Notice: Undefined index: geoplugin_countryName in /home/pakistantimes/public_html/wp-content/themes/upaper/functions.php on line 341
ایران پر حملہ یا تیسری عالمی جنگ! 329

قوم پر ہارے ہوئے لوگوں کو مسلط کردیا گیا؟‎

پاکستان میں ادارے بمقابلہ عوام اور سیاسی حقیقی کا کھیل جاری اور ساری ہے۔ اس کھیل کے نتیجے میں اپنی ڈیزائن کردہ پارلیمنٹ کھڑی کردی گئی ہے اور اب اس پارلیمنٹ میں ایک شکست خوردہ پارٹی کے لیڈر کو ہاﺅس کا قائد ایوان یعنی وزیر اعظم بھی مقرر کردیا ہے اور اس طرح سے اب صدر مملکت کا بھی انتخاب عمل میں لایا جارہا ہے۔ ایک نا مکمل پارلیمنٹ سے اتنے بڑے بڑے فیصلے کروائے جارہے ہیں۔ پارلیمنٹ کے اس غیر قانونی کارروائیوں میں رکاوٹ بننے والے کانٹوں کو چیف الیکشن یا پھر عدالت عالیہ کے فیصلوں کے ذریعے ہٹایا جارہا ہے۔ دوسرے لفظوں میں بڑے ہی ڈھٹائی کے ساتھ بے شرمی کا کھیل اس وقت ملک کے طاقت ور حلقے کھیل رہے ہیں۔
کچھ شرم ہوتی ہے، کچھ حیا ہوتی ہے جس کا یہ طنزیہ جملہ جس پر کہا گیا تھا کس طرح سے قدرت کا انتقام ان کے سامنے آگیا اور سیالکوٹ کے عوام کے سامنے خواجہ آصف بالخصوص اور پورے پنجاب میں شریف برادران بالعموم پوری طرح سے بے نقاب ہوگئے کہ اب تو عام لوگوں نے ہی اپنے ساتھ روا رکھے جانے والے مظالم پر برملا یہ کہنا شروع کردیا ہے کہ ”کوئی شرم ہوتی ہے، کوئی حیاءہوتی ہے“ ہم پر ہارے ہوئے لوگوں کو مسلط کرنا انتہا اور بتا ظلم کی کیا ہوتی ہے؟ شرم ہوتی ہے کوئی چیز حیاءہوتی ہے، بتا بے ضمیروں کو خبر کیا ہے کہ کیا ہوتی ہے۔
پوچھ قیدی سے جو رہتا ہے اڈیالہ میں، تجھے بتلائے گا کہ کیا چیز وفا ہوتی ہے، یہ ہے پاکستان کے عام لوگوں کی صورتحال جو اپنے اس بدبودار نظام سے اکتا چکے ہیں، جہاں ظلم زیادتی اور نا انصافی کے سوا کچھ نہیں۔ پہلی بار ملکی عوام نے 8 فروری کے انتخابات میں اپنی نفرت کا کھلم کھلا اظہار کرلیا، وہی نفرت جس کے نتیجے میں پاکستان دولخت ہوا تھا۔ آج ایک بار پھر ان ہی قوتوں نے پاکستان کے محب الوطن عوام کے عزت نفس اور ان کے غیض و غضب کو للکارہ ہے، عوام کے شدید ترین نفرت کے بعد ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ اپنی غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے عوامی نفرت کو محبت میں تبدیل کرنے کی کوشش کی جاتی مگر بدقسمتی سے خود عقل قل سمجھنے والوں نے غلطی پر غلطی کرنے کا سلسلہ شروع کردیا ہے اور وہ اپنی بے وقوفی اور جاہلانہ پن کی وجہ سے عوامی نفرت میں اور اضافہ کرتے چلے جارہے ہیں یعنی وہ کام جسے ملک دشمنوں کو کرنا چاہئے وہ خود اپنے ملک کے اندر سے کیا جارہا ہے۔ اسے پاکستان اور پاکستانی عوام کے ساتھ کی جانے والی سازش نہ کہا جائے تو پھر اور کیا کہا جائے کیونکہ اس طرح سے کرکے پاکستان کی سلامتی سے ایک طرح سے کھلواڑ کیا جارہا ہے، اتنی نفرت تو پاکستانیوں میں سقوط ڈھاکہ کے وقت بھی نہیں تھی جتنی اس وقت پائی جاتی ہے۔
سوشل میڈیا بھرا پڑا ہے ہر کوئی اتنی بربریت اور ظلم و نا انصافی سہہ چکا ہے کہ ہر کوئی پھٹ پڑنے کو تیار ہے، ذرا ٹھنڈے دل و دماغ کے ساتھ ان تمام لوگوں کو سوچنا چاہئے جو براہ راست اس تمام تر صورتحال کا ذمہ دار ہیں کہ آخر ان لوگوں نے چند سالوں میں ایسا کیا کردیا کہ عقیدت کے پھول برسانے والے اب ہاتھوں میں سنگ لئے دکھائی دے رہے ہیں۔ آخر ایسا کیا کیا گیا کہ پاکستانی عوام 90 ڈگری کے زاویے سے تبدیل ہو گئے ان کی سوچ ان کے ان کے خیالات اور جذبات ویسے نہیں جیسے پہلے کبھی ہوا کرتے تھے۔ اپنی اصلاح کرنے سے نہ تو کسی کا قدم کم ہوتا ہے اور نہ ہی کوئی قدر و منزلت میں کوئی کمی آتی ہے، یہ ملک ہم سب کا ہے، ظلم کرنے والوں کا بھی اور ظلم سہنے والوں کا بھی۔۔۔ دنیا میں کبھی بھی ریاستیں اپنی عوام پر نہ تو چڑھائی کرسکی ہیں اور نہ ہی فتح یاب ہو چکی ہیں۔ ریاستیں عوام کے بل بوتے پر ہی پروان چڑھتی ہیں، اس لئے عوام کو ناراض اور اپنا دشمن بنانے سے دشمن کا کام تو آسان بنایا جا سکتا ہے، خود اپنا یا پھر ملک کا نہیں۔۔۔
اس لئے ملک کے وسیع تر مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے عوام کے زخموں پر مرہم رکھتے ہوئے ان کے جائز تحفظات کو دور کریں اور ان کا مینڈیٹ انہیں واپس کردیں وہ جسے چاہیں انہیں حکمران بنانے میں ان کی مدد کریں، اسی میں پاکستان کی بقائ، اس کی ترقی اور سلامتی مضمر ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں