ایران نے وقت کے فرعونوں کی ایسی کی تیسی کردی ہے ان کی اینٹ سے اینٹ بجا دی ہے بلکہ ان کے ساتھ ساتھ ان کے سہولتکاروں یعنی امام المنافقین کی بھی وٹ لگا دی ہے جو وقت کے ان فرعونوں کو دودھ پلا رہے ہیں۔ انہیں پال رہے ہیں اور بظاہر خود کو مسلمان بھی کہتے ہیں لیکن یہ ہی اصل ناسور ہیں جنہیں پہلی بار ایران نے زبردست وٹ لگا دی کہ ان کی چیخیں نکل رہی ہیں اور اپنے سرپرستوں کو وہ مدد کے لئے پکا رہے ہیں اور سرپرست اپنی جان بچانے کے لئے خود خندقوں میں چھپے ہوئے ہیں، وقت کے فرعونوں کے سارے کے سارے اندازے غلط نکلے ان کا غرور اس ایران نے خاک میں ملا دیا جو اسے اپنے مدمقابل ایک مچھر سے زیادہ اہمیت نہیں دے رہے تھے لیکن ان عقل کے اندھوں کو یہ نہیں معلوم کہ مچھر یعنی ہاتھی کی موت کا باعث بنتا ہے اور مچھر سے بھی وقت کے سب سے ظالم بادشاہ نمرود کی موت واقع ہوئی تھی تو یہ دور حاضر کے ان فرعونوں کی کیا اوقات۔۔۔ یہ کون سے کھیت کی مولیاں ہیں جو قدرت کے قہر کے زد میں نہیں آسکتے۔ ایران ایک قوم ہے وہ بھی طاقت ور اور مضبوط ان کے لیڈر ان کے صدر آیت اللہ خامنہ ای نے جاتے جاتے شہادت کا درجہ حاصل کرکے اپنی قوم کو ڈٹ کر میدان میں رہنے اور دشمنوں کا مقابلہ کرنے کا درس دے کر چلے گئے ان کی شہادت نے ایرانی قوم میں ایک اور جوش و جذبہ ڈال دیا اور وہ اب پہلے سے بھی زیادہ پھرتی اور بہادری سے دشمنوں پر ٹوٹے ہوئے ہیں۔ مڈل ایسٹ میں ان کے تمام ایئر بیسنز تباہ کردیے اور ان کے سفارتخانوں تک ڈرون حملے کرچکے ہیں ان کے در و دیوار ہلا چکے ہیں اتنی رفتار سے ایران میزائل داغ رہا ہے کہ پوری دنیا اس پر حیران بھی ہے اور پریشان بھی۔۔۔ کیونکہ ان پر اپنی میزائلوں اور ڈرون کو نہ کوئی روکنے والا ہے اور نہ ہی ٹوکنے والا۔۔۔ وقت کے فرعونوں کی ساری کی ساری جنگی ٹیکنالوجی ان کے غرور اور غلط اندازوں کی طرح فیل ہو چکی ہے کیونکہ ایران کے پاس جدید دفاعی ٹیکنالوجی کے ساتھ ساتھ مر مٹنے کا جذبہ اور جنون بھی موجود ہے جو فرعون کے سپاہیوں کے پاس نہیں ہے کیونکہ فرعون کے سپاہی اجرت کے لئے اور ایرانی جوان شہادت کے لئے یہ جنگ لڑ رہے ہیں جس کے بعد جنگ میں جیت جذبوں کی ہی ہوتی ہے۔ ہتھیاروں کی نہیں۔۔۔ یہ وہ راز ہے جسے نہ تو فرنگی سمجھ سکے اور نہ ہی وقت کے فرعون یہ حقیقت جان سکے جس کی وجہ سے عبرت ناک اور تاریخ ساز شکست ہی اب ان کا مقدر بنتی چلی جارہی ہے، تھکا دینے والی اس جنگ میں وقت کے فرعونوں کی حالت غیر ہو چکی ہے اور وہ اب ایران سے مذاکرات کی بھیک مانگ رہے ہیں، ہاتھ جوڑ کے درخواست کررہے ہیں مگر ایران ہے جو ڈٹا ہوا ہے کہ یہ جنگ اب فیصلہ کن ہو گئی اور یہ جنگ گیم چینجر ثابت ہو گی، طاقت کا توازن ایک بار پھر نئے سرے سے تبدیل ہونے جارہا ہے۔ فرعون اور ان کے حواریوں اور سہولتکاروں کی طرف سے اس خدشے کا اظہار کیا جارہا ہے کہ ایران نے ایٹمی ری ایکٹر بنا لیا ہے یعنی وہ دوسرا اسلامی ملک بن چکا ہے جس کے پاس ایٹم بم موجود ہے یہ بہت ہی خوفناک اطلاع ہے، وقت کے فرعونوں اور طاغوت کے حواریوں کے لئے۔۔۔۔ اس لئی وہ سب کے سب پریشان ہیں اس جنگ میں ایران کی برتری سے دنیا کے مظلوموں اور وقت کے فرعونوں کے ہاتھوں دکھی لوگوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے کہ ایران کے ایٹمی ملک بننے سے مشرق وسطیٰ میں طاقت کا توازن برقرار ہو جائے گا اب کوئی کسی کے ساتھ زیادتی نہیں کر سکے گا۔ پاکستان کو بھی اپنے پڑوسیوں سے اچھے تعلقات بنانے کی ضرورت ہے اسی میں اس کی اپنی سلامتی اور فلاح مضمر ہے۔
8












