Notice: Undefined index: geoplugin_countryName in /home/pakistantimes/public_html/wp-content/themes/upaper/functions.php on line 341
ایران پر حملہ یا تیسری عالمی جنگ! 181

الیکشن بمقابلہ سلیکشن

پاکستان میں الیکشن کیوں کروائے جارہے ہیں؟ اور اگر یہ الیکشن کروا بھی لئے جائیں تو اس سے پاکستان اور اس میں رہنے والوں کی زندگیوں پر کیا فرق پڑے گا؟ کیا پاکستان میں لاءاینڈ آرڈر کی صورتحال بہتر ہو جائے گی، لوگوں کی زندگیوں میں خوشحالی آجائے گی اور پھر عمران خان کی طرح سے کسی دوسرے مقبول اور عوامی لیڈر پر بے بنیاد جھوٹے مقدمات درج کئے جانے کا سلسلہ ختم ہو جائے گا اور پھر کیا پاکستان کا عدالتی نظام آئین اور قانون کے مطاب کام کرے گا، ادارے قانون کی بالادستی کو تسلیم کرلیں گے۔ ایک ہی گھاٹ میں شیر اور بکری پانی پینے کے قابل ہو جائیں گے۔ اگر یہ سب کچھ الیکشن کے ذریعے ممکن ہو سکتا ہے تو پھر تو ہمیں اس الیکشن میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا چاہئے اور اگر اس الیکشن کے ذریعے بھی کچھ نہیں بدلنے والا اور یہ الیکشن بھی ”نئی بوتل پرانی شراب“ کو ہی جنم دینے کا باعث بننے جارہا ہے تو خدا کی قسم یہ پھر الیکشن نہیں بلکہ سلیکشن ہے، صرف اور صرف دنیا والوں کو بے وقوف بنانے کے لئے مداری کی ڈگڈگی بجانے والا ایک تماشہ ہے، اس سے زیادہ اس الیکشن کے ڈرامے کی اور کوئی اہمیت ہی نہیں ہے، آج سب کو معلوم بھی ہے اور کسی کو معلوم بھی نہیں کہ اس وقت پاکستان میں عملی طور پر کون حکومت کررہا ہے، سب کو معلوم ہے کہ کاکڑ اس ملک کے وزیر اعظم ہیں، سب کو معلوم ہے کہ عارف علوی ملک کے صدر ہیں اور جسٹس فائز عیسیٰ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ہیں، کس کے حکم سے پاکستان کی ساری سرکاری مشینری ایک سیاسی جماعت کو دیوار سے لگانے میں لگی ہوئی ہے، مقدمات کے اندراج کا ایک نہ رکنے والا سلسلہ جاری ہے، پہلی بار ملک کے سابق وزیر اعظم عمران خان کے خلاف 200 سے زائد مقدمات درج کئے گئے ہیں، انہیں جیل میں قید رکھا گیا، پاکستان کے سیاسی اور کرائم کی تاریخ میں اس کی نظیر ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملے گی۔
پاکستان بننے کے بعد سے اب تک جتنے سیاستدانوں کے خلاف مقدمات درج کئے جا چکے ہیں، ان کی مجموعی تعداد بھی عمران خان کے خلاف درج مقدمات کی تعداد سے کم ہو گی۔ اسی طرح سے پاکستان کے خطرناک سے خطرناک کسی دہشت گرد اور دوسرے مجرم کے خلاف بھی اتنی ایف آئی آر درج نہیں کئے گئے ہوں گے جتنے ایف آئی آر عمران خان کے خلاف درج کئے جاچکے ہیں۔ جو لوگ اس کام پر مامور ہیں وہ اپنی دانست میں تو اچھا کررہے ہیں، وہ عمران خان کو توڑنے اور انہیں جھکانے کی کوشش کررہے ہیں مگر ان عقل کے اندھوں کو اس بات کا بالکل بھی فہم و ادراک نہیں کہ ان کی یہ ظالمانہ حرکتیں جلتی پر تیل کا کا کرتے ہوئے ملکی عوام کے جذبات کو ابھارنے ان میں مزید جوش و ولولہ پیدا کرنے کا باعث بن رہی ہیں۔ وہ ان ریکارڈ ترین ایف آئی آر کے ذریعے عمران خان کی مارکیٹنگ کررہے ہیں، وہ خود اپنے ہاتھوں سے انہیں تراش کر نیلسن منڈیلا سے بھی بڑا عالمی لیڈر بنا رہے ہیں۔
آج تحریک انصاف کے ووٹ بینک میں اضافہ بھی ان ہی احمقوں کی غلط سلط حرکتوں کی وجہ سے ہوا ہے، عمران خان یا پی ٹی آئی کے جلسے والے روز ملک بھر میں انٹرنیٹ کی سروس کو معطل کرکے اپنی دانست میں ایک بہت بڑا کام کرتے ہیں، جیسے انہوں نے کوئی بہت بڑا معرکہ سر کرلیا ہے۔ لیکن ان خودساختہ سقراطوں اور بقراطوں کو نہیں معلوم کہ ان کی اس طرح کی بچکانہ حرکتوں سے پوری دنیا میں جہاں پاکستان کی جگ ہنسائی ہوتی ہے وہیں وہاں یہ پیغا بھی خودبخود پہنچ جاتا ہے کہ پاکستان میں عمران خان اور ان کی پارٹی کچھ کر گئی جسے دبانے یا پھر روکنے کے لئے انٹرنیٹ سروس معطل کی گئی ہے۔ پاکستان اس وقت بے وقوفوں اور عقل سے عاری لوگوں کے کنٹرول میں ہے، جہاں سارے کے سارے فیصلے ملک کی فلاح و بہبود اور سلامتی کے بجائے دوسروں کو خوش کرنے کے لئے ان کی ڈکٹیشن پر کئے جارہے ہیں اور الیکشن والے روز یا اس سے پہلے کسی بھی طرح کے کسی ناخوشگوار واقعہ کے رونما ہونے کی بھی اطلاعات افواہوں کی صورت میں گردش کررہی ہیں۔
پاکستان کے سلامتی کے ضامن پاک افواج کو اس طرح کی صورتحال پر گہری نظر کھنے کی ضرورت ہے تاکہ ملک دشمنوں کو اپنا کھیل کھیلنے کا موقع ہمارے اپنے نادانوں کی غلطی کی وجہ سے نہ مل سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں