Notice: Undefined index: geoplugin_countryName in /home/pakistantimes/public_html/wp-content/themes/upaper/functions.php on line 341
عام آدمی کو بھی ایوارڈ، ایک اچھی مثال 6

عام آدمی کو بھی ایوارڈ، ایک اچھی مثال

ہمارے ملک کے سیاست دان، دانشور، تجزیہ نگار، اہلِ قلم اور علمائے کرام الیکٹرانک، پرنٹ اور سوشل میڈیا پر اپنے خیالات پیش کرتے نظر آتے ہیں جن کا محور عام آدمی ہوتا ہے۔ پھرانتخابات کے زمانے میں کونسلر، ضلعی، صوبائی اور قومی اسمبلی کے امیدوار عام آدمی سے ووٹ ”مانگتے“ ہیں۔ جب ان میں سے بعض اہم سرکاری عہدوں پر بیٹھتے یا حکومتوں میں وزیر بنتے ہیں تو اس وقت ”عام آدمی“ ان کی ترجیہات سے یوں کٹتا ہے جیسے کٹی پتنگ۔
پاکستان میں سرکاری طور پر پاکستانیوں کو ان کی خدمات کے صلے میں سول اعزازات دیے جاتے ہیں (عام آدمی کو نہیں)۔ سب سے بڑا سول اعزاز صدارتی تمغہ حسنِ کارکردگی، فنون، ادب، سائنس، کھیل او ر نرسنگ پر دیا جاتا ہے۔ افسوس کہ پچھلے کئی ایک ایوارڈوں بشمول صدارتی تمغہ حسنِ کارکردگی میں میرٹ اور شفافیت کی کمی پرعوامی حلقوں نے مایوسی کا اظہار کیا۔ ایوارڈوں کی
شفافیت اور معیار پر ماضی بعید اور قریب میں انگلیاں اٹھتی رہی ہیں۔ آزاد مبصرین نے نوٹ کیا کہ ایوارڈ اکثر سیاسی تحفظات کی بنیاد پر دیے یا روکے جاتے ہیں۔
ہمارے ہاں عام دوٹر جو نا ڈاکٹر ہے، نا سائنس دان، نا فنونِ لطیفہ اور کھیلوں کی دنیا کا ہے۔ اس سے تو ہمیشہ ”ووٹ“ ہی مانگا گیا جس کے بدلے میں کچھ بھی نہیں دیا گیا۔کیا کبھی کسی بے نام سے عام آدمی کو پاکستان میں مسلسل اپنے ہی روزگار کے حصول میں 50 سال محنت کرنے پر حکومتِ پاکستان نے کوئی اعزاز عطا کیا؟ کبھی نہیں۔ لیکن ایسا فرانس میں ہو گیا۔
پیرس میں مقیم ایک 74 سالہ پاکستانی نڑاد اخبار کے ہاکر، علی اکبر نے آرڈر نیشنل د±و میریٹ یا قومی میرٹ کا آرڈر، فرانس کا ایک اعلیٰ اعزاز شیولیئر (Knight) حاصل کیا۔ علی اکبرصاحب نے 1973 میں اخبارات بیچنا شروع کیے۔وہ بغیر کسی نیوز اسٹینڈ کے گلی کوچوں میں اخبارات فروخت کرتے اور گھروں دفاتر میں بھی پہنچاتے رہے۔ جدید دور میں آن لائن خبروں کی آمد کی وجہ سے اس پیشے کو دنیا بھر میں نمایاں زوال کا سامنا کرنا پڑا۔ ہمارے ہاں بھی اخبارات کی اشاعت گھٹ گئی ہے لیکن اس کے باوجود آج بھی پاکستان میں گھروں، دفاتر، ہئر کٹنگ سیلونوں میں ہاکر اخبارات دیتے ہیں۔
کہا جا رہا ہے کہ علی اکبر شاید فرانس میں اخبار کے آخری ہاکر ہیں۔ فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے علی اکبر صاحب کو پیرس میں 50 سال سے زائد عرصہ اخبار فروخت کرنے اور ان کی ثقافتی خدمات پراس اعزاز سے نوازا۔حیرت اور خوشی اس بات پر نہیں کہ ایک پاکستانی کو فرانس کا اعلیٰ اعزاز حاصل ہوا کیوں کہ یہ تو پہلے بھی پاکستانیوں کو مل چکا ہے۔اصل خوشی اس بات کی ہے کہ ذرائع کے مطابق یہ عام آدمی کو ملنے والا پہلا اعلیٰ سرکاری اعزاز ہے جو کسی بھی ملک میں کسی کو بھی حاصل ہوا۔ ابھی حال ہی میں لاہور کے ممتاز تاجر حسن شوکت کو بھی اس اعزاز سے نوازا گیا۔یہ الائنس فرانسیسی لاہورکے 2015 سے 2024 تک صدر رہ چکے ہیں۔اس سے پہلے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی سابق چیئرپرسن ماروی میمن کو بھی جولائی 2017 میں فرانسیسی حکومت کی جانب سے یہ اعزاز دیا گیا تھا۔
پوری دنیا میں جہاں جہاں جمہوریت کا راگ الاپا جاتا ہے۔ایک بے نام شخص جسے نام نہاد جمہوریت کی اکائی مانا جاتا ہے اور جمہور کے نغموں میں اسے عام آدمی کا نام دیا جاتا ہے وہ اسی جمہوریت میں صفر درجہ رکھتا ہے بلکہ ” منفی صفر“۔ کیوں کہ نا تو وہ ڈاکٹر ہے، نا تاجر، نا صنعت کار اور آجر، وہ تو غریب ریڑھی بان، مزدور، کسان، بے بس بے سرو سامان طالبِ علم، یا بقول سیاست دان عام آدمی ہے۔جس کا کام محض انہیں ووٹ اور خون پسینہ دینا ہے۔ اس سے تو ہمیشہ لیا جاتا ہے دیا نہیں جاتا۔ خود فرانس میں بھی شاید یہ اپنی نوعیت کی پہلی مثال ہی ہو۔
علی اکبر راولپنڈی، پاکستان میں میں پیدا ہوئے۔ 12 سال کی عمر میں اسکول چھوڑنے کے بعد انہوں نے اپنے طور پر پڑھا۔ 18 سال کی عمر میں پاکستان سے یورپ نقلِ مکانی کرکے ایتھنز پہنچے۔پانی کے جہاز پر کام کیا۔ 1960 کی دہائی میں ایمسٹرڈیم چلے گئے جہاں انہوں نے کروز لائنر پر کام کرنا شروع کیا۔ان کا جہاز 1972 میں ڈوب گیا جس کی وجہ سے وہ پیرس آ گئے۔ انہوں نے 1973 سے ہی پیرس میں اخبارات بیچنا شروع کر دیے تھے۔ اس کی شروعات سوربون یونیورسٹی اور دیگر قریبی اداروں کے طلبائ کو اخبار فروخت کرنے سے ہوئی۔ نیوز ٹیلی ویڑن کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کی وجہ اور آن لائن خبروں کے آنے سے اخبارکی فروخت میں کمی ہو گئی۔ پیرس کے ذرائع کے مطابق جب اکبر صاحب نے اخبار بیچنا شروع کیا تب پیرس میں تقریباً 40 ہاکر تھے، لیکن اب تو غالباً پورے فرانس میں علی اکبر واحد اور آخری ہاکر ہیں۔وہ خود کہتے ہیں کہ جب انہوں نے اخبار بیچنے کا آغاز کیا تب وہ اندازاً 300 اخبار روزانہ فروخت کرتے تھے۔ لیکن 2025 تک پہ تعداد 40 رہ گئی ہے۔
اکبرصاحب کو مقامی لوگ پیرس کی ثقافت کا اہم حصہ سمجھتے ہیں۔ مزے کی بات یہ ہے کہ فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون خود بھی اپنے زمانہ طالبَ علمی میں علی اکبر صاحب سے اخبار لیتے تھے۔ گو کہ انہیں ابھی تک فرانس کی شہریت نہیں ملی ہے لیکن یہ ایوارڈ ملنا ان کی فرانسیسی شہریت ملنے میں مدد دے گا۔ان کا کہنا ہے کہ جب تک دم میں دم ہے وہ ان شائ اللہ اخبار بیچتے رہیں گے۔ علی اکبر صاحب نے ساری عمر ہلال روزی کی بھاگ دوڑ میں گزاری۔نا کوٹھی کی فکر کی، نا اسلام آباد میں فارم ہاو¿س خرئدنے کی خواہش کی نا ہی پیرس میں کوئی عالی شان پینٹ ہاو¿س کی تمنا کی۔ اطمینان سے سادا زندگی گزاری۔یہی تو عام آدمی کرتا ہے۔چلیں علی اکبر صاحب کی 50 سالہ جدو جہد نے رنگ دکھایا اور انہونی ہو گئی۔اے کاش کہ ہماری وفاقی، صوبائی اور ضلعی حکومتوں کو بھی کوئی علی اکبر نظر آ جائے۔ عام آدمی کی پاکستان میں کیا اوقات ہے، حبیب جالب سے سنئے:
اس درد کی دنیا سے گزر کیوں نہیں جاتے
یہ لوگ بھی کیا لوگ ہیں مر کیوں نہیں جاتے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں