پاکستان معاشی طور پر تو بدحال تھا ہی مگر اب تو اخلاقی طور پر بھی قلاش ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ سوشل میڈیا پر ہر روز آنے والی ایک نئی ویڈیو نے حکمرانوں کو بے لباس کرکے رکھ دیا ہے۔ نہ کسی کے شوہر یا بیوی کی عزت محفوظ ہے تو نہ ہی کسی کی ماں، بیٹی کی۔ نہ جانے یہ کون لوگ ہیں جو عرصہ دراز سے صرف اور صرف اسی کام میں مصروف رہے کہ لوگوں کے گھروں اور ذاتی زندگیوں میں گھس کر یہ گھٹیا کام کرتے رہے۔ یہاں کسی بھی پارٹی کو اس گندے عمل سے بری الذمہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ نہ ہی ہمارے سابقہ حکمرانوں کو کہ انہوں نے بھی اپنے وقتوں میں فرعونیت اور بربریت کی اعلیٰ مثالیں قائم کیں اور آج مکافات عمل کا شکار ہیں اور نہ ہی ریاست مدینہ کا نعرہ لگانے والے اس عمل سے خود کو محفوظ رکھ سکے کیونکہ ان کی حکومت کے دوران آنے والی ویڈیوز کو بھی دیکھ دیکھ کر خوشی منائی جاتی رہی اور ان پر یوں تنقید کے نشتر چبھوئے گئے کہ جیسے تاحیات حکومت میں وہی رہیں گے مگر وقت بدلا تو حالات بھی بدلے اور یوں ہر ذمہ دار شخص آج بے لباس قوم کے سامنے کھڑا نظر آتا ہے۔
کبھی کبھی یوں محسوس ہوتا ہے کہ ہمارے حکمرانوں نے آج تک جو کچھ عوام کے ساتھ کیا اور جس طرح غریب عوام کے منہ سے نوالہ چھینا اور جس طرح غریبوں کی بے حرمتی کی اور مذاق اڑایا، جس طرح انہیں اپنی لینڈ کروزر کے نیچے کچلا، اس تمام عمل اور گناہوں کا حساب دینے کا وقت آن پہنچا ہے۔ لگتا یہی ہے کہ اب پاکستان آئندہ چند ماہ میں یا تو معاذ اللہ مزید حادثوں سے دوچار ہو جائے گا یا پھر صحیح سمت کی جانب گامزن ہو جائے گا۔
موجودہ حالات کو دیکھیں تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ ملک کی اشرافیہ آج بھی نوشتہ دیوار پڑھنے سے قاصر دکھائی دیتی ہے اور ہماری فوج ہو یا عدلیہ، سیاست دان ہوں یا بیوروکریسی، خان وڈیرے ہوں یا میڈیا کوئی بھی خود احتسابی کے عمل سے گزرنے کے لئے تیار نہیں اور یہی وجہ ہے کہ ہر شخص ایک دوسرے کے کپڑے اتارنے میں لگا ہوا ہے اور سب ایک دوسرے کی بے عزتی پر شادیانے بجا رہے ہیں اور یوں قہر خداوندی کا شکار ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔
223











