Notice: Undefined index: geoplugin_countryName in /home/pakistantimes/public_html/wp-content/themes/upaper/functions.php on line 341
عام آدمی کو بھی ایوارڈ، ایک اچھی مثال 196

تعلیم سب کے لئے، یہ کیسی پالیسی ہے؟

ہمارے ملک میں جب بھی کچھ گڑ بڑ ہو ئی ہے سب سے پہلے تعلیمی ادارے ہی بند ہوئے۔ 2020 کا ذکر ہے میری بھانجی نے لاہور بورڈ سے نویں جماعت کے صرف دو پرچے دئے تھے کہ پرچے ملتوی ہو گئے۔ اسکول انتظامیہ نے واٹس ایپ پر دسویں جماعت کا ہوم ورک بھیج دیا۔ ایک مرتبہ بات ہوئی تو بتایا کہ وہ مفت آن لائن کلاسیں لے رہی ہے۔ یوں اسے سکول سے بھیجے گئے ہوم ورک کرنے آسان ہو گئے۔ میں بہت متاثر ہوا پاکستانی آئین میں دسویں تک مفت تعلیم ہر بچے کا بنیادی حق ہے جو حکومت نے دینا ہے۔جبکہ ہر آنے والی حکومت ” تعلیم سب کے لئے “کے خوش کن نعرہ پر کتنا عمل کرتی ہے ہم سب جانتے ہیں !! دوسری طرف نجی شعبہ نے تعلیم کو منافع بخش کاروبار بنا لیا ہے۔میں نے اس صورتِ حال میں محترم استاد کا نمبر لیا اور فون پر ان سے تفصیلی گفتگو کی۔اِن نوجوانوں کی اِس کاوِش کے مقاصد اور طریقہءکار سے متعلق معلومات قارئین کی نذر ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ اس سے اور لوگوں کا بھی فائدہ ہو اور شاید یہ معلومات تعلیم کے ذمہ داروں کی آنکھیں کھول دے۔
یہ سائٹ علم کی دنیا اور کیمپس ڈاٹ پی کے کے نام سے ہے اور اس کے ایک ا±ستاد فرحان صاحب سے میری تفصیلی بات ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ یہاں طلبا کو مفت تعلیم فراہم کی جاتی ہے۔اس کو قائم کرنے کا مقصد یہ تھا کہ گاﺅں دیہات اور پسماندہ علاقوں میں تعلیم کا وہ معیار نہیں ہے جو بڑے شہروں کی علمی درسگاہوں کا ہے لہٰذا اس کمی کو پورا کرنے کے لئے ان کو سوشل میڈیا سے پورا کیا جائے۔ پھر پاکستان کے وہ علاقے جہاں زمانوں سے تعلیمی استبداد اور میعار بڑھانے کا کوئی تصور ہی نہیں وہاں کا تعلیمی معیار بھی دیگر علاقوں کے برابر لایا جا سکے۔ ہم طلباءسے کسی بھی قسم کی کوئی فیس نہیں لیتے۔ یہ تب ہی ممکن تھا جب ا±ن طلباءکو اچھے اساتذہ ملیں… پورا پاکستان جانتا ہے کہ پسماندہ علاقوں کے طلباءکے پاس تو فیس ادا کرنے کے وسائل نہیں ہوتے وہ اکیڈمیوں اور ٹیوشن سینٹروںمیں جا کر اپنی تعلیمی قابلیت آخر کس طرح بڑھا سکتے ہیں؟ ایک لڑکا دن میں ویلڈنگ کا کام کرتا ہے ، کسی اسکول کالج نہیں جاتا وہ اپنے فارغ وقت میں ہم سے لاگ ان ہو کر لیکچر سن سکتا ہے، کلاس میں شامل ہو سکتا ہے۔ یا رات کو وقت ملنے پر ریکارڈ شدہ لیکچر سن سکتا ہے۔ ہم نے طلبا کے لئے ’ میسنجر ‘ کی سہولت بھی دے رکھی ہے کہ وہ ٹیچر سے براہِ راست بات کر سکتا ہے۔ لوگ سوچتے ہیں کہ کوئی بھی چیز ، بشمول تعلیم، اگر مفت دی جا رہی ہو تو لازمی کوئی نہ کوئی مفاد ضرور ہو گا اس سلسلے میں فرحان صاحب نے کہا کہ جی ہاں!! ہمارا بھی ایک مفاد ہے۔۔۔ وہ یہ کہ ایسے تمام طلبا کو جو کسی بھی وجہ سے اپنی تعلیمی قابلیت کو بہتر نہیں بنا سکتے انہیں ممکنہ حد تک تعلیمی وسائل مفت مہیا کر کے دیگر طلبا کے معیار تک لایا جائے۔ علم کی دنیا کی ویب سائٹ 2004 میں قائم کی گئی۔ پھر ہم نے 2012 میں یو ٹیوب چینل بنایا۔ وہاں ہمارے ویڈیو لیکچر ہوتے تھے لیکن یو ٹیوب چینل کے ان لیکچروںمیں کوئی تسلسل نہیں تھا۔سوچا کہ باقاعدہ کلاسوں کا آغاز کرنا چاہیے اور طلبائ سے ہم براہِ راست بات بھی کر سکیں۔ ان کو ہر عنوان کے تحت سمجھا بھی سکیں جس سے ان کی علمی قابلیت مزید بہتر ہو سکے۔ نیز انہیں یہ محسوس ہو کہ گویا وہ ایک باقاعدہ کلاس روم میں پڑھ رہے ہیں۔ستمبر 2019 سے کیمپس ڈاٹ پی کے کی جانب سے ہماری باقاعدہ کلاسیں شروع ہوئیں۔ ویسے ہمارے ایک طالبِ علم کے اینٹری ٹیسٹ میں 200 نمبروں میں سے 196 نمبر آئے۔
ہم طلبا سے رابطے میں رہتے ہیں اور طلبا بھی اپنے نتائج سے ہم کو آگاہ کرتے ہیں۔ اب یہ کیسے علم ہو کہ ہماری کاوشوں سے طلبا کی استبداد یا قابلیت میں کوئی اضافہ بھی ہوا ؟ یا ہم کس حد تک کامیاب رہے؟ لہٰذا ہم صرف ان کو پڑھاتے ہی نہیں بلکہ ان کا امتحان بھی لیتے ہیں۔ جس طرح کسی بھی تعلمی ادارے میں ٹیسٹ سیشن ہوتا ہے بالکل اسی طرح ہمارا بھی ہوتا ہے۔ ہم تین دن کے اندر اندر طلباءکو ان کے نتائج دیتے ہیں۔ ابھی تک جو بھی ٹیسٹ ہوئے ان میں طلباءنے کافی سرگرمی دکھائی اور بہتر نتائج دیے۔نتیجہ 80 سے 90 فی صد اوسط رہا۔ ” ویب پر ہمارے اساتذہ کی پروفائل موجود ہے۔ طلبا اپنے ٹیچروں کو ”اسٹار“ دے کر بتاتے ہیںکہ وہ ان سے کتنے مطمئن ہیں۔ اس کے علاوہ ٹیچر نے کیسا پڑھایا طلبا براہِ راست اپنے تاثرات لکھ کر بتا سکتے ہیں۔ بلوچستان، آزاد کشمیر، سندھ اور کے پی کے طلباءبھی ہم سے پڑھتے ہیں۔ہم پنجاب تعلیمی بورڈ کے نصاب اور کتابوں کو سامنے ر کھ کر پڑھاتے ہیں۔کیمسٹری، فزکس، بیالوجی اور ریاضی بنیادی سائنس کے مضامین ہیں۔ تمام تعلیمی بورڈوں کا نصاب تقریباََ ایک سا ہی ہوتا ہے۔محض عنوانات آگے پیچھے ہوتے ہیں۔
صرف انگلش کے مضمون میں طالبِ علم براہِ راست ٹیچر کے ساتھ رابطے میں رہتا ہے کہ وہ اپنے نصاب کو سامنے رکھتے ہوئے کیسے اپنے آپ کو امتحان کے لئے تیار کرے۔یہ خاموش خدمات ایک طرح یا د وسری طرح پچھلے کئی برسوں سے جاری ہیں۔ اے کاش !! تعلیم کی مالا جپنے والے اور تعلیمی پالیسی نافذ کرنے والے ’ کیمپس ڈاٹ پی کے ‘ کو سامنے رکھتے ہوئے شہریوں کے بچوں کو بھی آگے بڑھنے کا موقع مہیا کریں تا کہ ” تعلیم سب کے لئے“ ثا بت ہو جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں