اس وقت دنیا تیسری عالمی اور فیصلہ کن جنگ کے قریب قریب پہنچ گئی ہے کسی بھی جانب سے ذرا بھی جلد بازی اور اکھڑپنے کا مظاہرہ کیا گیا تو جوالا مکھی پھٹ جائے گی اور پھر کچھ بھی نہیں بچے گا۔ اسے پھر دنیا قیامت صغریٰ یا پھر قیامت کبریٰ کے نام سے ہی یاد کرے گی۔ جنگ کے بادل منڈلارہے ہیں اور جنگ کے ان بجھتی ہوئی چنگاریوں کو ہوا کسی نہ کسی طریقے سے اسرائیل یا پھر امریکہ کی جانب سے دیے جانے کا سلسلہ بھی وقفے وقفے سے جاری ہے۔ اسرائیل غزہ کے محاذ پر اپنی جارحانہ مشن کو جاری کیے ہوئے ہے اور اس میں ممکنہ حد تک رکاوٹ بننے یا پھر حماس کی مدد کرنے والے ایران امریکہ کی جانب سے کسی بھی وقت حملہ کرنے کا خوف سوار کرکے اور ان کے سروں پر جنگ کی تلوار لٹکا کر دراصل اسرائیل اپنے خوفناک مشن کو بلا کسی مزاحمت اور رکاوٹ کے آگے بڑھانا چاہتا ہے اس سارے غیر قانونی کارروائیوں میں امریکہ ایک تھانیدار کا کردار ادا کررہا ہے ایک ایسا تھانیدار جو ہاف فرائی اور فل فرائی کا ماہر ہے اسی مقدمہ کے لئے ایک ڈرامائی پیس بورڈ بھی قائم کردیا گیا ہے جس میں پاکستان انڈونیشیا سمیت بہت سارے ممالک کو شامل کیا گیا ہے جو اپنی فوج غزہ بھجوائے گی، بظاہر اس کا کام وہاں امن قائم کرنا ہے مگر اصل کام اسی فوج کے ذریعے حماس کا کام تمام کرن اہے یعنی مسلمانوں کو مسلمانوں سے لڑوا کر اسرائیل کو مضبوط سے مضبوط تر بنانا ہے اسی کارروائی کے دوران ایران پر کسی نہ کسی بہانے حملہ کردیا جائے گا اور اس طرح سے ایک تیسری عالمی جنگ کے لئے راہیں ہموار کر دی جائے گی کیونکہ ایران کے محاذ پر صرف ایران ہی یہ جنگ نہیں لڑے گا وہاں روس اور چین کی جدید ترین جنگی ٹیکنالوجی کے استعمال کرنے کی وجہ سے یہ ممالک بھی بالواسطہ یا براہ راست اس جنگ کا حصہ بن جائیں گے۔ پاکستان پہلے ہی اپنے تینوں ہمساﺅں سے لڑ چکا ہے یا پھر اسے لڑوا کر تنہا کردیا گیا ہے اس وقت امریکی صدر ٹرمپ کی پاکستان پر خصوصی کرم نوازی بھی دنیا کی توجہ کا مرکز بن چکی ہے پاکستان کارروائی حریف بھارت کو ہی اس سے تشویش نہیں بلکہ دوسرے ممالک بھی حیران ہیں کہ امریکی صدر اتنی زیادہ تعریفیں پاکستان کی کیوں کررہے ہیں؟ حالانکہ وہ بغیر کسی مطلب اور مقصد کے تو کسی کو منہ ہی نہیں لاتے۔ ان غیر معمولی تعریفوں کی وجہ سے بہت ساری افواہیں گردش کررہی ہیں کہ امریکہ نے پاکستان سے کوئی اہم کام لینا ہے اسی وجہ سے وہ پاکستان کی تعریف کررہے ہیں۔ خاص طور سے حالیہ جنگ میں بھارت کو عبرت ناک شکست دینے کے بعد سے امریکی صدر پاکستان پر فدا ہو چکے ہیں اور وہ پاکستان سے اور موجودہ حکومت سے بہت زیادہ امیدیں باندھ بیٹھے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ شہباز شریف کی حکومت امریکی صدر کی امیدوں پر کتنا پورا اترتی ہے جو بھی ہو وہ ملک اور ملکی عوام کے لئے بہتر ہو کیونکہ ملک کی موجودہ صورتحال تیزی سے بدلتے ہوئے عالمی صورتحال کے تناظر میں کچھ اچھی نہیں ہے۔ یوکرین اور روس کی آپسی جنگ کی وجہ سے بھی یورجپ کا امن داﺅ پر لگا ہوا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا میں بھی حالات جنگ کی طرف جارہے ہیں اس لحاظ سے ایران پر کسی بھی طرح کا حملہ اور اس کے ردعمل میں ایران کا امریکی ایئر بیسز جو عرب ممالک میں واقع ہیں ان پر راکٹ برسانا یقیناً تیل کے کنوﺅں کو آگ لگا کر دنیا کو ایک بہت بڑی جنگ میں دھکیلنے کے مترادف ہو گا اس لئے اس نازک صورتحال صورتحال میں یو این اے کے سیکریٹری جنرل کو آگے بڑھ کر اپنا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے کہ وہ اس صورتحال کو سلامتی کونسل میں لائے اور معاملات کو بات چیت کے ذریعے حل کروائے اسی میں دنیا کا امن مضمر ہے۔
8












