئیٹ کے مالک کے منہ سے یہ الفاظ سننے کے لئے میں نے زندگی کا بڑا حصہ گزار دیا کیونکہ اس طرح کے الفاظ کے لئے بہت زیادہ عرصہ گزرنے کی وجہ سے مایوس ہو چکا تھا۔ بچپن میں ہی ان الفاظ کی تلاش پاکستان کے اخباروں سے شروع ہوئی۔ میں چھوٹی سی عمر میں ہی ان اخباروں کی خبروں میں اس ہی طرح کے الفاظ کی تلاش میں لگا رہتا مگر میں ہمیشہ ناکام رہتا۔
جنگ اخبار میں ٹارزن کی کہانی ختم کرنے کے بعد جب باقی خبروں کی طرف توجہ دیتا تو مجھے نہیں معلوم کہ کس طرح کی خبروں کی تلاش میں تھا۔ شاید یہ ہی خبر تھی ریڈیو پر بھی میں سب کام چھوڑ کر مختلف اسٹیشن لگا کر اس خبر یا ان الفاظ کی تلاش میں میرے کان اس جستجو میں لگے رہتے، مجھے اخباروں کے بعد ریڈیو پر خبریں سننے کا بھی شوق بچپن سے ہی میرے شعور میں سوار ہو چکا تھا۔ شاید مجھے ان الفاظ کی ہی کھوج تھی۔ میرے ننھے سے ذہن کو ان لفظوں کی شدت سے ضرورت محسوس ہو رہی تھی۔ یہ جستجو اخباروں کی خبروں سے شروع ہو کر ریڈیو کے ایسے پروگراموں تک پہنچی جس میں شاید کوئی خبر میری اس تلاش کو پایہ تکمیل تک پہنچا دے جو میرے شعور کو مطمئن کرسکے اور میں ذہنی طور پر پر سکون ہو جاﺅں۔ میں ذاتی طور پر اس قسم کی مثبت خبروں کی تلاش میں اخبارات کھنگالتا، وہاں سے مایوس ہو کر ریڈیو اسٹیشنوں پر خبروں میں اس کی تلاش کرتا رہتا۔ جب الیکٹرانک میڈیا کا وجود ہوا اس میں مختلف نیوز پروگراموں میں ان خبروں کو تلاش کرتا رہا۔ بعد میں جب سوشل میڈیا کا وجود میں آنا ہوا تو میری جستجو اس تک پھیلی چلی گئی مگر میرے دل کی مراد بَر نہ آسکی۔ مایوسی دن بہ دن بڑھتی چلی گئی اور اس مایوسی میں اس وقت مزید اضافہ ہو جاتا کہ جن خبروں کی تلاش میں اپنے ملک کے اخباروں اور میڈیا میں کرتا رہا وہ اس ہی طرح کی خبریں مجھے دوسرے ملکوں کے اخباروں اور میڈیا کے ذریعہ ملتی تو میرے دل میں یہ تمنا اور خواہش بڑھ جاتی کہ خدا ہمارے وطن کو بھی ایسی ہی مثبت خبروں کی آماجگاہ بنا دے اور ہر روز مجھے اپنے ملک کے سوا ایسی ہی امید افزا خبریں موصول ہوتی رہیں مگر میں ہر بار مایوس ہو جاتا جب بھی کوئی اچھی مثبت بار آور اطلاع بیرونی ذرائع سے بیرونی ملکوں کے حوالے سے مجھ تک پہنچتی تو میری اپنے ملک سے مایوسی میں اضافہ ہو جاتا۔ ابھی کرونا کے زمانے میں دنیا بھر سے اس طرح کی خبریں ملتی کہ ان ملکوں میں ویکسین کی تیاری کی دوڑ لگی ہوئی ہے کہ کون سا ملک سب سے پہلے انسانیت کی خدمت میں سب سے آگے آسکتا ہے مگر میرے ملک میں سے سیاست اخلاقی زوال کی خبروں کے علاوہ کچھ سنائی نہیں دیتا اس دوران جب اس ویکسین کی تیاری کی دوڑ میں کامیابی کا اعلان ہوا تو اس میں چین، یورپ اور امریکہ کے ساتھ ساتھ بارت کا نام تو دکھائی دیا مگر میرے ملک میں تو زندہ باد مردہ باد کے نعرے ہی سنائی دیئے۔ سب ایک دوسرے کی خامیوں کو اُجاگر کررہے تھے۔ ایک دوسرے پر الزامات لگا رہے تھے جو کہ اکثر سچے ہی الزامات تھے ان کی بدعنوانی کے قصے پر خاص و عام میں سنائے جانے تھے یہ الزامات ان لوگوں پر لگائے جارہے تھے جن کے بارے میں یہ سمجھا جاتا تھا کہ ملک کے معتبر اور دولت مندوں میں سب سے آگے ہیں اس کے مقابلے میں بھارت کے سب سے امیر ترین سندھی گروپ جس کے سربراہ مکیش امبانی تھے انہوں نے صرف کرونا وبا کے مقابلے کے لئے اپنے ملک کو پانچ سو کروڑ روپے وفاقی حکومت کو دان کئے اور مہاراشٹر کی لوکل حکومت کو پانچ کروڑ دان کئے اس کے ساتھ ایک جدید ترین ہسپتال بھی وہاں کی حکومت کو بنا کر دینے کا اعلان کیا۔ روزانہ ایک لاکھ ماسک غریب اور ضرورت مندوں کو مہیا کئے جاتے تھے۔ ایمبولینس اور ایمرجنسی کی گاڑیوں کی فری پیٹرول اور سروسز فراہم کی جاتی، علاقے کے غریب اور ضرورت مندوں کو صبح شام کھانے کا ذمہ بھی انہوں نے خود اٹھا رکھا تھا اور تمام اخراجات بھی۔ اس کے برخلاف ہمارے پیارے ملک پاکستان کو چین سے خیرات میں ملی ہوئی ویکسین جو غریبوں اور ضرورت مندوں کے لئے تھی اس میں سے آنے والی پہلی کھیپ سے سندھ کے با اثر بڑے وڈیروں اور حاکموں اور دولت مندوں نے چودہ ہزار ڈوز غریبوں سے چھین کر خود اپنے خاندان والوں کے لئے استعمال کرکے ثابت کیا کہ وہ ذہنی طور پر ابھی بھی غلام ہیں اور پورا اچکے ہیں۔ امبانی بھی اس ہی خطہ زمین سے تعلق رکھتا تھا جہاں سے ہمارے ملک کے ذہنی غلام حکمراں تھے۔ ہمارے ان حکمرانوں کو ذرا بھی غیرت نہ آئی کہ پڑوسی ملک کے دولت مند اپنے غریبوں کے لئے خزانے کھول رہے ہیں اور ہمارے ملک کے دولت مند غریبوں کے آئی ہوئی خیرات میں سے اپنا بھتہ وصول کرنے میں شرم و حیا سے عاری ہو چکے ہیں۔
رمضان کی آمد کے اعلان سے ہی یہ ذخیرہ اندرزی کرکے غریبوں پر مہنگائی کا پہاڑ توڑ رہے ہیں ان غریبوں پر رحم آنے کے بجائے اس دولت کو بیرونی ممالک منتقل کرکے سرمایہ کاری کے لئے استعمال کررہے ہیں۔ رمضان کی آمد کا اعلان ہوتے ہی یہ دولت مند ذخیرہ اندوزی کرکے قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ کرتے ہیں۔ غریب کا خون چوس کر اپنے روزے افطار کرتے ہیں، کھانے پینے کی اشیا، آٹا، چینی، گھی، مارکیٹ سے غائب کرکے اس حرام کمائی سے سحری میں اپنا پیٹ بھرتے ہیں اور اس حرام کمائی کو ناجائز ذرائع سے بیرونی ممالک منتقل کرکے عمرے کرتے تھے۔
اس کے برخلاف اس کافر ملک کینیڈا کی حکومت اور تاجروں نے رمضان کے احترام میں مسلمانوں کے استعمال کی مختلف اشیا کی قیمتوں کو مزید کم کرکے ان کے دلوں سے دعائیں وصول کررہے ہیں، ہر بڑے اسٹور پر رمضان کی خصوصی سیل لگی ہے تو وہ مسلمانوں کے لئے مگر اس میں کسی قسم کی کوئی تفریق نہیں پر کوئی فرد رمضان سیل سے سستی اشیا خرید سکتا ہے اور حکمرانوں اور دولت مندوں کو دعائیں۔ پھر کیوں نہ یہ قومیں ترقی کریں اور دنیا پر راج کریں۔ ہمارے نصیب میں تو دنیا بھر میں رسوائی ہی لکھی ہوئی ہے۔ کیونکہ دنیا بھر کی تمام بدعنوانیاں کرکے ہم اپنے آپ کو تہذیب اور اخلاق کا امین سمجھتے ہیں۔ اپنے آپ کو ان اعلیٰ صفات کی ہستیوں سے جوڑتے ہیں جن کی تعلیمات پر عمل پیرا ہو کر ان کافروں نے دنیا میں معبری حاصل کی اور ہم صرف ان کا نام لے کر ایسے اعمال کررہے ہیں جو صرف پستی میں گرتی ہوئی قوموں کا ہی وطیرہ ہے۔ ہمارے منہ سے بڑے بڑے بھاشن اور عملی طور پر وہ کام جس سے مہذب اور اعلیٰ اخلاق والی قوموں نے خود کو الگ رکھا ہے یعنی فریب، مکاری اور منافقت جو ہمارے قوم کے دولت مندوں کا کمال فن ہے جس کی بدولت ہمارے ملک کے غریبوں کا خون چوس کر اخلاق کے بھاشن دے کر یہ سمجھتے ہیں کہ دنیا کے ساتھ ساتھ دوسرے جہاں کے مالک کو بھی متاثر کر دینے کا دعویٰ رکھتے ہیں وہ بھول رہے ہیں کہ رمضان کے نمائشی روزے اور عمرے ان کو جہنم کی آگ سے محفوظ نہیں رکھ سکیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں