واشنگٹن، تہران، نیو یارک، تل ابیب، ماسکو، دوحہ (نیوز ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے ایران کے محب وطن لوگ احتجاج جاری رکھیں ، اپنے اداروں پر قبضہ کر لیں ، مدد پہنچ رہی ہے۔ اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری پیغام میں ٹرمپ نے کہا قاتلوں اور ظلم کرنے والوں کے نام یا درکھیں، انہیں بہت بڑی قیمت چکانی پڑے گی۔ میں نے ایرانی حکام کے ساتھ اپنی تمام ملا قا تیں اس وقت تک منسوخ کر دی ہیں جب تک مظاہرین کا قتل عام بند نہیں کیا جاتا۔ دوسری جانب ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے تجارت کرنے پر نئی پابندیاں عائد کر دیں۔ ٹرمپ نے خبر دار کیا ہے ایران سے تجارت کرنے والے ممالک پر پچیس فیصد ٹیرف عائد کر دیا جائے گا اور اس اقدام کا اطلاق فوری طور پر ہوگا۔ وہ ملک جو ایران سے کسی بھی قسم کی تجارت کرتا ہے اس کی امریکا سے جو بھی تجارت ہواس پر پچیس فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا۔ قبل ازیں امریکی صدر نے کہا ایران نے جوہری معاہدے پر بات کرنے کے لیے رابطہ کیا ، ہم ان سے بات کر سکتے ہیں۔ امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام ) اور علاقائی شراکت داروں نے قطر کے العدید ائیر بیس میں ایک نیا کو آرڈی نیشن سیل قائم کیا ہے جس کا مقصد فضائی اور میزائل دفاع کو مضبوط بنانا ہے۔ نیا مڈل ایسٹ ائیر ڈیفنس کمبائنڈ ڈیفنس آپریشنز سیل (MEADCDOC) کمبائینڈ ائیر آپریشنز سینٹر (CAOC) میں واقع ہے اور اس میں امریکا اور علاقائی شراکت داروں کے اہلکار شامل ہیں۔ سینٹ کام کے بیان میں کہا گیا قطر میں قائم کمبائنڈ ائیر آپریشن سینٹر 20 سال قبل قائم کیا گیا تھا اور اس وقت یہ 17 ممالک کے نمائندوں پر مشتمل ہے۔ اس سینٹر کے اندر بنے والا نیا سیل علاقائی ممالک کے درمیان فضائی اور میزائل دفاع کے لیے تعاون کو مزید بہتر بنانے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ یہ سیل معلومات کے تبادلے اور خطرات سے متعلق وارننگز جاری کرنے کی ذمہ داری بھی ادا کرے گا۔ دوسری جانب ایرانی سپریم لیڈ ر علی خامنہ ای نے حکومت کے حق میں مظاہروں پر خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے ایرانی قوم مضبوط، طاقتور اور باخبر ہے۔ انہوں نے خبر دار کرتے ہوئے کہا امریکہ اپنے فریبی اقدامات رو کے اور اپنے آلہ کاروں پر بھروسہ کرنا چھوڑ دے۔ ایرانی قوم کی عظیم ریلیوں نے دشمنوں کی سازشوں کو خاک میں ملادیا، سازشوں پر اندرونی ملک کرائے کے ایجنٹوں سے عمل کرایا جانا تھا۔ ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سربراہ علی لاریجانی نے سوشل میڈیا پر بیان میں کہا ایرانی عوام کے اصل قاتل خود امریکہ اور اسرائیل کی قیادت ہے۔ ایرانی عوام کے اصل قاتلوں کے نام ڈونلڈ ٹرمپ اور نیتن یاہو ہیں، انسانی حقوق کا نعرہ لگانے والے ممالک خود سب سے بڑی انسانی خلاف ورزیوں میں ملوث ہیں۔ امریکا اور اسرائیل برسوں سے ایران پر پابندیاں، دباو¿ اور عدم استحکام مسلط کر کے عام شہریوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ ایران میں بگڑتی ہوئی داخلی صورتحال کے خلاف دنیا بھر میں ایرانی باشندوں کا احتجاج جاری ہے۔ یونان کے دارالحکومت ایتھنز میں بھی ایرانی کمیونٹی سڑکوں پر نکل آئی، یونانی پارلیمنٹ کے سامنے مظاہرہ کیا گیا، مظاہرین نے تہران میں نو جوانوں پر فائرنگ کے واقعات کی شدید مذمت اور حکومتی کریک ڈاو¿ن کے خلاف آواز بلند کی ، مظاہرین نے بینرز اور پلے کارڈز اٹھارکھے تھے جن پر انسانی حقوق، آزادی اظہار اور جمہوری اقدار کے حق میں نعرے درج تھے ، شرکا کا کہنا تھا ایرانی حکومت اختلاف رائے کو دبانے کے لئے طاقت کا بے دریغ استعمال کر رہی ہے، جو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ مظاہرین نے عالمی اداروں، اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے مطالبہ کیا کہ ایران میں نو جوانوں کے خلاف تشدد کا نوٹس لیں اور ذمہ داروں کے خلاف کاروائی یقینی بنائیں۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے ایران میں مظاہرین کے خلاف تشدد پر اظہار تشویش کیا۔ انتونیو گوتو تریں نے کہا کہ مظاہرین کے خلاف تشدد اور طاقت کے استعمال کی اطلاعات تشویش ناک ہیں، ان کارروائیوں کے نتیجے میں متعدد افراد ہلاک اور زخمی ہوئے۔ آزادی اظہار، آزادی اجتماع اور پر امن احتجاج کے حق کا احترام ضروری ہے، ایرانی حکام ضبط کا مظاہرہ اور غیر ضروری طاقت کے استعمال سے گریز کریں، ایران میں مواصلاتی سہولیات بحال، اطلاعات تک رسائی کو یقینی بنایا جائے۔ اسرائیل نے ایرانی مظاہرین کی حمایت کا اعلان کر دیا۔ اسرائیلی وزیر خارجہ گیدون سار نے کہا اسرائیل ایران میں حکومت کے خلاف احتجاج کرنے والوں کی کامیابی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتا ہے، ایرانی عوام آزادی کے مستحق ہیں ، ہماری ان سے کوئی دشمنی نہیں ، ہمیں ایرانی حکومت سے مسئلہ ہے جو دہشتگردی اور انتہا پسندی کی سب سے بڑی برآمد کنندہ ہے، ایرانی حکومت صرف ہمارا ہی نہیں بلکہ علاقائی اور بین الاقوامی مسئلہ ہے۔ روس نے ایران پر امریکی حملے کی دھمکیوں کی مذمت کرتے ہوئے اسے ناقابل قبول قرار دے دیا۔ روسی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ایران پر امریکی حملے کی دھمکیاں قطعی طور پر نا قابل قبول ہیں، امریکا ایران میں بے امنی کو بہانہ بنا کر دوبارہ حملے نہ کرے۔ اس طرح کا اقدام مشرق وسطی میں تباہ کن نتائج کا باعث بنے گا اور عالمی سلامتی کے لیے بھی خطرہ ہوگا۔ ایران کے غیر ملکی شراکت داروں کو تجارتی محصولات بڑھا کر بلیک میل کرنے کی کوششوں کو مسترد کرتے ہیں۔ ایران میں مصنوعی طور پر بھڑکائے گئے احتجاج اب ماند پڑ رہے ہیں، امید ہے ایران میں حالات بتدریج مستحکم ہو جائیں گے۔
5












