ایران، اسرائیل اور امریکہ جنگ معتبر ضامن کے نہ ہونے کی وجہ سے کوششوں کے باوجود نہ روکی جاسکی، حالانکہ تینوں فریق جنگ روکنے کے لئے اپنی اپنی شرائط پر راضی ہو گئے ہیں مگر امریکہ پر اب کوئی بھی اعتبار کرنے کو تیار نہیں، امریکہ پر آنکھ بند کرکے بھروسہ کرنا یا پھر ان پر اعتماد کرنے کو اپنے ہاتھوں اپنی قبر کھدوانے کے مترادف سمجھا جاتا ہے اس جنگ سے جہاں دنیا کو ایک بار پھر ویتنامیوں کی گوریلا لڑائی یاد آگئی تو دوسری طرف ایران کے اسرائیل پر تابڑ توڑ حملوں اور اس کے نتیجے میں اسرائیلیوں کی فلک شگاف چیخوں نے ہٹلر کی دہشت دوبارہ سے تازہ کرلی ہے خاص طور سے اسرائیلی فوجیوں اور سیاستدانوں کے ہواس پر ایک بار پھر ہٹلر سوار ہو گیا ہے یہ جنگ جو طویل ہوتی جارہی ہے اور اس کی تباہ اریوں میں بھی تیزی سے اضافہ ہوتا جارہا ہے امریکہ اور اسرائیل نے جس طرح سے ایران کو ایک ترنوالا یا پھر ریت کی دیوار خیال کیا تھا وہ ان کی توقعات سے زیادہ خطرناک نکلا اور اب امریکہ اور اسرائیل کو بھی اس جنگ کی شکل میں اپنی بے وقوفی کا اندازہ ہو گیا کہ ان سے کتنی بڑی بھول ہو گئی ہے، وہ ایک دلدل میں پھنس گئے ہیں اور اب اپنی یار ماری والی شہرت کی وجہ سے ان کا کوئی ضامن بننے کو تیار نہیں۔ دوسری جانب یورپ مشرق وسطیٰ یا پھر نارتھ امریکہ کے وہ ممالک جو امریکہ اور اسرائیل کی وجہ سے دکھی تھے پریشان تھے وہ اس جنگ میں ایران کے ہاتھوں وقت کے ان دونوں فرعونوں کو پٹتے دیکھ کر دل ہی دل میں بہت خوش ہو رہے ہیں اور جھولیا اٹھا اٹھا کر ایران کی بہادری ان کی ثابت قدمی پر ان کی فتح کے لئے دعائیں کررہے ہیں۔ ایران کے یہ تابڑ توڑ حملے ان کے دلوں کی ان کے جذبات کی اس وقت پوری طرح سے ترجمانی کررہی ہے کیونکہ یہ ممالک امریکہ اور اسرائیل کے ہاتھوں ظلم سہنے کے باوجود اپنی کمزوریوں اور مجبوریوں کی وجہ سے ان کی مخالفت کی ان میں ہمت اور جرات نہیں مگر اس جنگ نے انہیں لاشعوری طور پر ایران کا حامی بنا دیا ہے اور وہ یہ چاہتے ہیں کہ یہ جنگ اسی طرح سی جاری و ساری رہے تاکہ وقت کے ان فرعونوں کا غرور خاک میں ملتا رہے، ایران کی اس غیر متوقع جنگ نے جہاں ایک طرف امریکہ اور اسرائیل کی بھرم بازی اور جعلی ہیروپن کا بھانڈا پھوڑ دیا وہی انہیں دنیا میں سب سے بڑا جھوٹا اور دغا باز کے علاوہ غنڈہ اور ڈاکو بھی ثابت کردیا کہ ان کا کام ہی کسی نہ کسی بہانے دوسرے ملکوں میں گھس کر ان کی خود مختاری پر حملہ کرکے ان کے وسائل کو لوٹنا ہے اور وہاں کی عوامی حکومت کا خاتمہ کرکے اپنے غداروں کو اقتدار پر بٹھانا ہے تاکہ وہ ان کے مفادات کے لئے کام کرتے رہیں دوسری جانب ایران کی اس جنگ نے خود عالم اسلام میں موجود مسلمان حکمرانوں کے بھیس میں چھپے کفار کے ایجنٹوں کو بھی بے نقاب کردیا اور جنہیں سب سکھانے کے لئے ہی ایران نے ان پر بھی تابڑ توڑ حملے کئے اور ان کا محفوظ ملک ہونا کا دعویٰ بھی ہوا میں اڑا دیا غرض ایران جنگ نے مشرق وسطیٰ کی پوری سیاست ہی تبدیل کروادی اور خود یورپ کو بھی بہت کچھ سوچنے پر مجبور کردیا اس ذاتی پسند نہ پسند کی جنگ میں امریکہ کے ساتھ نہ دینے پر یورپ برطانیہ، فرانس اور نیٹو نے بہت بہادری اور سمجھ داری کا مظاہرہ کیا ہے اور امریکہ کو یہ احساس دلادیا ہے کہ امریکہ کوئی سپرپاور نہیں کہ وہ جو چاہے کرے اور اپنے غیر قانونی غیر اخلاقی کاموں میں دوسروں کو بھی ڈرا دھمکا کر شامل کرے جس طرح سے پہلے عراق اور افغانستان پر حملہ کرنے کے دوران دوسروں کو اپنی جنگ میں شامل کرکے لاکھوں بے گناہوں کو ہلاک کیا جس کا بعد میں دنیا کو احساس ہوا یہ ہی وجہ ہے کہ ایران کے اس جنگ میں یورپ اور دوسرے ممالک نے دوبارہ اس طرح کی غلطی دہرانے سے گریز کیا اور امریکہ کو منہ کی کھانا پڑی اور اب اس جنگ کو رکوانے کے لئے وہ معتبر ضامن بننے کی بھیک مانگتا پھر رہا ہے کہ کوئی فیس سیونگ کرکے انہیں اس جنگ سے چھٹکارہ دلوادے۔
7











