Notice: Undefined index: geoplugin_countryName in /home/pakistantimes/public_html/wp-content/themes/upaper/functions.php on line 341
عمران خان توجہ فرمائیے! 204

عمران خان توجہ فرمائیے!

پچھلے چودہ پندرہ ماہ میں جس طرح پی ڈی ایم اور پیپلزپارٹی نے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مل کر وطن عزیز کا بیڑہ غرق کیا ہے اس کی مثال نہیں ملتی اور اس پر فوجی قیادت کی پشت پناہی اور براہ راست مداخلت کے ساتھ جس طرح آپ کو اور پی ٹی آئی کے لیڈروں اور کارکنوں کو نشان عبرت بنایا گیا ہے وہ بھی قابل شرم ہے۔ جس طرح آپ کی پارٹی کو توڑا گیا ہے وہ ناقابل معافی ہے۔ وردی والے گدھوں نے طاقت کے نشے میں پچاس ساٹھ سالہ تاریخ کو دہرایا ہے کہ جس طرح انہوں نے پاکستان کے سیاست دانوں اور اداروں کو مفلوج کئے رکھا اور حکومتوں کو ریموٹ کنٹرول سے چلاتے رہے۔
عمران خان نے ان سب کو ننگا کردیا ہے اب بھی یہ لوگ بے شرمی سے باز نہیں آرہے اور ہر روز کوئی نہ کوئی نیا ڈرامہ رچا رہے ہیں۔ خان صاحب اب جب کہ انتخابات کا وقت قریب آ رہا ہے اور ان کی خواہش ہے کہ آپ پابند سلاسل ہوں اور آپ کی پارٹی بے توقیر ہو لیکن عزت اور ذلت اللہ کے ہاتھ میں ہے وہ ان بے ضمیر سیاستدانوں اور جرنیلوں کو مسلسل شکست دے رہا ہے ان کی عقل نے کام کرنا بند کردیا ہے ان کو اب سمجھ نہیں آرہی ہے کہ کریں تو کیا کریں۔
اللہ آپ کو سرخرو کرتا جائے گا جس طرح ابھی 9 مئی کے ایک کیس میں ایڈیشنل سیشن جج اسلام آباد نے آپ کی ضمانتیں کنفرم کی ہیں اور جو فیصلہ لکھا ہے وہ ان کے لئے موت کا پروانہ ثابت ہوگا۔ یہ فیصلہ ہر چھوٹی بڑی عدالت میں نذیر کے لئے پیش کیا جائے گا۔
آئیے اب اصل مدعا کی طرف! آنے والے انتخابات میں آپ کے لئے ایک مشورہ ہے اگر آپ اس پر پانچ فیصد بھی عمل کریں گے تو پی ڈی ایم کے منہ پر اتنا بڑا جوتا لگے گا کہ یہ شکل دکھانے کے قابل نہیں رہیں گے۔ مشورہ یہ ہے کہ پی ڈی ایم، پیپلزپارٹی اور پی ٹی آئی چھوڑ کر جانے والے لوگوں کے مقابلے میں آئندہ انتخابات میں صرف پانچ فیصد ایسے لوگوں کو ٹکٹ دیں کہ تاریخ رقم ہو جائے مثلاً مولانا فضل الرحمن کے مقابلے میں وہاں کسی عام خاتون ورکر کو ٹکٹ دیں، بلاول بھٹو کے مقابلے میں کسی کھسرے (ہیجڑ) کو ٹکٹ دیں۔ مریم نواز کے مقابلے میں کسی ایکٹریس یا طوائف کو ٹکٹ دیں۔ شہباز شریف کے مقابلے میں کسی میراثی کو ٹکٹ دیں، آصف زرداری کے مقابلے میں کسی ماڈل کو ٹکٹ دیں۔ اسی طرح پرویز خٹک کے مقابلے میں کسی ”کمّی“ یعنی غریب ترین شخص کو ٹکٹ دیں۔ علی زیدی اور عمران اسماعیل کے مقابلے میں کسی ریڑھی والے کو ٹکٹ دیں۔ علیم خان اور جہانگیر ترین کے مقابلے میں کسی پراپرٹی ایجنٹ کو ٹکٹ دیں۔ رانا ثنا کے مقابلے میں کسی مزاحیہ فنکار کو ٹکٹ دیں، خواجہ آصف (رنگباز) کے مقابلے میں کسی زنانے یعنی کھسرے کو کھڑا کریں۔ اسی طرح قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلی کی کل نشستوں کا پانچ فیصد اسی قبیح کے لوگوں کے لئے ایسے افراد کو ٹکٹ دیں اور آپ کا امیدوار جیتے گا یہ چُل بھر پانی میں ڈوب مریں گے۔
آپ یقین کریں جن افراد کا میں نے تذکرہ کیا ہے ان میں بھی آپ کو پڑھے لکھے لوگ مل جائیں گے یہ الیکشن ایسے ہی ہوں گے کہ آپ اگر کسی کھمبے کو بھی ٹکٹ دیں گے تو وہ بھی جیت جائے گا۔ تو پھر کیوں نہ ایسا تجربہ کیا جائے کہ ان لوگوں نے آپ سے جو انتقام لیا ہے اس کا جواب جمہوری انداز میں دیا جائے۔ یہ دنیا میں اپنی مثال آپ ہوگا۔ اس آئیڈیا کو دنیا بھر میں پذیرائی ملے گی۔
اسی طرح آپ کی حمایت کرنے والے سوشل میڈیا کے لوگوں میں سے بھی کچھ لوگوں کو نمائندگی دی جائے، مین اسٹریم میڈیا کی بندش کے بعد سوشل میڈیا نے ہی آپ کا پیغام گھر گھر پہنچایا ہے، ان میں سے ایسے لڑکے اور لڑکیوں کو ٹکٹ دیئے جائیں جو ان کے بڑے بڑے لیڈروں کے مقابلے میں کھڑے کئے جائیں۔ یہ ان کی ضمانتیں ضبط کروا دیں گے۔
اسی طرح 9 مئی کے واقعات میں پابند سلاسل خواتین کو پی ڈی ایم اور پیپلزپارٹی کی نامور خواتین کے سامنے کھڑا کیا جائے۔ جیسے مریم اورنگزیب (عرف ڈڈو چارجر)، فردوس عاشق اعوان، شیری رحمان، عظمی بخاری، حنا پرویز بٹ، فائزہ حمید، شائستہ پرویز ملک وغیرہ وغیرہ
اس تجویز کا لب لباب یہ ہے کہ پی ٹی آئی کی کور کمیٹی کو اس پر ورکنگ کرکے اپوزیشن جماعتوں کو گندہ کیا جا سکتا ہے اور ان کو ان کی اوقات بتائی جا سکتی ہے۔ یہ ان کے لئے کسی ڈراﺅنے خواب سے کم نہیں ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں