Notice: Undefined index: geoplugin_countryName in /home/pakistantimes/public_html/wp-content/themes/upaper/functions.php on line 341
بلوچستان میں آگ کیوں؟ 5

بلوچستان میں آگ کیوں؟

لگ ایسے رہا ہے کہ ایران اور امریکہ کی جنگ بلوچستان کے محاذ پر لڑی جارہی ہے جیسے جیسے امریکہ کی جانب سے ایران پر کسی بھی وقت حملے کی خبر گرم ہو جاتی ہے ویسے ویسے بلوچستان میں دہشت گردی کی وارداتیں اچانک بڑھ جاتی ہیں بلکہ اس بلا کی حد تک تیزی بھی آجاتی ہے اور یہ بات بھی اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہی کہ دہشت گردی کی ان وارداتوں میں براہ راست مودی سرکار ملوث ہے جس کے لاتعداد ناقابل تردید شواہد بھی سکیورٹی فورسز کے ہاتھ لگ چکے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مودی سرکار بلوچستان میں کس کی جنگ لڑ رہا ہے اپنی یا پھر ایران کے دشمنوں کی۔۔۔ یا پھر اس بھوکی اور چالاک بلی کی طرح سے جو اپنا پیٹ بھی بھرتی ہے اور مالک کو بھی اس کے گھر کے چوہوں کا شکار کرکے خوش کرتی ہے اس میں بھی اب کوئی دو رائے نہیں کہ مودی سرکار پاکستان کی روایتی حریف حکومت ہے وہ پاکستان کو تباہ کرنے کا کوئی ایک بھی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتی لیکن اس وقت جب ایک بہت بڑی جنگ ایران کے دروازے پر دستک دے رہی ہی اس موقع پر اچانک بلوچستان میں دہشت گردی کی بہت زیادہ وارداتیں کروانے کے آخر کیا مقاصد ہیں۔۔۔؟
غیر ملکی تجزیہ نگاروں اور مبصرین کا کہنا ہے کہ مودی سرکار اس وقت ایک تیر سے دو شکار کررہی ہے ایک تو اپنا ووٹ بینک بڑھانے اور پاکستان سے حالیہ جنگ میں تاریخ ساز ذلت آمیز شکست کا بدلہ اس دہشت گردی کے حالیہ وارداتوں کے ذریعے لے رہے ہیں اور دوسرا ایران کے دشمنوں کا پیغام بھی دہشت گردی کے ان وارداتوں کے ذریعے پاکستان کو دے رہے ہیں کہ وہ وکٹ کی دو جانب کھیلنے کا سلسلہ بند کردیں ورنہ دہشت گردی کی جو آگ بلوچستان میں بھڑکا دی گئی ہے اسے ملک کے دوسرے علاقوں میں پھیلائی جا سکتی ہے یہ ایک طرح کی دھمکی بھی ہے اور بلیک میلنگ بھی۔۔۔ سب کو معلوم ہے کہ مودی سرکار اس وقت کس کی پراکسی بنی ہوئی ہے۔۔۔؟ وہ خود وکٹ کے دونوں طرف کھیل رہی ہے وہ چین اور روس کے کیمپ میں شامل ہو کر ایران کی مدد کررہی ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ خود ایران سے ایک اچھے پڑوسی ہونے کا ثبوت دینے پر پاکستان کو سزا بھی دے رہے ہیں کہ پاکستان ایان کے ساتھ وہی سلوک کرے جو ایران کے دشمن چاہتے ہیں اب جب کہ مذاکرات کا سلسلہ چل پڑا ہے اور پاکستان نے ایران اور امریکہ کے مابین ثالثی کا کردار ادا کرنے کی پیشکش بھی کردی ہے جسے قبول کرلیا گیا ہے اور ایران امریکہ مذاکرات اب جمعہ والے روز استنبول میں ہونے جارہے ہیں، مذاکرات میں سعودی عرب، قطر، مصر، عمان اور متحدہ عرب امارات بھی شریک ہوں گے، مذاکرات میں ایران کے جوہری پروگرام پر بات چیت ہو گی اس طرح سے ایک بہت بڑی جنگ ہوتے ہوتے رہ گئی اس جنگ میں ایران کی اپنی موثر ترین حکمت عملی اور ان کی غیر معمولی دلیری نے بہت بڑا اور اہم کردار ادا کیا جب ایران کی جانب سے یہ بیان داغا گیا کہ اگر ایران پر حملہ کیا گیا تو مڈل ایسٹ میں واقع امریکہ کے تمام ایئر بیسز پر راکٹ برسائے جائیں گے یہ دھمکی دھمکی نہیں بلکہ توپکے گولے تھے جو سعودی اور امارات کے شاہی محلوں پر جا کر گرے جس کے بعد ہی ٹیلی فون کی گھنٹیوں نے وہائٹ ہاﺅس کی حالت خراب کردی تھی جس کے بعد ہی بلوچستان پر ایک طرح سے غیر اعلانیہ جنگ مودی سرکار کی جانب سے مسلط کروادی گئی۔ عالمی سیاست بھی ذاتی مفادات تجارتی منڈیوں کے حصول اور تیل کے ذخائر پر قبضے کے گرد گھوم رہی ہے ان ہی مقاصد کی تکمیل کے لئے دوسروں کی خودمختاری کو روندتے ہوئے ان پر جنگ مسلط کردی جاتی ہے ملکوں کے صدروں تک کو ان کے محلوں سے اغواءکر لیا جاتا ہے، عالمی سیاست بھی منافقوں اور چال بازیوں سے بھری پڑی ہے، دنیا ایک جنگل کے قانون کی صورت اختیار کر گئی ہے جہاں اب اقوام متحدہ کی حالت علامتی بن گئی ہے دنیا اس وقت جس کی ”لاٹھی اس کی بھینس“ کے مرحلے سے گزر رہی ہے۔ حکمرانوں کو سوچ سمجھ کر اس کھیل کا حصہ بننا چاہئے اسی میں پاکستان کی سلامتی و فلاح مضمر ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں