Notice: Undefined index: geoplugin_countryName in /home/pakistantimes/public_html/wp-content/themes/upaper/functions.php on line 341
پاکستانی حکمران اور جادو ٹونا 320

شہنشاہ نواز اور شہزادہ عمران

پاکستان ایک ایسی عمارت ہے جس کے باہر ایک بورڈ لگا رہتا ہے کہ یہ عمارت ابھی زیر تعمیر ہے۔ 75 سال سے جاری یہ تعمیراتی شاہکار متعدد پراجیکٹس اور پراجیکٹ مینیجرز دیکھ چکا ہے۔
آخری پراجیکٹ شہزادہ عمران تھا جو بری طرح پٹ گیا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ کس طرح ناکام ہوا؟
ٹھیکیدار جب بھی کسی پر کام شروع کرتا ہے تو وہ اپنی انجینئیرنگ اور ڈیزائن کی شرائط بارے مطلوبہ سیلیکڈ کو ابتدا میں ہی آگاہ کردیتا ہے۔ گڑ بڑ وہاں سے شروع ہوتی ہے جب شہزادہ سلیم اپنے آپ کو انجینئیر سمجھنا شروع کردیتا ہے۔
محبوب اور حبیب کے درمیان یہیں سے نفاق پڑنا شروع ہوجاتا ہے اور یوں سلطنتِ عمرانیہ کا چراغ گل ہونے لگتا ہے۔ اسی طرح کی ایک اور داستانِ شہنشاہ نواز اور مشرف کی بھی بتائی جاتی ہے۔
راوی چین ہی چین لکھتاتھا۔ موٹر ویز تعمیر ہورہی تھیں۔ جی ڈی پی اپنی اڑان بھر رہی تھی۔ یکایک ہوا میں معلق سپہ سالار نے فضائی کمیونیکیشن استعمال کرکے گراو¿نڈ پر موجود تخت لاہور کی سلطنت کو منٹوں میں پلٹ ڈالا تھا۔
ایک اور بادشاہِ وقت نے درباریوں سے خطاب کے دوران اینٹ سے اینٹ بجا دینے کا طبل بجا دیا تھا۔ پھر اس کے بعد جو کچھ سائیں کے ساتھ ہوا وہ کچھ ڈھکی چھپی بات نہیں۔
اگلے برس 2024ء میں انتخابات ہونے کا اعلان کردیا گیا ہے۔ سیاسی جلسے جلوس کی بہار ہوگی۔ نعرے لگیں گے۔ ترانے گونجیں گے۔ پرچم لہرائیں گے اور پھر ایک سہانی صبح عوام قطار در قطار لگ کر اپنی سیاسی جماعت کی انتخابی نشان پر ٹھپا لگا کر اپنے جمہوری حق کا استعمال کریں گے اور اپنے مستقبل کے لیڈر کو چنیں گے۔
ایسا صرف وہ سمجھتے ہیں اس لئے انہیں سمجھنے دیں۔ شام کو ریڈیو اور ٹی پر غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کا اعلان شروع ہوجائے گا۔ اور پھر نتیجہ نکلے گا کوئی ہنسے گا کوئی روئے گا۔
اصل حتمی اور مکمل سرکاری نتائج کا اعلان 12 اکتوبر 2023ءکو ہوچکا تھا۔ ملک میں چونکہ گنے چنے ہی سیاسی مزدور میسر ہیں اس لئے اس بار عمارت کی تعمیر کے لئے ٹھیکیدار نے شہنشاہ نواز کی کمپنی کو ایک چانس اور دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
شہنشاہ نواز کو ماضی میں دئے گئے ٹھیکوں سے ایک بات تو ثابت شدہ ہے کہ وہ نہ صرف کام پائیدار کرتا ہے بلکہ تمام اسٹیک ہولڈرز کی پیمنٹ بھی باقائدگی سے ادا کرتا ہے۔ شہزادہ عمران اصل میں یہاں مار کھا گیاتھا۔ اسی وجہ سے بیچوں بیچ اس کا کانٹریکٹ منسوخ کرنا پڑ گیا۔
اس دوران پراجیکٹ کی پرانی والی باجوہ کنسٹرکشن بند ہوگئی اور ماضی میں ٹھیکوں میں کی گئی گھپلے بازیاں اب پکڑی گئیں۔ سنا ہے کہ نیا مینیجر بہت کڑک بندہ اور اصول پرست ہے ساتھ میں وہ عمارت کی خستہ حالی کو لے کر بہت سنجیدہ ہے اس لئے ہم جیسے کالم نگار ”پیوستہ رہ شجر سے ا±میدِ بہار رکھ“ اونچی آواز میں ورد کی طرح پڑھ رہے ہیں۔
یاد رہے کہ نواز کنسٹرکشن جسکا وسیع تعمیراتی تجربہ ہے اسے بھی سنا ہے مکمل چھوٹ نہیں دی جائے گی۔ نئے والے صاحب بڑے ڈاڈے ہیں اس لئے ہوشیار باش۔
اب ماضی کے جیسے دوبارہ نئے محلات کی تعمیر نہ ہوپائے گی۔ اب تو صرف پچھہتر سال قبل شروع کئے گئے جناح صاحب والے پاکستان کی عمارت کو تعمیر کرنا ہے
ادھر انارکلی کی طرح دیوار میں چنوایا ہوا شہزادہ عمران کسی فیض کے آسرے پہ 9 مئی والا بھنڈ نہ کرتا اور آج کل اس کا نئے مینجر منیر سے آمنا سامنا ہو جاتا تو سامنے سے کچھ یوں کہا جاتا کہ۔
مدت کے بعد آج اسے دیکھ کر منیر
اک بار دل تو دھڑکا مگر پھر سنبھل گیا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں