قارئین کرام ان کالموں میں جہاں افریقہ کی سیر کرائی جائے گی وہیں یہاں کے معاشی اور سیاسی حالات پر بھی لب کشائی کروں گا۔ پچھلے ہفتے ہم نے ہرارے کے نزدیک مشہور ”لیک چویرو“ “Lake Chivero” کا وزٹ کیا۔ یہ لیک ہرارے آنے والے سیاحوں کی خصوصی دلچسپی کا مرکز رہتی ہے۔ یہاں داخلے کے لئے کچھ ڈالرز اینٹری چارجز لئے جاتے ہیں۔ یہ جھیل بہت بڑے رقبے پر پھیلی بہت بڑے رقبے پر پھیلی ہوئی ہے اس کے اردگرد نیم پہاڑی علاقہ ہے۔ جھیل کی گہرائی کا تو اندازہ نہیں لیکن چوڑائی میں یہ گولائی کی طرح پھیلی ہوئی ہے یعنی آپ ایک مقام پر کھڑے ہو کر چاروں طرف دیکھ سکتے ہیں۔
یہاں قیام و طعام کا بھی انتظام موجود ہے، ویک اینڈ پر لوگ یہاں رات گزارتے ہیں۔ باربی کیو کا انتظام ہے۔ اکثر لوگ گھروں سے کھانا تیار کرکے یہاں لے آتے ہیں اور پھر رات گئے میوزک اور ڈانس چلتا ہے۔ جھیل پر پرانی اشیاءکا چھوٹا سا میوزیم بھی ہے۔ اس کے علاوہ بچوں کی تفریح و طبع کے لئے مختلف قسم کے جھولے بھی نصب کئے گئے ہیں۔ یہاں چھوٹا سا چڑیا گھر بھی ہے جس میں زیادہ تعداد مختلف قسم کے طوطوں کی ہے۔ عمومی طور پر یہاں ویک اینڈ پر لوگوں کا رش ہوتا ہے۔ فیملیز آتی ہیں۔ اور انجوائے کرتی ہیں۔ جھیل کے اندر پرائیویٹ لوگوں کی چھوٹی کشتیاں محو رقصاں نظر آتی ہیں۔ اجتماعی طور پر بھی پچھلے سالوں میں سیاحوں کو لیک کی سیر کروائی جاتی تھی۔ مگر اس بار ایسا کچھ نظر نہیں آیا۔ جھیل پر سہ پہر میں ایگل شو بھی دکھایا جاتا ہے۔ تمام سیاح اکھٹے ہو کر ایک مقام پر بیٹھ جاتے ہیں اور اس ریزورٹ کا مالک ایک شاہین کو ہوا میں بلند کرتا ہے اور وہ شاہین مختلف قسم کے کرتب دکھاتا ہے۔ یہ سلسلہ کئی بار ہوتا ہے، لوگ محظوظ ہوتے ہیں، تالیاں بجاتے ہیں، ویڈیو اور فوٹو گرافی کرتے ہیں۔ ہرارے سے قریب یہ ایک بہترین تفریح گاہ ہے۔ جہاں آپ سارا دن فیملی کے ساتھ گزار سکتے ہیں۔ اس وزت کی ویڈیو میرے یوٹیوب چینل VOC Urdu پر موجود ہے۔ جو دیکھنا چاہے وہ یوٹیوب پر جا کر دیکھ سکتا ہے۔ شام ڈھلے ہم لوگ وہاں سے روانہ ہوئے تو ہرارے آتے ہوئے سڑک کے دونوں اطراف لوگوں نے چھوٹے چھوٹے کھوکھے اور ٹھیلے لگا رکھے ہیں۔ ہر طرف چہل پہل نظر آتی ہے۔ آج سے کچھ سال پہلے یہ علاقہ ویرانی کا منطر پیش کرتا تھا۔ پچھلے چند سالوں میں یہاں ٹریفک کا اژدھام جمع ہو گیا ہے، کئی مقامات پر تو گھنٹوں ٹریفک پھنسی رہتی ہے۔ ٹریفک کی اس خرابی میں ویگن چلانے والے ڈرائیوروں کا بڑا حصہ ہے۔ وہ ہر قانون کو بالائے طاق رکھتے ہوئے گاڑی گھسا دیتے ہیں۔ آج یہاں فٹبال کا میچ تھا اور جب ہم واپس آرہے تھے تو لوگوں کے ٹھٹ کے ٹھٹ جھنڈے اٹھائے گھروں کو لوٹ رہے تھے۔ پیدل چلنے والوں کی تعداد بہت زیادہ تھی، ٹریفک سست روی سے چل رہی تھی، ہمیں یہاں سے نکلتے ہوئے کافی وقت لگ گیا۔ کچھ سالوں میں میرے مشاہدے کے مطابق یہاں کا مخصوص طبقہ غیر شائستہ ہو گیا ہے۔
جب کہ یہاں کے لوگ بڑے تہذیب یافتہ اور با اخلاق ہوا کرتے تھے۔ معاشروں کا اخلاق بگاڑ دنیا کے ہر خطے میں دیکھا جا سکتا ہے۔ شاید اس کی وجہ انٹرنیٹ ہے جس پر ہر قسم کا اچھا اور بیہودہ مواد موجود ہے اور وہ نوجوانوں کی ذہن سازی کر رہا ہے۔
زمبابوے کے معاشی حالات دہائیوں سے دگرگوں ہیں، 2009ءکے اوائل میں ہی بگڑتی ہوئی معاشی صورت حال کے پیش نظر یہاں ملٹی کرنسی متعارف کروائی گئی تھی یعنی زمبابوے ڈالر کا خاتمہ ہو گیا تھا، اس کی بڑی وجہ ان کی مغربی ممالک سے دشمنی تھی، جنہوں نے ان کا حقہ انی بند کردیا تھا، یہاں سے ایکسپورٹ تقریباً بند ہو گئی تھی، جو ڈالر کمانے کا بڑا ذریعہ تھا، عالمی مالیاتی اداروں نے ان پر اکنامک پابندیاں لگا دیں۔ اب ان کے ہاں ڈالر صرف دوسرے ممالک میں رہنے والے زمبابوین بھیجا کرتے تھے۔ بینکوں کے پاس ایل سی کھولنے کے لئے ڈالرز موجود نہ تھے، یہی حال پاکستان کا ہو رہا ہے۔ یہاں مہنگائی آسمانوں کو چھو رہی تھی، غربت کے تمام ریکارڈ ٹوٹ گئے تھے، ملک پر رابرٹ موگابے کی حکومت تھی جو کہ کافی غیر مقبول ہو چکی تھی۔
ایسی صورت حال بھی میں نے دیکھی کہ بریڈ بھی لائن میں لگ کر لینی پڑتی تھی، اور پیٹرول کے حصول کے لئے بڑے پاپڑ بیلنے پڑتے تھے۔ غرضیکہ زندگی اجیرن ہو چکی تھی۔ ہرارے بہت سارے ممالک کی ایئر لائن آتی تھیں جو کہ آہستہ آہستہ بند ہو گئیں، ملک معاشی طور پر دیوالیہ ہو چکا تھا، بڑی بڑی کمپنیاں اپنا کام بند کرکے بھاگ چکی تھیں۔ مقامی گوروں، کلرڈ اور انڈین کی بہت بڑی تعداد ملک چھوڑ کر مغربی ممالک میں سکونت اختیار کر چکی تھی۔ کاروبار بری طرح متاثر ہو رہا تھا لیکن اس ابتری کے دور میں بھی زمبابوین نے کبھی احتجاج نہیں کیا کیونکہ وہ حکومتی سختیوں اور جبر سے ڈرتے تھے۔ یہی صورت حال پاکستان میں درپیش ہے اور لوگ چپ سادھے ہوئے ہیں، ہم بھی آئی ایم ایف سے مہینوں سے بھیک مانگ رہے ہیں لیکن وہ امپورٹڈ سرکار پر اعتبار کرنے کو تیار نہیں ہے، مہنگائی کے پچاس سالہ ریکارڈ ٹوٹ گئے ہیں۔
مجھے خدشہ ہے کہ کہیں پاکستان میں بھی خدانخواستہ ایسی معاشی حالات پیدا نہ ہو جائیں، ابھی تو کچھ سلسلہ چل رہا ہے مگر موجودہ حکومت کی نالائقی اور ڈھٹائی اسے اس اسٹیج تک لے آئی ہے، جلد سے جلد الیکشن ہی اس کا واحد حل ہے۔
منہ کا ذائقہ تبدیل کرنے کے لئے ساتھ ساتھ پاکستان کا موازنہ کرنا بھی ضروری ہے اور ارباب اختیار کے کان کھولنا مقصود ہے۔ (باقی آئندہ)
242











