Notice: Undefined index: geoplugin_countryName in /home/pakistantimes/public_html/wp-content/themes/upaper/functions.php on line 341
پامالیِ دستور 119

جنگ بندی قرارداد ویٹو

امریکہ نے ایک مرتبہ پھر اسرائیل اور حماس کے درمیان ہونے والی جنگ بندی کی قرارداد ویٹو کا استعمال کرتے ہوئے ناکام بنا دیا ہے۔ اس دفعہ امریکہ کی جانب سے یہ موقف اختیار کیا گیا ہے کہ اس قرارداد میں وہ تمام اہم شقیں غائب ہیںجس پر امریکی حکومت کو اصرار ہے۔ جس میں سب سے پہلے تو حماس کے 7 اکتوبر کے حملے کی مذمت، حماس کو غیر مسلح کرنے کی شرط اور غزہ سے اس کے انخلاءکی تجویز شامل ہے۔ اس قرارداد پر سلامتی کونسل کے 15 میں سے 14 ارکان نے حمایت کا اعلان سوائے امریکہ کے۔ یہ قرارداد سلامتی کونسل کے ان 20 ارکان کی جانب سے پیش کی گئی جو سلامتی کونسل کے غیر مستقل ارکان ہیں اور 2 سال کی مدت کے لئے سلامتی کونسل میں شریک کئے گئے ہیں۔
امریکہ کے اس عمل نے امریکی نئی حکومت کے ان تمام دعوﺅں کی تردید کردی ہے جو امریکی حکومت اپنی امن پسندی کی تشہیر کے لئے استعمال کررہی ہے۔ خود صدر ٹرمپ اپنی انتخابی مہم کے وقت سے یہ اعلان کرتے آرہے ہیں کہ وہ جنگوں پر یقین نہیں رکھتے۔ اس لئے وہ ان تمام ممالک سے رابطے میں آنا چاہتے ہیں جن سے کسی نہ کسی طور پر امریکہ کے تنازعات چل رہے ہیں، نہ صرف امریکہ سے بلکہ وہ تمام دیگر ممالک بھی جو آپس میں نبردآزما ہونے کے عمل میں ملوث ہیں۔
حالیہ پاک بھارت کے درمیان جنگ بندی میں امریکہ نے ثالثی کا کردار ادا کیا اور دونوں فریقوں کو تنبیہہ کے ساتھ جنگ بندی پر رضا مند کیا کہ اگر ایسا نہ کیا گیا تو امریکہ ان دونوں ممالک کے ساتھ اپنے تجارتی تعلقات پر نظرثانی کا مجاز ہے۔
اس جنگ بندی کے بعد بھارت اور پاکستان دونوں نے اس جنگ کی بابت اپنا اپنا موقف عالمی سطح پر اجاگر کرنے کے لئے سفارتی رابطوں کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے اپنے نمائندہ وفود کو مغربی ممالک اور امریکہ روانہ کیا تاکہ عالمی طور پر حمایت حاصل کی جا سکے۔ پاکستان اور ہندوستان دونوں نے اس جنگ میں ایک دوسرے سے مختلف بیانیہ اپنایا اور جنگ بندی کے بعد بھی ایک دوسرے کے برعکس ردعمل کا اظہار کیا۔ بھارت کو یقینی طور پر اس وقت جارحیت کی مثال کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ جس نے نہ صرف پاکستان پر حملے میں پہل کی بلکہ طاس آبی معاہدہ کی منسوخی کا اعلان کیا۔ اس کے علاوہ اسے کشمیر میں انسانی حقوق کی شدید پامالی پر اعتراضات کا سامنا بھی ہے۔ پاکستان نے اس موقع سے فائدہ اٹھانے کی بھرپور کوشش کرتے ہوئے کشمیر کے مسئلہ کو ایک دفعہ پھر شدومد سے عالمی فورم کے سامنے رکھ دیا ہے۔ اس کے علاوہ بھارت کی جانب سے پاکستان کے اندرونی معاملات میں دہشت گردی کے ذریعے دخل اندازی کی تفاصیل سے آگاہ کرنے کا کام انجام دینے کا رویہ اختیار کیا ہے۔
اس تمام سلسلے میں دونوں فریقین کو کس حد تک کامیابی حاصل ہوئی ہے اس کا اندازہ آنے والے کچھ وقت میں ہو جائے گا۔ پاکستان کے اندر عدم استحکام اور بنیادی انسانی حقوق کی پامالی کی کہانیاں مغربی ذرائع ابلاغ کے علاوہ وہاں کی حکومتوں کے علم میں بھی ہیں۔ پاکستان اور ہندوستان کی طرف تمام الزامات اور بیانات کا تجزیہ بھرپور طور پر کیا جائے گا۔ 2019ءمیں ہندوستان کی طرف کشمیریوں پر جو پابندیاں عائد کی گئیں ان کا ادراک مغربی ممالک کو ہے۔
مودی حکومت اس وقت انتخابات کے مراحل سے گزر رہی ہے۔ ہندوستان میں عرصہ دراز ہی سے ایسے وقت میں زبوں حال داخلی معاملات سے توجہ دوسری طرف مبذول کرانے کی حکمت عملی استعمال ہوتی رہی ہے مگر اس دفعہ اس طرز عمل نے بی جے پی کی حکومت کو انتہائی شدید دھچکا پہنچایا ہے۔ نہ صرف اندرونی طور پر بھی ہندوستان کو ایک ایسے حریف کے طور پر دیکھا جارہا ہے جس کی کارروائیوں کی وجہ سے جنوبی ایشیا کے خطے میں امن کی حالت مخدوش ہونے کے امکانات ہیں اور پورا خطہ اس تنازعہ کا شکار ہو سکتا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ پاکستان اور بھارت دونوں ہی جوہری توانائیوں کے حامل ہیں اور تنازعات کو اس قدر طول دینا کہ حالات ان توانائیوں کے ملوث ہونے پہنچے سے دونوں ہی فریق یقینی طور پر احتراز کریں گے لیکن اگر ان جھڑپوں کا سلسلہ جاری رہا تو کسی نہ کسی طور اس خطے کی سلامتی میں رخنہ کا اندیشہ جاری رہے گا۔
پاکستان کی جانب سے جو سفارتی وفد مختلف ممالک کے دورے کررہا ہے اور وہاں کے حکومتی ارکان اور تھنک ٹینک کے ارکان سے ملاقات کررہا ہے اس کی سربراہ بلاول بھٹو کی جانب سے یہ تجویز کہ ہندوستان کی ایجنسی ”را“ اور پاکستان کی ”آئی ایس آئی“ کے نمائندوں کو مل بیٹھ کر آپس کی دہشت گردی سے متعلق سنجیدہ گفت و شنید کا آغاز کرنا چاہئے تاکہ ایک مشترکہ حکمت عملی تیار کی جا سکے۔ ایک مثبت رائے ہے۔ اس سے قبل بھی 1987ءمیں ضیاءالحق کی حکومت کے دوران اس قسم کی تجویز سامنے آئی تھی۔ پاکستان نے ہمیشہ ہی اپنے ہمسایوں خاص کر بھارت سے تمام اختلافات کے باوجود دوستانہ رویہ رکھنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ کرکٹ ڈپلومیسی سے لے کر فلمی اور ادب و ثقافت کے شعبوں میں مفاہمت کے راستے کھولے ہیں۔ نیپال میں ایک علاقائی سربراہی اجلاس کے درمیان اس وقت کے صدر پرویز مشرف کا اپنی تقریر کے بعد بڑھ کر اس وقت کے ہندوستانی وزیر اعظم واجپائی کی طرف مصافحہ کے لئے ہاتھ بڑھانے کا واقعہ نہ صرف ذرائع ابلاغ میں عالمی طور پر شہ سرخیوں کے ساتھ دیکھایا گیا بلکہ اس نے کئی نرم رویوں کی طرف راہیں کھولیں۔ پاکستان نے اس وقت پہلگام کے واقعہ کے سلسلے میں بھی ہندوستان سے ایک مکمل آزادانہ تحقیقات کمیشن بنانے کے مطالبے پر زور دیا اور تمام تر معاونت کی پیش کش کی مگر بھارت نے بلا کسی جواز اور ثبوت کے جارحیت کا آغاز کیا۔ دونوں ممالک اس وقت عالمی اداروں اور ممالک سے حمایت کا مطالبہ اور توقع کررہا ہے مگر وقت کا تقاضا اور تمام خطے کی ضرورت یہ ہی ہے کہ معاملات بردباری اور تمام خطرات کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلے باہم طور پر کئے جائیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں