Notice: Undefined index: geoplugin_countryName in /home/pakistantimes/public_html/wp-content/themes/upaper/functions.php on line 341
عمران خان توجہ فرمائیے! 239

عمران خان کے لانگ مارچ کا کیا نتیجہ نکلے گا؟

جب سے امپورٹڈ حکومت پاکستان پر مسلط کی گئی ہے، ملک خداداد پاکستان میں ہر شعبہ کا بیڑہ غرق ہو گیا ہے، جس بیرونی سازش کے نتیجے میں عمران خان حکومت کو گھر بھیجا گیا اس کے منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ شاید اسپیشلسٹ کو اس چیز کا ادراک نہیں تھا کہ خان حکومت کو ہٹانے کے بعد ایک پتہ بھی نہیں ہلے گا۔ لوگ گھروں میں بیٹھے رہیں گے اور پچھلی حکومتوں کے خاتمے کے بعد جس طرح لوگوں نے مٹھائیاں تقسیم کیں اسی طرح عمران خان حکومت کے خاتمہ کے بعد بھی ایسا ہی ہوگا۔
مگر ہوا کیا کہ جونہی کپتان اپنی ڈائری لے کر وزیر اعظم ہاﺅس سے نکلا اور کچھ ہی لمحوں میں پاکستان بھر میں لوگوں نے بڑے پیمانے پر احتجاج شروع کردیا نہ صرف پاکستان میں بلکہ پوری دنیا میں جہاں جہاں بھی پاکستانی آباد ہیں وہاں وہاں احتجاج شروع ہو گئے اور حکومت کی تبدیلی کے بعد جس طرح پی ڈی ایم کے ان لوگوں کو مسلط کردیا گیا جو ضمانتوں پر تھے یا پھر سزا ہونے کے قریب تھے۔
میری نظر میں یہ دونوں محرکات عمران خان کی مقبولیت کا باعث بنے کہ آپ نے ایک چلتی ہوئی حکومت کو جو پارلیمنٹ کی سب سے بڑی جماعت تھی اس کو چلتا کیا اور جن کے متعلق اسٹیبلشمنٹ ہی عمران خان کو اور میڈیا کے لوگوں کو بتاتی تھی کہ ان لوگوں نے کس طرح چوری کی ہے اور کرپشن کا بازار گرم کیا ہوا تھا۔ جب اسی پر اسٹیبلشمنٹ کو ان کی حمایت کرتے دیکھا تو لوگ بپھر گئے۔
ہر دو صورتوں میں عمران خان کی مقبولیت بڑھتی چلی گئی۔ پچھلے چھ ماہ میں عمران خان نے پچاس سے زائد عوامی جلسوں، طلباءوکلاءاور تاجر تنظیموں سے خطاب کیا اور ایک بھرپور عوامی مہم چلائی، لوگوں کو اچھائی اور برائی کا فرق بتایا۔ ان چھ ماہ میں شہباز کی قیادت میں قائم کٹھ پتلی حکومت نے رانا ثنا اللہ جیسے قاتل کو ذمہ داری سونپی کہ کوئی بھی طریقہ استعمال کرو لیکن عمران خان سمیت پی ٹی آئی کی دیگر قیادت کو Fix کرو اور پھر جس طرح وزیرداخلہ نے عمران خان سمیت پی ٹی آئی کے راہنماﺅں کے خلاف مقدمات کی بھرمار کردی، اس کی نظیر نہیں ملتی۔ اس وقت خان پر 23 کے قریب ایف آئی آرز ہیں جس میں دہشت گردی سمیت غداری کے چارجز لگائے گئے ہیں۔
آئیے اب موجودہ لانگ مارچ کے متعلق کچھ بات کرتے ہیں۔ یہ لانگ مارچ پچھلے جمعہ کو لاہور کے لبرٹی چوک سے شروع ہو چکا ہے اور اس کا پچھلے دھرنے سے فرق یہ ہے کہ اس میں لانگ مارچ کرتے ہوئے خان اور ڈاکٹر طاہر القادری اسلام آباد کے ڈی چوک میں بیٹھ گئے تھے، طاہر القادری تو کچھ دنوں بعد اٹھ گئے مگر خان نے 126 دن کا دھرنا دیا اور پر سانحہ اے پی ایس پر دھرنا ختم کیا گیا۔ لیکن اب خان نے حکمت عملی تبدیل کی ہے کہ وہ چھوٹے چھوٹے پڑاﺅ ڈالتا ہوا اپنی منزل کی طرف گامزن ہے۔ شام کو لانگ مارچ ختم کردیا جاتا ہے اور پھر اگلے روز دوبارہ شروع کیا جاتا ہے۔ اس وقت یہ مارچ گوجرانوالہ کی جانب گامزن ہے۔
اس حکمت عملی کے پیچھے یہ امر کارفرما ہے کہ مقتدر حلقوں اور حکومت کو وقت دیا جائے کہ وہ خان کا مطالبہ مان لیں اور انتخابات کی تاریخ کا اعلان کردیں جو کہ بظاہر مشکل نظر آرہا ہے۔ اسلام آباد میں ابھی سے ہی ہزاروں کنٹینر جمع کرکے بند کردیا گیا ہے اور ہزاروں پولیس، ایف سی اور رینجرز کے اہلکار تعینات کردیئے گئے ہیں۔
وفاقی دارالحکومت اس وقت محصور ہو کر رہ گیا ہے۔ کپتان آہستہ آہستہ اسٹارٹ لیتا ہوا آرہا ہے اور اس نے وکٹو کے دونوں جانب سے حملہ آور ہونا ہے یعنی ایک طرف پنجاب سے اور دوسری طرف کے پی کے، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان سے اور یہ سب کچھ آئین اور قانون کے دائرہ میں رہ کر ہو گا مگر اتنے بڑے مجمع کو کنٹرول کرنا بہت مشکل ہو گا۔ کوئی بھی چھوٹی سے چھوٹی غلطی ملک میں بہت بڑی آگ بھڑکا سکتی ہے کیوں کہ اس وقت نوجوانوں کی بہت بڑی تعداد عمران خان پر جان قربان کرنے کو تیار بیٹھے ہیں اور مزیداری کی بات ہے کہ اس میں بزرگ، عورتیں اور بچے پیش پیش ہیں۔
اس خطرناک صورت حال کا ادراک اسٹیبلشمنٹ کو ہو گا اور جنرل باجوہ کی 25 نومبر کو ریٹائرمنٹ کے بعد کیا صورت حال پیدا ہوتی ہے اس کا نئے آرمی چیف کی تعیناتی پر انحصار ہے۔ میرا خیال ہے کہ جنرل باجوہ نے پی ڈی ایم کو جو این آر او۔2 دیا ہے اس کی آخری کڑی عمران خان اور پی ٹی آئی کو Fix کرنا رہ گئی ہے جو کہ اس سے نہیں ہو پائے گی اس میں اسے بڑی ناکامی کا سامنا ہے۔ باوجود ہزار کوششوں کے عمران خان کو گرفتار نہیں کیا جا سکا جب بھی یہ کوشش کی گئی پورے ملک میں لاکھوں لوگ سڑکوں پر نکل آئے اور حتیٰ کہ بنی گالا میں پولیس کو نہیں جانے دیا۔ یہ بہت بڑی ناکامی ہے۔
لانگ مارچ کا کیا نتیجہ نکلے گا یہ تو آنے والے دنوں میں پتہ چل جائے گا لیکن امپورٹڈ حکومت کو ہر حال میں جانا ہوگا اور صاف شفاف انتخابات کراکے حکومت منتخب نمائندوں کو سونپنا ہوگی۔ اسٹیبلشمنٹ سے کسی غلطی کی توقع نہیں ہے، ہوش کے ناخن لیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں