اسلام آباد( نیوز ڈیسک ) وزیر اعظم شہباز شریف نے پاکستان اور کویت کے سیاسی تعلقات کو سرمایہ کاری، تجارت اور معاشی تعاون میں تبدیل کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان دہائیوں پر محیط برادرانہ تعلقات ہیں اور وہ ترقی و خوشحالی کے مشترکہ اہداف کو عملی شکل دینے کے لئے پر عزم ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو رقمی اسلامک بینک کو ڈیجیٹل بینکنگ کے لئے لائسنس کے اجراءکی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیر اعظم نے لائسنس کے اجراء پر رقمی بورڈ کے چیئر مین اور متعلقہ حکام کو مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ رقمی اسلامک بینک کو ڈیجیٹل بینکنگ کے لئے لائسنس کا اجراءپاکستان کویت تعلقات کے لئے نہایت اہم ہے جس سے پاکستان میں بینکاری کے شعبے کو فروغ ملے گا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ سیاسی تعلقات کو معاشی تعاون میں تبدیل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے، پاکستان اور کویت کے تعلقات کو سرمایہ کاری ،تجارت اور معاشی تعاون میں ڈھالنا چاہتے ہیں اور اقتصادی شراکت داری کے فروغ کے لئے کویتی قیادت کے ساتھ مل کر آگے بڑھنے کے لئے پر عزم ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ دونوں ممالک ترقی اور خوشحالی کے مشترکہ اہداف کے حصول کے لئے یکساں عزم رکھتے ہیں۔ علاوہ ازیں وزیر اعظم سے انڈونیشیا کے وزیر برائے سرمایہ کاری و ڈاو¿ن سٹریم انڈسٹری روسن روکیسلانی کی سربراہی میں 5 رکنی وفد نے ملاقات کی۔ وزیر اعظم نے کہا پاکستان اور انڈونیشیا کے درمیان دہائیوں پر مبنی برادرانہ تعلقات ہیں جو وقت کے ساتھ مزید مضبوط ہورہے ہیں۔ انہوں نے انڈونیشیا کے صدر پر ابو و وسو بیانتو کے لئے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پرابوو وسو بیانتو کا گزشتہ سال پاکستان کا دورہ دونوں ممالک کے دو طرفہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے حوالے سے انتہائی مفید اور نتیجہ خیز رہا۔ وزیر اعظم نے عالمی اقتصادی فورم کے 58 ویں اجلاس کے دوران انڈونیشیائی صدر کے ساتھ ہونے والی اپنی ملاقات کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ پاکستان انڈونیشیا کے ساتھ معاشی تعلقات کو مزید بہتر بنانے کا خواہاں ہے ، ساورن ویلتھ فنڈ کے ماڈل کے حوالے سے انڈونیشیا کے تجربے سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔ دونوں ممالک نے 2027 تک ترجیحی تجارتی معاہدے کو جامع اقتصادی شراکت داری معاہدے (سی ای پی اے) میں بدلنے کے لئے کوششیں تیز کرنے پر اتفاق کیا۔
6













