Notice: Undefined index: geoplugin_countryName in /home/pakistantimes/public_html/wp-content/themes/upaper/functions.php on line 341
بال جسٹس فائز عیسیٰ کے کورٹ میں 266

سپریم کورٹ کے گلے میں ہڈی

یوں محسوس ہو رہا ہے کہ عدلیہ بند گلی میں داخل ہو چکی ہے یا یوں کہئے کہ موجودہ حالات نے اسٹیبلشمنٹ کے گرد گھیرا تنگ کردیا ہے۔ عمران خان نے جو کہا تھا سچ کر دکھایا کہ اگر مجھے حکومت سے نکالا تو مزید خطرناک ہو جاﺅں گا اور وہ آج نہایت خطرناک ہو چکے ہیں جس کے نتیجہ میں پاکستان کی سیاست کا منظرنامہ بھی خطرناک موڑ پر آچکا ہے۔ سپریم کورٹ کے ماضی میں کئے گئے فیصلہ ہی سپریم کورٹ کے لئے مشکل کا باعث بن چکے ہیں۔ اعلیٰ عدلیہ کا رات کو کھلنا بھی ان کے لئے عذاب جان بن چکا ہے اور یوں محسوس ہو رہا ہے کہ عدلیہ سخت دباﺅ میں آچکی ہے۔ ایک جانب سے کبھی وہ عمران خان گروپ اور کبھی اپوزیشن کے نشانہ پر ہے تو دوسری جانب نیوٹرل بھی نام کے ہی نیوٹرل ہیں۔ وہ پس پردہ اپنی چالیں آج بھی چل رہے ہیں اور اعلیٰ عدلیہ کے پیچھے کھڑے ڈوریاں ہلا رہے ہیں۔ یوں ملک انارکی کا شکار ہو چکا ہے۔ عوام میں غصہ روز بروز بڑھ رہا ہے۔ عمران خان جانتے ہیں کہ فوری الیکشن کا انعقاد ہی انہیں بھاری اکثریت سے کامیابی دلوانے کا ضامن ہے جب کہ اپوزیشن الیکشن کو طول دینا چاہتی ہے۔ بعض حلقوں کے خیال میں پی ٹی آئی کے حق میں فیصلہ دے کر سپریم کورٹ نے اپنی گرتی ساکھ کو بچایا ہے جب کہ آئندہ الیکشن کے نتائج شاید پی ٹی آئی کی سوچ کے برعکس ہوں لیکن پاکستان کی موجودہ صورت حال میں کچھ بھی کہنا یا لکھنا قبل از وقت ہو گا کیونکہ کوئی نہیں جانتا کہ عوام کا سمندر کب نکل پڑے اور پاکستان میدان جنگ بن جائے۔ امریکی ڈالر قابو سے باہر ہو چکا ہے اور آئی ایم ایف کی شرائط سخت ترین، پی ٹی آئی کی جیت کی خوشیاں تو منا رہی ہے مگر کہنے والے کہتے ہیں کہ ”آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا“۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں